تازہ تر ین

یوم آزادی ویکجہتی کشمیر

محمود مولوی……..تقدیر
یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ اس بار حکومت پاکستان نے اعلان کیاہے کہ 14اگست کو یوم آزادی اس بار مقبوضہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے دن کے طورپرمنایا جائے گا۔عمران خان کی حکومت کے اس اعلان کے بعد پاکستان بھر میں یوم آزادی کے موقع پر شہریوں میں کشمیر کے جھنڈے کی طلب بڑھ گئی ،جس سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومتی اعلان کوعوام کی جانب سے کس قدرپزیرائی ملی ہے ۔اور اس بار یوم آزادی پر لوگوں کاجوش اور جذبہ مزید بڑھ گیاہے۔ حکومت کی جانب سے یوم آزادی کی مناسبت سے جو لوگو جاری کیا گیاہے وہ بھی ملک بھر میں راتوں رات مقبول ہوچکاہے اس لوگومیں سرخ رنگ سے کشمیر لکھا گیا ہے جو کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی عکاسی کرتاہے ۔جب کے لوگو کے اردگرد کھینچی گئی سرخ لکیر کشمیر پر بھارت کے غاضبانہ قبضے کی نشاندہی کررہی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان نے بھارت کے یوم آزادی یعنی15اگست کو پورے ملک میں یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیاہے ،اور بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو ختم کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر کو بھی ملک سے بے دخل کردیاہے ۔ یہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی بڑ اقدم ہے اور بھارتی حکومت کو ایک واضح پیغام بھی ہے کہ پاکستان کی حکومت اوراس کی فوج کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ کسی بھی حال میں کشمیریوں کو اکیلا نہیں چھوڑینگے۔ کشمیر میں بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف لندن ،امریکا ،پیرس سمیت پوری دنیا میں جہاں جہاں بھارتی ہائی کمشنر ر کے دفاتر ہیں وہاں سکھ کمیونٹی سے لیکر ہر طبقہ فکر اور سول سوسائٹی کے لوگ سراپااحتجاج دکھائی دیتے ہیں۔ کشمیر میں چلنے والی یہ تحریک اب ایک انٹرنیشنل تحریک میں تبدیل ہوچکی ہے ۔بھارت کے خلاف کھڑے مظاہرین پوری دنیا کو کشمیر میں ہونے والے مظالم پر نوٹس لینے کامطالبہ کررہے ہیںحتیٰ کے خود بھارت کے مبصرین ،ادیب اور دانشور طبقہ اس وقت سڑکوں پر موجود ہے اور اپنی ہی حکومت کے خلاف نعرے بازیوں میں مصروف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت میں موجود تنازعات کی سب سے بڑی وجہ ہے ،دونوں ہی کشمیر کے دعوے دار ہےں فرق صرف اتناہے کہ بھارت کشمیر کے وسائل لوٹنا چاہتاہے اور پاکستان صرف اور صرف کشمیر کی آزادی کا خیر خواہ ہے ۔ قیام پاکستان سے پہلے ہی کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ الحا ق کے خواہش مند ہیں۔ آج جہاں پورا پاکستان اپنے ہاتھوں میں کشمیرکا علم لیے کھڑ اہے وہاں کشمیریوں نے بھی ہر قدم اور ہر محاذ پر یہ ثابت کیاہے کہ پاکستان ہمارا ہے اور ہم پاکستان کے ہیں۔ یہ ہمارے وہ کشمیر ی بہن بھائی ہیں جو پاکستان میں تو نہیں رہتے مگر انہوںنے کئی دہائیوں سے گولیوں کی بوچھاڑ میں پاکستانی پرچم کو پوری وادی میں لہرارکھاہے اور یہ بات بھارت کے ظالم طبقے کو ہضم نہیں ہورہی اور اسی جذبے کو لیکر اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری بھائی ،بہن ،بیٹیاں اور معصوم بچے بھارتی فوج کی درندگی کا نشانہ بن چکے ہیں، اور ہزاروں کشمیری بھارتی جیلوں میں آزادی کا نعرہ لگانے کے جرم میں بدترین تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کشمیر کے مسئلہ پر اب تک تین جنگیں لڑ چکے ہیںجس میں پہلی جنگ 1948 دوسری جنگ 1965میں ہوئی اور تیسری جنگ 1999میں کارگل کے مقام پر ہوئی تھی ،اس کے باجودکشمیر میں بھارتی فوج تقریباً 72سالوں سے وہاںکی عوام کا خون پی رہی ہے اور اب بھارتی حکومت کی پیاس مزید بڑھ چکی ہے وہ نہتے کشمیریوں سے ملنے والی ہار کو اب برداشت کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ بھارت نے اب کشمیر پر زبردستی مسلط ہونے کا تہیہ کیاہواہے وہ روز روز کی ہار اور تذلیل سے اب تنگ آکر کسی بڑی پیش قدمی کی جانب بڑھ رہاہے اوربھارت کی جانب سے حالیہ دنوں میں کشمیر کی جو خصوصی حیثیت کو ختم کیاگیاہے یہ بھی اسی پیش قدمی کی ایک کڑی ہے ،اور اس نے اپنی مزید فوج کو کشمیر میں بلاکر کشمیریوں پر مسلط کردیاہے۔ بھارت کی اس گھناﺅنی حرکت کو دیکھتے ہوئے نہ صرف پاکستا ن کی عوام بلکہ پوری دنیا میں غم وغصے کی لہر دوڑ چکی ہے ،پوری دنیا کا میڈیا مودی کے اقدام کو غاصبانہ قراردے رہاہے ۔ آج نصف صدی سے جاری تشدد میں حیرت انگیز موڑ آچکاہے کہ مارنے والا مارتے مارتے تھک چکاہے مگر اس آزادی کا نعرہ لگانے والا آج بھی اسی جوش وجذبے کااظہارکررہاہے جو پہلے روز سے تھا،اس عمل کو دیکھتے ہوئے کشمیر میں موجودنو لاکھ کے قریب بھارتی فوجی بھی اب مایوسی کا شکارنظر آتے ہیں ،کشمیریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کرنے والے بھارتی فوجیوں میں خودکشیوں کا رحجان دیکھنے کو مل رہاہے ،اور اب تو کشمیر میں بھارت کی جانب سے نئی پیش بندی کے بعد حالات ایک نیا رخ اختیار کررہے ہیں ،پوری دنیااب کشمیر میں ہونے والے مظالم کا حل چاہتی ہے وہ کسی قسم کی وقتی یااعتماد سازی کی بات کی بجائے اس مسئلے کا دیر پاحل تلاش کرنا چاہتی ہے کیونکہ دنیا جان چکی ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے کشمیر میں یہ ہی حالات رہے تو صورتحال جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے اور ان ایٹمی طاقتوں کی جنگ کا نقصان صرف ان دونوں ممالک کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو اٹھانا پڑسکتاہے ۔ پاک افواج سرحدوں پر چوکس دکھائی دیتی ہے پاک فوج کے ترجمان نے بھارت کو یہ کھلا پیغام دیدیاہے کہ پاکستان کی فوج کشمیریوں کے ساتھ کھڑی اور اگربھارت نے اس سلسلے میں جنگ مسلط کی تو اسے ہم عبرت کا نشان بنادینگے ، پاکستان خود اس وقت مسئلہ کشمیر کو لیکر عالمی سطح پر مہم چلارہاہے اور پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر میں نسل کشی کے مسئلے کو اجاگر کررہاہے ۔دنیا جان چکی ہے کہ کشمیر کی آزادی کو پانے کے لیے کئی نسلوں سے لوگ احتجاج کررہے ہیں ،دھرنے دینے جارہے ہیں کئی انقلابی تحریکیں نسل درنسل منتقل ہوچکی ہیں ، اوربھارت پھر بھی کہتاہے کہ کشمیر اس کا ہے ؟۔اس آزادی کے لیے ہزاروں لوگوں کی جانیں چلی گئیں،کئی معصوم پھول کھلنے سے پہلے ہی مرجھاگئے ہزاروں لوگوں کو معذورکردیاگیا،ہزاروں لوگوں کو اندھا کردیاگیا اور اس کشمیر کو بچاتے بچاتے ہزاروں ماﺅں اوربہنوں کی عصمتیں تار تار ہوگئی اور بھارت پھر بھی کہتا ہے کہ کشمیر ہمارا ہے ؟۔ بھارت کی اس کبھی نہ پوری ہونے والی خواہش نے کشمیر جنت نظیر کی وادیوں کو خون کی وادی میں تبدیل کیاہواہے ،بھارت نے آرٹیکل 370ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کرکے رکھ دیاہے ،مگر مقبوضہ وادی میں کئی روز سے اپنے گھروں میں محصورکشمیریوں نے تمام کرفیو اور پابندیوں کو توڑ کرپاکستانی پرچم لہرا نا شروع کردیے ہیں،آج آزادی کی جنگ فیصلہ کن موڑ پر پہنچنے کے قریب ہے تمام رکاوٹوں کو توڑ کرسری نگر میں ہزاروں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے ہیںاور مقبوضہ وادی نامنظورنامنظور ۔قاتل قاتل مودی قاتل کے نعروں سے گونج رہی ہے کرفیو،انٹرنیٹ اور گھروں کو سب جیل قراردینے والا دہشت گرد بھارت نہتے کشمیریوں، سسکتی ماﺅں اوربلکتے معصوم بچوں پر اپنی ایسی بندوق کو تانے کھڑا ہے جس کی نالی سے نکلنے والی گولی کشمیر کی آزادی کی اس تحریک سے خود بھی خوفزدہ دکھائی دیتی ہے۔
(کالم نگارمشیر برائے بحری امور ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved