تازہ تر ین

عید پر بھی بھارتی دہشت گردی برقرار

انعام الحسن کاشمیری….خیالِ کشمیر
عید قربان ، کشمیریوں نے ایک نئی قربانی کے ساتھ منائی۔ گجرات کے ’قصائی‘مودی نے جس طرح کشمیریوں کو ذبح کرنے اور کشمیر کو بھارت کے لئے ’حلال‘ کرنے جوحرکت کی ہے، اس نے پوری دنیا کو غم واندوہ کی کیفیت میں مبتلا کرڈالاہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں انسانیت موجود ہے اور جو لوگ آزادی اور غلامی کا فرق جانتے ہیں ،انہوںنے بھرپور طور پر اس درد کو اپنے دل کی گہرائیوں تک میں محسوس کیا ہے۔ سب سے زیادہ یہ شدت پاکستان میں محسوس کی گئی ہے۔ اہلِ وطن کے دلوں اور ان کے اذہان پر اس اقدام نے جو رقت طاری کی ہے اور جو ہیجان برپا کیاہے، اس کاہی نتیجہ ہے کہ یہاں سرکاری سطح پر 14اگست کو یوم کشمیر منانے کا اعلان کیا گیا ۔ یوم آزادی کو کشمیر اور کشمیریوں سے موسوم کرتے ہوئے اس دن کا خصوصی لوگو ”کشمیر بنے گا پاکستان“ جاری کیاگیا ۔
کشمیریوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوںنے ہندوستان کی تمام ریاستوں میں سے سب سے پہلے قانون تقسیم ہند کے فوری بعد 19جولائی 1947ءکوکشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد مجموعی اتفاق رائے سے منظور کرتے ہوئے ”کشمیر بنے گا پاکستان “ کے اس نعرے کی عملی توجیہ پیش کردی تھی جو بعد میں ہمیشہ کشمیریوں کی زبانوں پر جاری رہا اور آج خود پاکستانی قیادت نے اس نعرے کو اپنے سرکاری لوگو میں استعمال کرتے ہوئے اس امر پر مہرتصدیق ثبت کردی ہے کہ واقعی کشمیر کا مستقبل پاکستان ہی ہے۔ بھارت بھلے کشمیر کی حیثیت ختم کرے، وہاں پابندیاں عائد کرے اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرتے ہوئے کشمیر کی متنازع حیثیت کو ہی مجروح کردے لیکن کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کی واحداور آخری منزل پاکستان ہی ہے۔
آج سے ٹھیک 72برس پہلے بھی کشمیر میں حالات اس سے کہیں زیادہ خراب تھے، جو آج وہاں نظرآرہے ہیں۔ 1947ءمیں اور اس کے آس پاس کشمیر میں خونریزی برپا تھی۔ لاکھوں کشمیریوں کو پاکستان کا نام لینے کی پاداش میں جس طرح کاٹ کر پھینک دیا گیا تھا، یہ سب تاریخ کے صفحات پر سیاہ دھبوں کی مانند موجود ہے۔ ایک ایک علاقے میں ہزاروں کشمیریوں کی جانیں تلف کی گئیں اور یہ برصغیر کی اس تاریخ حریت کاایک روشن اور شاندار باب ہے کہ پاکستان کے لئے جانوں کی کسی ایک ریاست یا علاقے میں سب سے زیادہ کشمیریوں نے جانی و مالی قربانی دی۔ یہ تعداد سب سے زیادہ اور تاریخ کے ہرباب اور گوشے میں بکھری پڑی ہے۔ آج اس تاریخ کو ایک بار پھر دہرایاجارہاہے۔ فرق اتنا ہے کہ وہ چند لوگ جو کسی امید کی بنیاد پر بھارت کی حمایت کرتے تھے، آج وہ یکسر اپنے نظریات بدل چکے ہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم پڑچکا ہے کہ کشمیر کو بھارت میں ضم کروانے، یااُسے الگ خودمختارحیثیت دینے کی کوششیں کرنے کا سیدھا اور واضح مطلب یہی ہے کہ کشمیر کی اصل شناخت کو ہی ختم کردیا جائے۔
پچھلے گیارہ بارہ روز سے کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔ اشیائے خوراک کی شدید قلت، رسل ورسائل کی عدم دستیابی، مواصلاتی نظام کا مکمل انجماد اور ہرطرف سنگینوں کے لہراتے سایوںنے زندگی کو ایک گہری کھائی کے کنارے لاکھڑاکیاہے۔ صاف نظرآرہاہے کہ اب بھارت کشمیریوں کو آخری دھکا دے کر ان کی آوازِ حریت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گہری نیند سلادینے کا مصمم ارادہ کیے ہوئے ہے۔ اُس نے آئین کی جن شقوں کو ختم کیاہے، یہ خود بھارتی اور کشمیری زعماءنے آئین میں شامل کی تھیں لیکن جو چیز بھارت نے مسئلہ کشمیر کوازخود سلامتی کونسل میں لے جاکر کی اور وہاں عہد کیا تھا کہ کشمیر میں حالات معمول پر آتے ہی استصوابِ رائے کروایاجائے گا اور کشمیریوں کو ان کا ازلی و ابدی حق ’حق خودارادیت ‘ دینے میں کوئی تامل نہیں کیاجائے گا ، تو اب اُس بھارت نے اپنے ہی سارے اصولوں، وعدوں، جمہوری تقاضوں اور نسل انسانی کے سارے اشراف کو پاﺅں تلے روندڈالاہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے باہمی گفت وشنید اور مذاکرات کے حتمی مراحل میں پہنچ جانے کے باوجود وہ ہمیشہ اس لئے فرار ہوتاجاتارہاہے تاکہ کسی دن موقع ملتے ہوئے پورے کشمیر کو ہی ہڑپ کرلیاجائے خواہ اس کیلئے گھٹیاپن اور ذلت کے جس پاتال میں بھی گرنا پڑے۔
پاکستان میں ، دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی اور کشمیری یوم آزادی کو ”کشمیر بنے گا پاکستان “ کے جس نعرے اور جس جذبے کے ساتھ منارہے ہیں، یہی جذبہ خود کشمیریوں کے دلوں، ان کے ذہنوں اور ان کے جسموں میں ہی موجود نہیں، بلکہ یہ ان کی روحوں کا حصہ تک بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرفیوکے باوجود جبکہ انہیں کسی بھی جانب سے آنے والی گولی کا واضح خطرہ ہو، وہ گھروں سے ہزاروں کی تعداد میں نکل کر بھارت کے خلاف اور آزادی و پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہیں۔ کشمیری قیادت برملا کہہ رہی ہے کہ ”ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہماراہے“ ۔ انہوںنے پاکستان کے یوم آزادی کو بھی منانے کا اعلان کیا اور آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ پورے کشمیر میں پاکستان کے قومی پرچم لہرارہے ہونگے۔
پورے کشمیر میں اب ایک نئی آگ لگ چکی ہے۔ آتش وآہن کی جوبارش ہورہی ہے، اس میں بھی پاکستانیت کی فصل ہی نمو پارہی ہے۔ پاکستان میں ”کشمیریت “ کافسوں پھیل گیا ہے۔ یہ فسوں اب سرچڑھ کر بولنے لگاہے۔ اب ہر پاکستان کہنے لگا ہے کہ ”ہم کشمیری ہیں اور کشمیر ہماراہے“۔ حکومت آزادکشمیر اور حکومت پاکستان، پاک فوج، تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں، ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے شہری اور عوام بھارت کے اقدامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اس عزم کااعادہ کیے ہوئے ہیں کہ کشمیر کے لئے ہم بھارت کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے بھی تیار ہیں چنانچہ اولین اقدام کے طور پر بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے تجارت اور دوستی بس سروس بھی بند کردی گئی ہے۔ ایک وقت میں بھارت اس کوشش میں تھا کہ اُسے پاکستان سے ”موسٹ فیورٹ نیشن “ کا درجہ مل جائے اور یہ کہ وہ بھی سی پیک کے عظیم منصوبے کا حصہ بن جائے اور کہاں یہ وقت کہ ہر پاکستانی بھارت سے بھرپورنفرت کا اظہارکررہاہے۔ اسی نفرت کی بدولت یوم آزادی ¿ پاکستان کے جذبے یوم کشمیر میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر سارے کاساراپاکستان میں شامل ہوگا اور تب 14اگست کو کشمیری آزادی کے ساتھ منائیں گے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved