تازہ تر ین

شہدائے پاکستان کو ہمبھولے نہیں

اعجاز شیخ……..معیشت نامہ
قیا م پاکستان کیلئے برصغیر کے مسلمانوں نے تقریباًدس لاکھ جانو ں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہندوستان کی تقسیم کے جرم میںکا نگریس کی سرپر ستی میں سکھوں اور ہندوغنڈوں نے مسلمانوں پر جو ظلم وستم ڈھایا وہ ایک ایسی غم ناک داستان ہے جس کوبیان کرتے ہوئے آنکھیں بھیگ جا تی ہیں اور پس غبارنہ جانے کیا کیا دکھائی دینے لگتاہے ۔ تاریخ کے حوالے سے کسی ملک کی آزادی کیلئے اتنی بڑی ہجر ت کا کوئی واقعہ نہیں ملتا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہمارے ادیبوں نے بھی اس الم ناک با ب کو بیا ن کرنے میں قدرے بخل سے کا م لیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم اپنی نئی نسل کو اپنے آباﺅ اجداد کی بے مثال قربانیوں سے روشناس نہیں کرواسکے۔ آج نئی نسل قیام پاکستان سے کما حقہ واقف نہیں ۔ انہیں تو یہ خطہ پا کستان سونے کی طشتری میں رکھا ہو امل گیا ہے ۔ وہ نہیں جانتے کہ اس سر زمین کو حاصل کرنے کیلئے کتنی بیٹیوں، ماﺅں اور معصوم بچوں نے اپنی جا نوں کا خون پیش کیا ہے ۔ میں یہاں صر ف چند واقعات ہی درج کروں گااور اہل وطن سے پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ ہم نے ان کی قربانیوں کو کیونکر بھلا دیاہے۔ وہ اس سر زمین پر اسلا م کی فصل اگانا چاہتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے گوشے گوشے سے اسلا م کی خوشبو آئے۔ کا ش ہم ان کی امیدوں پر پورے اترتے ، ان کی حسرتوں اور خوابوں کی عملی شکل دیتے ۔
اب میںنئی نسل کی یا د ہانی کیلئے ایک دوواقعات ہی رقم کر وں گا۔ ایک شہید بہن جس کو سکھ بھیڑیوں نے پہلے ظلم کا نشانہ بنا یا اور پھر اس کے سامنے اس کے دو بھائیوں کو قتل کر دیا پھر کیا وہ زندہ تھی ؟نہیں وہ تو اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی جس کو دنیا داری سے کیا واسطہ رہ گیا تھا ۔ مگر بد بخت سکھ بھیڑیوں نے اس پر اتنے ظلم کئے کہ وہ مو ت سے پہلے ہی مرگئی اس دوران یہ بھیڑئےے قہقہے لگاتے اور کہتے یہ لو پاکستان۔بر یگیڈئیر بر سٹو انتقال اقتدار کےلئے ہندوستان میں تھا اپنی کتا ب The Memories Of British Empire میں رقم طراز ہے کہ بے آسر ا ، مفلوک الحال مسلمانو ں کے پید ل قافلوں کو جس طرح وحشی سکھ درندوں نے چیر پھاڑکیا وہ قابل بیان نہیں ۔ ہزاروں افراد ٹرینوں اور لاریوں میں سوار قافلوں کی شکل میں دریائے بیاس کی طرف رواں دواں تھے۔ دریائے بیاس سیلاب کی وجہ سے نصف میل سے چوڑاہو کر دس میل تک چوڑا ہوگیا تھا ۔ اسی وجہ سے پل ٹوٹ گیا اور درخت جڑوں سے اکھڑگئے ۔ ایک قیامت صغریٰ کا منظر تھا لوگ مد د کےلئے چیخ وپکار کر رہے تھے مگر ان حالا ت میں کون مد دکرنے والا تھا ۔ اوپر سے آسمان بھی طوفانی بارش برسارہا تھا پا نچ سو سے زائد لا شیں بے گور وکفن پڑی تھیں جو کہ سکھ درند وں کے ہاتھوں بے موت مارے گئے ، دریا کا پانی اتر اتو گما ن تھا کہ اب سکھ پناہ گزینوں پر حملہ آور نہیںہونگے مگر ان بلوائیوں کی درندگی ملاحظ ہو کہ لوگ کیچڑسے کھانے پینے کا سامان ڈھونڈ رہے تھے تو ان پر پھر حملہ کیا جا تا ۔ اس دفعہ نو جو ان لڑکیوں کو بھی ساتھ لے گئے۔ لا ری کو نز جیسے متعصب رائٹر نے بھی اپنی کتا ب فریڈم ایٹ نا ئٹ میں سکھوں کی وحشت اور درندگی کو یو ں بیا ن کیا ہے کہ سکھ بے آسرا کا نپتی سہمی ہوئی عورتوں کو شہر میں گھما پھر ا کر گولڈن ٹیمپل کی طر ف لے آتے ان میں جو پسند ہوتیں ساتھ لے جا تے ا ور بقیہ کو تہہ تیغ کر دیتے ۔
پاکستان کی ہجرت کرنے والوں میں میری ایک عزیزہ جو کہ آجکل گوجرانوالہ میںرہائش پذیر ہیں ان کی کہانی بھی ایک ایسا ہی دردناک با ب ہے جو شاید ان کی موت کے بعد ہی ختم ہو سکے گا۔ گووہ اب چار بچوں کی ماں ہیں ان کے میاں ایک پنکھا ساز کمپنی کے مالک ہیں اور صاحب حیثیت ہیں مگر وہ عزیز ہ جس کرب میں مبتلا ہیں وہ ایک ماں ہی جا ن سکتی ہے جس کی پیاری معصوم اور پھول سی بیٹی دریائے بیاس کے کنارے رہ گئی تھی یعنی جس قافلے کے ساتھ وہ چل کر پہنچی تھی جب وہ دریائے بیاس کے پاس پہنچاہی تھا کہ سکھ درند وں نے بے یا رومد دگا ر قافلے کو تہہ تیغ کر نا شروع کر دیا ۔ میری عزیزہ اپنی دو بچیوں جن کی عمر چار سال اور چھ سال تھی کے ساتھ اپنی جان بچانے کےلئے ادھر ادھر دوڑہی تھی کئی گھنٹوں تک سکھ درند وں نے خون کی ہو لی کھیلی۔ جب انہیں خیا ل آیا کہ اب شاید کو ئی زندہ نہ بچا ہو تو واپس شراب کے نشے میں دھت واپس جا نا شروع ہو ئے ، میری عزیزہ نے اپنی دونو ں بچیوں کو لے کر درختوں کے ایک جھنڈ میں جائے پناہ تلاش کی مگر بد قسمتی سے دوسکھوں نے ان ماں بیٹیوں کو چھپے ہو ئے دیکھ لیا، ایک سکھ نے کہا کہ تو معراج دین دی کڑی تے نیئں ۔ میری عزیزہ ہا تھ جو ڑکر کہنے لگی ۔ ہاں میں اس بد نصیب باپ کی بیٹی ہی ہوں تم نے میرے ماں باپ کو شہید کر دیا ہے لو مجھ کو بھی ما ر ڈالو ۔ مگر ایک سکھ کہنے لگا تیر ے باپ نے ایک دفعہ مجھ پر احسان کیاتھا کچہری میں میرے حق میں گواہی دی تھی اس کا میر ے پر بڑا احسان ہے ۔ میں تجھے دریا پا رکرادوں گا میر ی عزیزہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس سکھ کے ساتھ چل پڑی ۔ ابھی چند قد م ہی چلے ہو نگے کہ دوسری جانب بڑے جتھہ نے پھر حملہ کر دیا ۔ شام ہونے میں ابھی تھوڑا سا وقت تھا ۔ وہ سکھ کہنے لگا کہ مےں دونوں بچےوں سمےت آپکو درےا پار نہےں کر وا سکتا تم صرف اےک بچی اپنے ساتھ لے لو اور اےک بچی ےہاں ہی چھوڑ جاﺅ۔ اسی اثنا مےں اےک شور برپا ہوا جس مےں مظلوں کی چےخ و پکار اور آہےں سنائی دےتی تھےں سکھ جتھے باقی بچے کھچے بے آسرا لوگوں کو مارنا شروع ہوگئے نہ چاہتے ہوئے بھی مےری اس عزےزہ نے اپنی چھوٹی بچی کو تھوڑے سے چنے دےکر کےکر کے درخت کے نےچے بٹھا دےا اور بڑی بچی کو لے کر چل پڑی کہ چھوٹی بچی نے چلا کر کہا مےں نے آپ کے ساتھ جانا ہے کہ سکھ نے اےک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا جس سے وہ زمےن پر گر گئی پھر مےری عزےزہ کو ےاد نہےں رہا کہ اس کی بچی کا کےا بنا اب بھی مےری عزےزہ ہنستے ہنستے رو پڑتی ہے اور روتے روتے ہنس پڑتی ہے۔ اےک دن مجھ سے کہنے لگی بھائی مجھ کو موت کےوں نہےں آجاتی کاش وہ سکھ مجھ کو وہےں قتل کر دےتا مجھے اےسی سزا تو نہ ملتی جب بھی 14اگست آتا ہے تو مجھ کو مےری بےٹی روبےنہ بہت ےاد آتی ہے۔ جانے کس حال مےں ہوگی اے اکاش کوئی بتا دے؟ خواجہ افتخار صاحب اپنی کتاب جب امرتسر جل رہا تھا مےں لکھتے ہےں کہ پاکستان کے نام پرےتےم اور بے گھر ہو جانے والے ان بچوں کی چےخ و پکار کے ساتھ عورتوں کے بےن اور بعض کی سےنہ کو بی آسمان کو بھی رلا دےتی ہے اور ان کے بےن موت کی آواز کی طرح محسوس ہوتے تھے۔ پاکستان مےں پےدا ہونے والی نسل اس امر سے غافل ہے کہ اس ارض پاکستان کے حصول کےلئے کتنے ہزار بچوں ، نوجوانوں، مردوں اور عورتوں کو قربان ہونا پڑا۔
ہم 14اگست کو منانے کےلئے صرف جھنڈےاں لگا کر ٹےلی وےژن پر بے مقصد /بے اثر پروگرام پےش کر کے اپنے شہداءکے عمل کو پورا کر رہے ہےں۔ ےقےنا نہےں۔
(کالم نگارمختلف امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved