تازہ تر ین

قیام پاکستان سے قائداعظم کے پاکستان تک(2)

ڈاکٹر صفدر محمود….خاص مضمون
1944ءمیں ایک سوال کے جواب میں قائداعظم ؒ نے یہ واضح کہاتھا کہ جب تک ہم اقلیت کی بات کرتے تھے ہمیں تحفظات کی ضرورت تھی، ہم زندگی کے ہرشعبے میں اپنا حصہ مانگتے تھے لیکن دراصل ہم ہر اصول کے مطابق ایک قوم ہیں اور بحیثیت قوم ہمیں ایک علیحدہ وطن کی ضرورت ہے ، یہ ہمارا حق ہے اور ہم یہ لیکر رہیں گے، قائداعظم ؒ کی سیاسی فکر کے ارتقاءکا یہ سنگ میل ہی بالآخر پاکستان کی بنیاد بنا ہے۔
پھر اسکا نتیجہ کیا نکلا…..اسکی وضاحت خود قائداعظم ؒ نے بارہا اپنی تقاریر میں کی ہے …..میں کہہ چکا کہ قائداعظم ؒ مسلم لیگ کی ”مردہ تنی“ اور مسلمان عوام کی سردمہری سے دل گرفتہ ہوکر انگلستان چلے گئے تھے ، لیکن وہ جب واپس آئے تو انہوں نے دو تین برس دن رات محنت کرکے مسلم لیگ کو منظم کیا اور مسلمان عوام کو یہ احساس دلاکرجگایا کہ وہ ایک منفرد قوم ہیں اور ایک الگ خطہ زمین انکی منزل ہے، تو پھر وہی مسلمان عوام جوق در جوق مسلم لیگ کی صفوں میں شامل ہونے لگے اور بقول قائداعظم ” کہ وہ مسلم لیگ جسے کل تک کوئی پوچھتا نہ تھا جس کا کہیں ذکر نہیں ہوتا تھااب اس قدر اہم ہوگئی کہ انگلستان سے لیکر امریکہ تک ہرروز اسکا ذکر ہوتا ہے، مجھ پر نوازشات کی بارش کی جاتی ہے اور مجھے ہندوستان کی وزارت عظمیٰ کا تاج پیش کیا جاتا ہے“ ۔ ان چند برسوں میں مسلم لیگ کس طرح ایک عوامی قوت بنی ہے اس صورتحال کا نقشہ قائداعظمؒ کے الفاظ میں ملاخطہ فرمایئے۔
references are often made to me… our friends went so far as to offer me the crown of the premier of India.(قائداعظمؒ کی تقریر 9مارچ1944ئ)
چنانچہ قائد اعظم ؒ نے اس موقع پر یہ واضح کیا کہ یہ تبدیلی مسلمان عوام کی حمایت کی مرہون منت ہے اور ہمیں کوئی پیشکش ،جبریا قوت اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔
قائداعظمؒ کا فکری پس منظر کیا تھا، وہ خلوص نیت سے کیا محسوس کرتے تھے اور انہوں نے پاکستان کا تصور کہاں سے لیاتھا، اسی موضوع پر قائداعظمؒ کی متعد دتقاریر ملتی ہیں، لیکن میں آج انکی علی گڑھ والی 8مارچ 1944کی تقریر کے چند فقرے آپ کی خدمت میں پیش کررہاہوں جن سے آپ کو ان سوالات کا جواب ملے گا، نظریاتی حوالے سے یہ ایک اہم تقریر ہے اور قائداعظم ؒ کی مثبت ذہنی روش پر روشنی ڈالتی ہے، اسے سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ بہت سے پاکستانی دانشور دو قومی نظریے کے منکر ہیں، وہ نظریاتی حوالے سے قائداعظم ؒ کو سیکولر سمجھتے ہیں جبکہ ہندوستانی مصنفین پاکستان کو منفی سیاست کا شاخسانہ کہتے ہیں، بہت سی اور تقریروں کی مانند یہ تقریر ثابت کرتی ہے کہ قائداعظمؒ نظریاتی لیڈر تھے اور انکی نظریاتی اساس نہایت پختہ تھی ، انہوں نے کہا :–
”Pakistan was not product of the conduct or misconduct of Hindus. It has always been there, only they were not conscious of it. Hindus and Muslims, though living in the same towns and villages, had never been blended into one nation, they were always
two separate entities.”
Tracing the history of the beginning of Islam in India, Quaid-e-Azam proved that Pakistan started the moment the first non-Muslim was converted to Islam in India long before the Muslims, established their rule. As soon as a Hindu embraced Islam he was outcast not only religiously but also socially, cultrally and economically. As for the Muslim, it was a duty imposed on him by Islam not to merge his identity and individuality in any alien society.Throughout the ages Hindus had remained Hindus and Muslim had remained Muslim, and they had not merged their entities-that was the basis for Pakistan,In a gathering of high European and American Officials he was asked as to who was the author of Pakistan. Mr.Jinnah’s reply was “Every Mussalman.
( Speech at Aligarh:The DAWN March 10,1944.)
ترجمہ:-”پاکستان ہندوو¿ں کے مناسب یا غیر مناسب رویے کی پیداوار نہیں، یہ ہمیشہ موجود رہاہے، صرف انہیں اسکا شعور نہیں تھا، ہندو اور مسلمان اکٹھے رہنے کے باوجود کبھی ایک قوم نہیں بنے، انکا تشخص ہمیشہ جدا جدا رہا ہے، پاکستان اسی روز بن گیاتھا جب مسلمانوں کی آمد سے بہت عرصہ قبل پہلا غیر مسلمان اسلام کے دائرے میں شامل ہوا، جونہی ایک ہندو مسلمان ہوتا ہے وہ مذہبی ، سماجی، ثقافتی اور معاشی طور پر اپنے ماضی سے کٹ جاتا ہے ، مسلمان اپنی انفرادیت اور تشخص کسی بھی معاشرے میں ضم نہیں کرسکتا، یہی وجہ ہے کہ صدیوں تک اکٹھے رہنے کے باوجود ہندو ہندو او ر مسلمان مسلمان رہے ہیں اور یہی پاکستان کی بنیاد ہے، یورپین اور امریکی باشندوں کے ایک اجتماع میں ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا خالق کون تھا تو جناح کا جواب تھا ہر مسلمان “۔(علی گڑھ تقریر،8 مارچ1944ئ، ڈان 10مارچ1944ئ)
قائداعظمؒ کے الفاظ پر کھلے ذہن سے غور کیجئے ، انکا مدعا اور معانی کو سمجھنے کی کوشش کیجئے کیونکہ دراصل قائداعظم ؒ نے ان الفاظ کے ذریعے اپنی تاریخ اور مسلمانوں کے فکری شعور کے سمندر کو کوزے میں بند کردیاتھا اور واضح کردیا تھا کہ مطالبہ پاکستان کسی منفی جذبے یا محرک کی پیداوار نہیں بلکہ ہماری صدیوں پرمحیط تاریخ کا نچوڑ اور نتیجہ ہے اور یہ کہ پاکستان کا مطالبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر کیا جارہاہے جو کہ تاریخ کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ قائداعظم ؒ نے کئی مواقع پر کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں ، میں نے پاکستان کا مطالبہ کرکے فقط مسلمانان ہند کی دیرینہ خواہش اور قلبی آرزو کا اظہار کیا ہے، جس نے مسلم لیگ کی مقبولیت کو چند برسوں میں چارچاند لگادیئے ہیں۔
قائداعظمؒ کی شخصیت کے اس پہلو کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے، اسلئے قائداعظمؒ کی آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ 1939ءمیں کی گئی تقریر کے چند فقرے نمونے کے طور پر پیش کررہاہوں، انہیں پڑھیے اور ان الفاظ کے باطن میں جھانکئے تو آپ کو اصل جناح کا سراغ ملے گا، وہ جناح جو بظاہر انگریزی بولتا ،مغربی لباس پہنتااور مغربی طور طریقوں پر عمل کرتا تھا لیکن باطنی طور پر کیا تھا، قائداعظم کے الفاط تھے…..!
”مسلمانو!میں نے دنیا کو بہت دیکھا، دولت،شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے، اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کوآزاد اور سربلند دیکھوں، میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لیکر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی، میں آپ کی داد اور شہادت کا طلبگار نہیں ہوں، میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے مدافعت اسلام کا حق اداکردیا، میرا خدا یہ کہے کہ بیشک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں علم اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے“۔
یوم حساب ،خدا کے حضور سرخروئی کا خیال، مسلمانوں اور اسلام کی سربلندی کا علم بلند کئے ہوئے مرنے کی آرزو اور رضائے الٰہی کی تمنا صرف اور صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو سچا مسلمان ہو اور جس کا باطن خوف خدا کے نور سے منور ہو، غور کیجئے کہ جب قائداعظم ؒ نے یہ تقریر کی اس وقت انکی عمر تقریبا ً 53سال تھی اور انکی شہرت اوج ثریا پر تھی۔
دراصل قائداعظم ؒ کو زندگی بھر اقلیتوں کے مسئلے سے واسطہ رہا اور وہ اس سے نمٹنے کی کوشش کرتے رہے، متحدہ ہندوستان میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت تھے اور اس اقلیت کے سب سے بڑے رہنما محمد علی جناح تھے، چنانچہ متحدہ ہندوستان کا خواب ٹوٹنے کے بعد (جسکا نقطہ عروج 1928ءکی نہرو رپورٹ کو قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ قائداعظم ؒ نے اسے پارٹنگ آف دی ویز یعنی راستوں کی علیحدگی قرار دیاتھا) قائداعظم ؒ پہلے پہل مسلمان اقلیت کے حقوق اور بعدازاں مسلمان قوم کے حقوق کیلئے اس وقت تک مسلسل لڑتے رہے ، جدوجہد کرتے رہے جب تک قیام پاکستان کے امکانات واضح نہیں ہوئے۔ مسلمان اقلیت سے مسلمان قوم کے سفر میں 1940ءکی قرارداد لاہور یا قراردادپاکستان ایک طرح سے اہم ترین سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اسکے بعد قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کا موقف یہ رہا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ہر تعریف ، معیار اور تصور کے مطابق ایک قوم ہیں، ظاہر ہے کہ اس قومیت کی اہم ترین بنیاد مذہب تھی ، اسی طرح جب قیام پاکستان کا مرحلہ قریب آیا تو قائداعظم ؒ کیلئے سب سے اہم سوال اور مسئلہ پھر اقلیتوں کا تھا کیونکہ پاکستان میں بھی کئی مذہبی اقلیتیں آباد تھیں اور ادھر ہندوستان میں بھی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی ہی تھی جس کے تحفظ کیلئے قائداعظم ؒ پریشان رہتے تھے، چنانچہ قیام پاکستان سے چند ماہ قبل اور چند ماہ بعد تک ان سے با ربار اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے رہے، جس کی وہ بار با روضاحت کرتے رہے ، اس دور میںقائداعظم ؒ نے جو تقاریر کیں یا بیانات دیئے ان کا صحیح مفہوم سمجھنے کیلئے انکا مطالعہ اس مسئلے کے تناظر میں کرنا چاہیے۔(جاری ہے)
(کالم نگارممتازمحقق اوردانشورہیں)
٭….٭….٭

اس ضمن میں قائداعظم ؒ کے ذہن اور فکر کو سمجھنے کیلئے انکی اس پریس کانفرنس کا حوالہ دینا ضروری ہے جو انہوں نے پاکستان کاگورنر جنرل نامزد ہونے کے بعد 14جولائی 1947ءکو نئی دہلی میں کی، اقلیتوں کے ضمن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا …..!
” میں اب تک بار بار جو کچھ کہتا رہا ہوں اس پر قائم ہوں، ہر اقلیت کو تحفظ دیا جائیگا، انکی مذہبی رسومات میں دخل ہیں دیا جائیگا اور انکی مذہب، اعتقاد، جان و مال اور کلچر کی پوری حفاظت کی جائیگی، وہ ہر لحاظ سے پاکستان کے برابر کے شہری ہونگے، آپ مجھ سے ایک فضول سوال پوچھ رہے ہیں، گویا میں اب تک جو کچھ کہتا رہاہوں وہ رائیگاں گیا ہے، آپ جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا، ہم نے جمہوریت 1300سال قبل سیکھ لی تھی، سوال یہ ہے کہ 1300سال قبل مسلمانوںنے کونسی جمہوریت سیکھی تھی؟ کیا وہ سیکولر جمہوریت تھی یا اسلامی جمہوریت ؟ ان دونوں تصورات میں ایک واضح فرق ہے جسے ذہن میں رکھنا چاہیے، وہ یہ کہ مغربی جمہوریت کے مطابق مذہب اور سیاست ایک دوسرے سے بالکل الگ اور لاتعلق ہوتے ہیں، یہ لوگوں کا انفرادی معاملہ سمجھا جاتا ہے ،جبکہ مسلمانوں کے نزدیک اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لئے اسکی سیاست بھی اسلامی اصولوں کے تابع ہے…..تقریروں میں کبھی بھی لفظ سیکولرازم استعمال نہیں کیا جبکہ اسلام انکی تقریروں اور تحریروں کا محور نظر آتا ہے۔
یوں تو قائداعظم کی تقاریر میں بہت سے حوالے ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوگا کہ قائداعظمؒ کے خیالات میں ایک تسلسل تھا اور وہ مسلسل پاکستان میں اسلامی جمہوری نظام کا تصور پیش کرتے رہے بلکہ وعدہ کرتے رہے لیکن میں اس حوالے سے چند ایک اقتباسات پیش کررہاہوں جن سے قائداعطم کی سوچ اور ویژن سمجھنے میں مدد ملے گی۔
(نومبر1945ءمیں قائداعظم نے پشاور میں کہا)
”آپ نے سپاسنانے میں مجھ سے پوچھا ہے کہ پاکستان میں کونسا قانون ہوگا، مجھے آپ کے سوال پرسخت افسوس ہے، مسلمانوں کا ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب پر ایمان ہے، یہی مسلمانوں کا قانون ہے اور بس ،اسلام پاکستان کے انون کی بنیاد ہوگا اور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا“۔
(14 فروری 1947ءکو شاہی دربار سبی، بلوچستان میں تقریر کرتے ہوئے کہا)
میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اسوة حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنیوالے پیغمبر اسلام نے دیا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیاد صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پررکھیں“۔
(30اکتوبر 1947ءکو لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا)
اگر ہم قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں تو بالآخر فتح ہماری ہوگی، میرا آپ تمام لوگوں سے یہی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کریں“۔
(25جنوری1948ءعید میلاد النبی کے موقع پر)
25جنوری 1948ءکو عید میلاد النبی کے موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے استقبالے میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم ؒ نے وکلاءکے سامنے ان حضرات کو بے نقاب کیا جو انکے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلارہے تھے، اس وقت قائداعظم پاکستان کے گورنر جنرل بھی تھے اس لئے انکے منہ سے نکلا ہوا ہرلفظ ”پالیسی بیان“ کی حیثیت رکھتاتھا، قائداعظم ؒ کے الفاظ پر غور کیجئے اور ان الفاظ کے آئینے میں ان چہروں کو تلاد کیجئے جنہیں قائداعظمؒ نے شرارتی اور منافق کہا، قائداعطم نے کہا !
”میں ان لوگوں کے عزائم نہیں سمجھ سکا جو جان بوجھ کر شرارت کررہے ہیں اور یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ پاکستا ن کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی، ہماری زندگی پر آج بھی اسلامی اصولوں کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح 1300سال پہلے ہوتاتھا، اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے اس لئے کسی کو بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں “۔

(پھرفروری 1948ءمیں قائداعظم نے امریکی عوام کے نام ایک ریڈیو پیغام میںیہ واضح الفاظ کہہ کر نہ صرف ہر قسم کے شکوک و شبہات کی دھند صاف کردی بلکہ اس بحث کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سمیٹ دیا،قائداعظم نے فرمایا )
”پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ابھی دستور بنانا ہے، مجھے علم نہیں کہ اس کی حتمی شکل و صورت کیا ہوگی، لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری قسم کا ہوگا جسے اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائیگا، اسلام کے اصول آج بھی عملی زندگی پر اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح 1300سال قبل ہوتے تھے، اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے، ہم ان شاندار روایات کے امین اور وارث ہیں اور دستور سازی میں انہی سے رہنمائی حاصل کی جائیگی،بہرحال پاکستان ایک تھیوکریٹ (مذہبی ریاست )نہیں ہوگی“۔
قائداعظم ؒ مسلسل یہ کہتے رہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، سیرت النبی ہمارے لئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے ، جمہوریت ،مساوات اور انصاف ہم نے اسلام سے سیکھا ہے اور اسلام نے جمہوریت کی بنیاد 1300برس قبل رکھ دی تھی،اسلئے ہمارے لئے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہونگے اور یہ کہ ہمارے نبی کریم نے یہودیوں عیسائیوں سے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا تھا ہم اس پر عمل کرینگے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں رکھی جائیگی وہ سازشی اور منافق ہیں اور آخر میں یہ کہہ کر تمام شکوک و شبہات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہوگا اور اسکی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائیگی، گویا جہاں تک نظام حکومت کا تعلق ہے قائداعظم کا تصور پاکستان پوری طرح واضح ہے اور وہ یہ کہ قائداعظم ؒ ایک اسلامی اور اخلاقی جمہوری پاکستان چاہتے تھے اور اگر وہ زندہ رہتے تو ہمارا آئین یقینا انہی بنیادوں پر تشکیل دیا جاتا۔
(کالم نگارممتازمحقق اوردانشورہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved