تازہ تر ین

قیام پاکستان سے قائداعظم کے پاکستان تک(1)

ڈاکٹر صفدر محمود….خاص مضمون
سوال یہ ہے کہ قیام پاکستان کی بنیاد کب رکھی گئی، آسمانی فیصلوں کی تکمیل اور خواب کو حقیقت بنتے صدیاں گزر جاتی ہیں، اس سوال کے جواب کیلئے ہمیں ”تاریخ فرشتہ“ سے راہنمائی لینی پڑیگی کیونکہ ”تاریخ فرشتہ“ ہندوستان کی قدیم تاریخ پر ایک مستند کتاب سمجھی جاتی ہے۔ تاریخ فرشتہ کے صفحہ نمبر101پر وہ خط درج ہے جو 1192-93 ءمیں شہاب الدین غوری نے پرتھوی راج کو لکھا تھا۔ پس منظر کے طور پر یاد رہے کہ شہاب الدین غوری اور پرتھوی راج کے درمیان 1192ءمیں جنگ ترائن ہوئی جو اس لحاظ سے ایک فیصلہ کن معرکہ سمجھا جاتاہے کہ اس جنگ نے ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کا فیصلہ کردیااور مقامی ہندو راجاو¿ں کی کمر توڑ کر مسلمانوں کی حکمرانی کیلئے راہ ہموار کردی۔ اس دور میں پرتھوی راج ہندوستان کا طاقتور ترین راجہ سمجھا جاتاتھا اور وہ جب غوری کے مقابلے میں ترائن (تراو¿ڑی) کے میدان میں اترا تو اسکے ساتھ ہندوستان کے ڈیڑھ سو ہندو راجے ، تین لاکھ مسلح فوج اور تین ہزار ہاتھی تھے جبکہ غوری کے پاس ایک لاکھ دس ہزار فوج تھی، یہ اس لحاظ سے ایک فیصلہ کن معرکہ تھا کہ اگر خدانخواستہ اس جنگ میں غوری کو شکست ہوجاتی تو پھرآئندہ شاید کوئی مسلمان فاتح صدیوں تک ہندوستان کا رخ نہ کرتا اور نہ ہی ہندوستان میں پہلی اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی جاتی، جس کا بانی شہاب الدین غوری اور اسکا جرنیل قطب الدین سمجھا جاتا ہے۔
اس دور میں یہ بھی ایک رسم تھی کہ بادشاہان ایک دوسرے کےخلاف مقابلے کیلئے میدان جنگ میں اترتے تو تلواریں اور نیزے اٹھانے سے پہلے ایک دوسرے کو شرائط بھجوائی جاتی تھیں ، اگر کوئی فریق ان شرائط کو تسلیم کرلیتا تو جنگ ”صلح نامہ“ میں بدل جاتی ورنہ خون کی ندیاں بہتیں اور فتح وشکست کا واضح فیصلہ ہوجاتا، چنانچہ رسم دنیا کے مطابق شہاب الدین غوری نے جو خط پرتھوی راج کو لکھا اسے پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ گویا پاکستان کی بنیاد کی پہلی اینٹ یہی تھی، اس خط میں شہاب الدین غوری نے لکھا کہ اگر تم صلح کرنا چاہتے ہو تو مجھے پنجاب ،سندھ اور سرحد کے علاقے دیدو اور ہندوستان کے باقی علاقے تم اپنے پاس رکھو ورنہ جنگ کیلئے تیار ہو جاو¿، بلوچستان کا اس میں ذکر نہیں تھا کیونکہ وہاں مسلمانوں کی حکمرانی تھی، تاریخی طور پر اس مطالبے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان علاقوں میں مسلمان مقابلتاً اکثریت میں تھے ، یعنی ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت یہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی،گویا نظریاتی، مذہبی اور آبادی کے لحاظ سے ہندوستان جغرافیائی طور پر تقسیم ہوچکا تھا جسے مورخین بعدازاں مسلم انڈیا اور ہندو انڈیا کے ناموں سے یاد کرتے رہے۔ جنگ ہوئی، پرتھوی راج کو اپنے ہندوستانی راجاو¿ں سمیت شکست ہوئی، قطب الدین ایبک جو لاہور میں دفن ہے فتوحات کے جھنڈے لہراتا دہلی پہنچ گیا، جسے اس نے اپنا مرکز بنایا اور ہندوستان میں پہلی اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی، اس سے قبل مسلمان فاتحین یہاں آتے رہے جن میں غزنی خاندان خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ پنجاب غزنی سلطنت کا صوبہ رہاہے، ان سے قبل 712ءمیں محمد بن قاسم سندھ پر حملہ آور ہوا لیکن چند برس بعد 715ءمیں اسے واپس بلالیاجس کے سبب یہاں مستحکم مسلمان سلطنت قائم نہ ہوسکی، بہرحال 1192ءتک ان علاقوں میں مسلمان بقایا ہندوستان کی نسبت مقابلتاً اکثریت میں ہوچکے تھے اور اس میں سب سے اہم کردار صوفیاءاور اولیاءاکرام کا تھا جن کی نگاہ ،اخلاق اور کردار نے غیر مسلموں کے دلوں کو مسخر کیا اور اسلام کی روشنی کو پھیلایا۔
اس میں دراصل قابل غور بات یہ ہے کہ وہ علاقے جن کا غوری مطالبہ کررہاتھا وہ جغرافیائی لحاظ سے ایک دوسرے سے وابستہ تھے جبکہ بلوچستان پہلے ہی مسلمانوں کے زیر حکومت تھا اور یہ بات اس لئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے کہ تحریک پاکستان کی بنیاد ہی اس اصولی مطالبے کے محور کے گرد گھومتی تھی کہ وہ علاقے جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جو جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے پیوست ہیں ، ان علاقوں پر مشتمل ایک آزاد مسلمان اسلامی مملکت قائم کی جائے کیونکہ مسلمان دنیا کے ہراصول اور معیار کے مطابق ایک الگ قوم ہیں، اگر آپ مارچ 1940ءکی قرارداد لاہور کا مطالعہ کریں یا علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد 1930ءکا ،یا علامہ اقبال کے خطوط بنام قائداعظم کا یا پھر قائد اعظم کی تقاریر کا، تو ان میں ہمیں ایک ہی تصور ملتا ہے کہ چونکہ مسلمان ایک قوم ہیں لہٰذا وہ ایک آزاد وطن کے مستحق ہیں ، اس لئے ہندوستان کے وہ علاقے (پنجاب، سندھ، سرحد ، بلوچستان ) جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جو زمینی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہیں ان پر مشتمل پاکستان کا قیام عمل میں لایا جائے۔ گویا یہ مشیت ایزدی تھی کہ 1192ءتک مسلمان پنجاب،سندھ،سرحداوربلوچستان کے علاقوں میں اکثریت میں ہوچکے تھے اور تقریباًساڑھے سات صدیاں قبل مطالبہ¿ پاکستان کیلئے زمین ہموار کرکے بنیاد رکھ دی گئی تھی، ورنہ اگر مسلمان سرحد کے بعد یوپی اور پھر ان صوبوں میں اکثریت میں ہوتے جو جغرافیائی فاصلوں میں بٹے ہوئے تھے اور زمینی قربت سے محروم تھے تو کیا پاکستان کا مطالبہ کیا جاسکتا تھا اور اسے کوئی تسلیم کرتا؟ جواب ہے ناممکن، کیونکہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتاتھا،اس کی پہلی شرط جغرافیائی وحدت تھی اور اسی کی تشکیل میں مشیت ایزدی کی جھلک نظر آتی ہے، اس لئے مجھے کہنے دیجیے کہ قیام پاکستان کی بنیاد 1192ءمیں رکھی جاچکی تھی، اس کی پہلی اینٹ غوری کا خط تھا اور پھر یہی خیال ،آرزو او رمقصد صدیوں تک پھلتا پھولتا رہا، جب تک مسلمان کسی نہ کسی صورت ہندوستان پر حکمران تھے، اس آرزو کو مطالبہ بنانے کی ضرورت نہ تھی لیکن جب وہ زوال کا شکار ہوئے اور محکوم ہوئے تو انکی یہی خواہش خواب بن کر نگاہوں میں بسنے اور چھلکنے لگی اور پھر منزل بن گئی، اس آرزو کی واضح صورت شاہ ولی اللہ ؒ کے خطوط میں ملتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ قائداعظم ؒ اکثراوقات کہا کرتے تھے کہ میرا کمال فقط یہ ہے کہ جو آرزوتمہارے اندر پرورش پارہی تھی اور جو تم چاہتے تھے میں نے اس کا اظہار کردیا۔
آپ جانتے ہیں کہ چند برس قائداعظم ؒ کیلئے مایوسی کا دور تھا حتیٰ کہ وہ مسلم لیگ کے ”تن مردہ “ اور مسلمان عوام کی بے حسی سے دل شکستہ ہوکر سیاست سے تائب ہوگئے اور انگلستان چلے گئے، سیاست کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ” چھٹتی نہیں ہے منہ سے کافر لگی ہوئی “اور پھر خاص طور پر قائداعظم محمد علی جناح ؒ جیسا شخص جس کے رگ و پے میں مسلمانوں کی محبت ، انکے مستقبل سے وابستہ خطرات اور انکی کسمپرسی کا احساس موجزن تھا ، وہ بظاہر الگ تھلگ ہونے کے باوجود اپنی قوم سے الگ نہیں رہ سکتے تھے ، انگلستان جانے سے قبل اور 1934ءمیں انگلستان سے واپسی کے بعد کی قائداعظم ؒ کی تقریر کا تقابل کیا جائے تو ان میں ایک واضح ارتقاءاور نظریاتی پختگی نظر آتی ہے، گویا مسلمانوں کی سرد مہری سے روٹھ کر انگلستان چلے جانا قائداعظم ؒ کیلئے اس لحاظ سے بہتر ثابت ہو اکہ انگلستان کی نسبتاً کم ہنگامہ خیز زندگی میں انہیں وکالت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ماضی ، مسائل ، نفسیات، فکری میلان اور مستقبل پر گہرے غوروخوض کا موقع ملا کیونکہ ہندوستان سے جانے کے بعد وہ روزمرہ کی سیاسی سرگرمیوں، جلسے جلوسوں اور دیگر مصروفیات سے آزاد ہوگئے تھے، انگلستان جانے سے قبل وہ 1920ءمیں ناگپور کے کانگریسی جلسے کے بعد کانگریس سے مستعفی ہوچکے تھے اور 1928ءمیں نہرو رپورٹ کی اشاعت کے بعد مسلمانوں اور ہندوو¿ں کے راستوں کے جدا جدا ہونے کا اعلان کرچکے تھے، نہرو رپورٹ پر قائداعظم ؒ کا وہ ببانگ دہل ردعمل یاد کیجئے جس میں انہوں نے (Parting of the Ways) کا اعلان کرکے علیحدگی کی بنیاد رکھ دی تھی۔
انگلستان سے حصول تعلیم کے بعد جب نوجوان قائداعظم ؒ 1896ءمیں ہندوستان آئے تو وہ مسلمانوں کو ایک اقلیت کہتے تھے اور اقلیت کے حوالے ہی سے قانون ساز اسمبلیوں سے لیکر سیاسی پلیٹ فارم تک مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے جدوجہد کرتے رہے ، لیکن 1934ءمیں ہندوستان دوبارہ واپسی کے بعد قائداعظم ؒ کے ویژن میں ایک نمایاںپختگی نظر آتی ہے، اب وہ اقلیت کے سیاسی فلسفے سے آگے نکل کر مسلمان قومیت کے نقطہ ارتقاءپر پہنچ چکے تھے، چنانچہ اب انکی تقاریر کا مرکزی خیال یہ تھا کہ مسلمان ایک قوم ہیں، انکا مذہب،کلچر،رسم و رواج،تاریخ حتیٰ کہ ہر شے ہندوو¿ں سے مختلف ہے ، اس لیے وہ ایک الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے اصولوں کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ (جاری ہے)
(کالم نگارممتازمحقق اوردانشورہیں)


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved