تازہ تر ین

جمیل الدین عالی کی یاد میں

اعتبار ساجد……..قلم کہانی
جیوے جیوے پاکستان، اے وطن کے سجیلے جوانو اور” ہم مصطفوی، مصطفوی، مصطفوی ہیں“ جیسے لازوال ملی نغموں کے خالق، پاکستان کے واحددوہا نگار، نامور ادیب، دانشور، شاعر اور کالم نگار جمیل الدین عالی ایک طویل عمر تک بے شمار قیمتی یادگاریں، نادر تخلیقات اور ناقابل فراموش ادبی خدمات سرانجام دینے کے بعد اس جہان فانی سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ جمیل الدین عالی کی خوبصورت پاٹ دار آواز میں جب فضا میں ان کے دوہے گونجتے تھے تو سارا پنڈال جھوم اٹھتا تھا۔ اتنی میٹھی اور رسیلی، درد بھری آواز تھی کہ پتھر سے پتھر دل انسان کو پگھلا کے رکھ دیتی تھی مگر ان کی شاعری فقط دوہوں تک محدود نہیں تھی، غزلوں، نظموں، قطعات تک پھیلی ہوئی تھی۔ ”نقار خانے میں“ کے عنوان سے ان کے کالم کی ایک ایک سطر کو بغور پڑھا جاتا تھا وہ جس کے حق میں یا اختلاف میں کچھ لکھ دیتے تو جواب میں خطوط کا تانتا بندھ جاتا تھا۔ لباس اور خوراک کے معاملے میں وہ شروع ہی سے بہت نفاست پسند تھے۔ کم کھاتے تھے مگر اچھا کھاتے تھے۔ لباس ہمیشہ ان کے بدن پر ایسا جچتا تھا جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔ چمکتے دمکتے جمیل الدین عالی اپنے دوہوں میں خود کو ”عالی جی“ کہہ کر متعارف کراتے تھے ۔رفتہ رفتہ یہی ”عالی جی“ ان کا شناختی نام بن گیا۔ وہ مولوی عبدالحق جیسے اُردو کے سربرآوردہ دانشور کے ساتھ مل کر اُردو کی لغات کا مشکل ترین فریضہ سرانجام دینے کے علاوہ پاکستان رائیٹرز گلڈ کے بانیوں میں بھی نمایاں کردار کے حامل شخص تھے۔ اُردو سے متعلق ہر کام میں عالی جی کا ہاتھ شامل ہوتا تھا انہوں نے پاکستان میں فروغ اُردو کے لئے بڑی محنت اور جانفشانی سے کام کیا۔ حتیٰ کہ اُردو یونیورسٹی کا قیام بھی انہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہیں صدارتی ایوارڈ، تمغہ امتیاز اور بے شمار اعزازات ملے، بے پناہ عزت اور شہرت ملی لیکن عملی زندگی میں ہم نے دیکھا کہ وہ نہایت دھیمے، میٹھے اور درویش صفت منکسر المزاج انسان تھے۔ کبھی اپنے چھوٹوں پر اپنی بڑائی کا رعب نہیں ڈالتے تھے۔ ہمیں کئی مرتبہ ان کی صدارت میں مشاعروں میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ مگر دعا سلام رسمی رسمی سی رہی کیونکہ ہم بہرحال بہت گمنام، بہت شرمیلے اور بہت کم گو تھے۔ زیادہ سے زیادہ اپنے بڑوں کو جھک کر سلام کر سکتے تھے ان کی دُعائیں لے سکتے تھے لیکن اس قابل نہیں تھے کہ کسی موضوع پر ان سے گفتگو کر سکیں۔ اللہ بڑا کارساز ہے۔ یہ موقع ہمیں 18 جولائی 1998ءکو کراچی کے ایک بڑے فرشی مشاعرے میں حاصل ہوا جس کی صدارت جمیل الدین عالی کر رہے تھے۔ اس زمانے میں ہم ترنم سے لہک لہک کر اپنا کلام پڑھا کرتے تھے اور ہماری ایک غزل ہمارے قیام کوئٹہ کے زمانے میں پورے ملک میں پھیل چکی تھی جس کے چند اشعار یہ تھے۔
خوابِ تعمیر وطن دیکھنے والے چپ ہیں
ظلمتیں محوِ تکلم ہیں، اجالے چپ ہیں
کیسے اجڑا یہ چمن، ہم نے اٹھایا ہے سوال
اس پہ تاریخ ِگلستاں کے حوالے چپ ہیں
لوگ مٹی سے تعلق کی سند مانگتے ہیں
ماں! تیرے لال، تیری گود کے پالے چپ ہیں
جب یہ عالم ہو تو رودادِ سفر کون کہے
یعنی ہونٹوں کی طرح پاﺅں کے چھالے چپ ہیں
مسئلہ یہ ہے مرے عہدِ سخن کا ساجد
بولتے سب ہیں مگر بولنے والے چپ ہیں
جب ہم نے عالی جی کی صدارت میں لہک لہک کر یہ غزل پڑھنی شروع کی تو وہ ہر شعر پر ہماری پیٹھ تھپکنے لگے، ہر شعر پر واہ وا اور مکرر مکرر کہنے لگے، اس محفل میں نامور نقاد مشفق خواجہ اور ڈاکٹر قاسم پیرزادہ، رمشاءصدیقی کے علاوہ بے شمار لوگ موجود تھے، سب نے کھل کر داد دی۔ لیکن سب سے زیادہ داد عالی جی نے گلے لگا کر دی۔ مشاعرے کے اختتام پر ہم سے پوچھا کہ کراچی میں قیام کہاں ہے۔ ہم نے پتہ بتایا تو فرمانے لگے ”کل دوپہر کو میں گاڑی بھیج دوں گا۔ ڈرائیور آپ کو بورن وسٹا( سمندر کے کنارے‘ان کی رہائش گاہ) پر لے آئے گا۔ اپنی بیگم کے ساتھ آنا اور کھانا ہمارے ساتھ کھانا ….اگلے روز گیارہ بجے ڈرائیور چمکتی دمکتی کار لے کر پہنچ گیا۔ ہم اپنی بیگم کے ہمراہ بورن وسٹا پہنچے۔ عالی جی بالائی منزل پر رہتے تھے۔ ہم لفٹ کے ذریعے اوپر پہنچے تو دروازہ کھلتے ہی عالی جی اور ان کی اہلیہ محترمہ نے ہم دونوں کا استقبال بزرگ عزیزوں کی طرح کیا۔ کھانے کے دوران عالی جی گفتگو کرتے رہے۔ ہم نے محسوس کیا کہ ہماری آمد سے وہ بہت خوش ہوئے ہیں۔ اگلے روز اس کا اظہار انہوں نے اپنے کالم میں بڑے خوشگوار انداز میں کیا۔ ہم روانہ ہونے لگے تو عالی جی نے ہمیں اپنی کتاب ”لاحاصل“ کا نسخہ اپنے آٹو گراف کے ساتھ انتہائی شفقت سے عنایت کیا۔ ان کی اہلیہ محترمہ نے ہماری بیگم کو ایک خوبصورت بیگ میں تحائف دیئے۔ اس گھر سے ہم اس طرح رخصت ہوئے جیسے اپنے عزیز ترین بزرگوں سے رخصت ہوا جاتا ہے۔ بعد میں جب بھی ہم کراچی گئے۔ عالی جی سے ضرور ملے۔ ہمیشہ انہوں نے گہری اپنائیت اور شفقت کا اظہار کیا۔ ہمیشہ ایک سوال ضرور کیا۔ ”کیوں بھئی اعتبار میاں! کچھ نیا کہا؟ یعنی مزید کلام تخلیق کیا؟ ہم نے ہر ملاقات پر اپنی ناچیز کارکردگی کی اطلاع ان کی خدمت میں نئی کتاب پیش کر کے دی۔ چند ماہ قبل جب ہم ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے عامر مسعود شیخ کی دعوت پر کراچی گئے تو عالی جی سے رابطہ کیا۔ معلوم ہوا کہ علیل ہیں اور آرام کر رہے ہیں۔ تین چار دن کے قیام کے دوران جب بھی رابطے کی کی کوشش کی ان کے صاحبزادے نے یہی اطلاع دی کہ آپ کا سلام پہنچا دیا تھا۔ بہت خوش ہو رہے تھے، بہت دُعائیں دے رہے تھے اس وقت آرام کر رہے ہیں۔ جونہی اٹھیں گے میں آپ کے بارے میں بتا دوں گا۔ افسوس، عالی جی کے آخری ایام زیست میں ہم ان کی آواز تک سے محروم رہے۔ ان سے آخری ملاقات کراچی آرٹس کونسل کی ایک تقریب میں ہوئی تھی خاصا ہجوم تھا۔ تقریب کے بعد ان سے ملا تو انہوں نے حسب سابق گلے سے لگایا۔ ہم نے محسوس کیا کہ عالی جی میں پہلی سی چمک دمک نہیں رہی، غالباً بیماری اور طویل العمری نے ان پر اثر ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم ان کے خلوص اور شفقت میں کوئی کمی نظر نہیں آئی، آف وائٹ شلوار قمیص اور کرنڈی کی خوبصورت واسکٹ کی جیب میں سے جھانکتا ہوا سرخ رومال بہت پیارا لگ رہا تھا۔ وہ ہم سے باتیں کر ہی رہے تھے کہ فہمیدہ ریاض آ گئیں وہ غالباً کسی بات کے حوالے سے فوری طور پر ان سے کچھ کہنا چاہتی تھیں لہٰذا عالی جی ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ہم انور شعور سے باتیںکرنے لگے اس بھیڑبھاڑ میں کوئی ادھر گیا، کوئی اُدھر گیا۔ عالی جی سے رخصتی مصافحہ اور الوداعی سلام کا موقع ہی نہ مل سکا۔ اب وہ کراچی ہی نہیں اس دنیا سے بھی چلے گئے ہیں لیکن اپنی خوشبو، اپنی محبت، اپنی تخلیقات، اپنی خدمات اردو ادب کے لئے چھوڑ گئے ہیں۔ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس امانت کو سینت سینت کر رکھیں اور بحفاظت اگلی نسلوں تک پہنچائیں۔ سردست تو پلکیں نم ہیں، ہم آنسو پونچھ رہے ہیں اور ہر اس لمحے کو یاد کر رہے ہیں جو عالی جی کی شفقت کے سائے میں گزرا۔ جانے کیوں عالی جی کی یہ غزل یاد آ رہی ہے۔
کچھ دن گزرے عالی صاحب، عالی جی کہلاتے تھے
محفل محفل، قریے قرے شعر سنانے جاتے تھے
قدرِ سخن ہم کیا جانیں ہاں رنگِ سخن کچھ ایسا تھا
اچھے اچھے کہنے والے اپنے پاس بٹھاتے تھے
دوہے پڑھنے اور کہنے کا ایسا ڈھنگ نکالا تھا
سننے والے سر دُھنتے تھے اور پہروں پڑھواتے تھے
پھر یہ دیکھا، لڑکے بالے ہنستے تھے اور عالی جی
فردیں کتنے مسلیں پڑھتے، بیٹھے گلڈ جلاتے تھے
(کالم نگارمعروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved