تازہ تر ین

مودی، بھارت کا سب سے بڑا دشمن

حیات عبداللہ……..انگارے
اظہار اسلوب کے برق رفتار آلات، اسباب اور ذرائع رکھنے والی، جان داروں کے خلیوں کے اندر تک گھس کر ان کی ماہیت، ساخت اور اجزائے ترکیبی تک کو کھوج لینے والی اس دنیا کو کیا ہو چلا؟ اس کی بصارت اور سماعت میں سے صداقت اور دیانت کیوں بے دخل کر دی گئی؟ اس کی فہمایش میں اتنی گنجایش کون سے جذبے کے باعث مفقود ہو کر رہ گئی کہ اس کے لیے بھارت کے دہشت گرد خمیر اور بدخواہ ضمیر کو تسلیم کرنا کارِ محال ہو چکا۔ تسلیم و رضا اور انکار و اقرار کی آزادی کی اس طرح بربادی تو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ان تمہیدی کلمات کا مقصود قطعاً یہ نہیں ہے کہ ہمیں بھارت سے لڑنے کے لیے کسی ”ایرے غیرے “کے دوچار مٹھڑے بول اور بیساکھیوں کے سہارے کی ضرورت ہے۔ نہیں، الحمدللہ! ہم اکیلے ہی بھارت کو ایسا سبق سکھا دینے کی مکمل آب و تاب رکھتے ہیں کہ آہ و فغاں کا ہر منظر، سسکیوں اور ہچکیوں کا ہر سماں بھارت کے گلی کوچوں میں بپا کر دیا جائے۔ مطلوب تو محض یہ ہے کہ اعلیٰ تہذیب کے دائرے میں پلنے والی قوتیں، تحمل، بردباری اور قوتِ برداشت کا سبق ازبر کروانے والی اس جدید دنیا کے احساسات کے کواڑ مسلمانوں کے متعلق کیوں مکمل طور پر مقفل کر دیے گئے ہیں؟ فلپائن کے صدر رودریگودوتیرتے نے ہولوکاسٹ کے متعلق محض چند الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ یہ الفاظ یہودی دنیا پر برقِ تپاں بن کر گرے اور دنیا بھر کے یہودیوں میں ایک بھونچال سا آ گیا تھا۔ ہولوکاسٹ پر نقد و جرح کا ایک شبد بھی یہودیوں کی طبع نازک پر کوہِ گراں بن کر گرتا ہے اور اس کی تلافی کے لیے ساری صلاحیتیں کھپا دی جاتی ہیں۔ عالمی یہودی کانگریس کے صدر رونلڈ ایس لارڈ نے فلپائن کے صدر کو واضح پیغام دیا تھا کہ وہ معافی مانگے۔ امریکا میں موجود یہودی تنظیم ایٹی ڈیفی میشن لیگ بھی ان حروفِ طعن پر مشتعل ہو گئی۔ اس جدید دنیا کی یہ عجیب حسنِ کرشمہ سازی ہے کہ اس کے کٹیلے نینوں کی بصارت کے کسی زاویے اور رسیلے ہونٹوں کی حرکات و سکنات کے کسی اتار چڑھاﺅ میں اہلِ کشمیر کے لیے التفات کے اظہار کا کوئی شگوفہ نہیں کھلتا۔ بھارت نے ساکنانِ کشمیر کے جسم چھید ڈالے، ان کی آنکھیں پھوڑ ڈالیں؛ ان پر ہمہ قسم کی قدغنیں عائد کر دیں مگر امتدادِ زمانہ، نیرنگیِ دوراں اور ماہ و سال کے کسی ایک حصّے میں دنیا نے ان کے درد کا درماں کرنے کے لیے ان کی سوچ اور فکر کے ساتھ ہم آہنگی اور مزاج کے ساتھ امتزاج کی بھی جسارت نہ کی۔
ہم روشن آنکھوں والوں کے
سب خواب شکستہ ہوتے ہیں
حیرت اس بات پر ہے کہ آج دہشت گردی کی تعریف کو بھی کسی تجریدی آرٹ کی لکیروں کی طرح دشوار بنا دیا گیا ہے۔ عالمی طاقتوں کی یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو شخص خود دہشت گردی کا اعتراف کرے اسے امن و شانتی کا سفیر جب کہ وہ شخص جو امن و آشتی کا پیام عام کرے اسے دہشت گرد سمجھ لیا جاتا ہے۔ مودی نے کہا کہ ہم نے1971ءمیں پاکستان کو دولخت کیا تھا، کیا یہ دہشت گردی کا اعتراف نہیں تھا؟ مودی نے احمد آباد اور گجرات کے مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا اور کہا کہ آئندہ بھی ایسا کرنے میں مجھے دیر نہیں لگے گی، کیا یہ دہشت گردی نہیں تھی؟ بھارت کے پردھان منتری نے مانا کہ بلوچستان میں اس کے رابطے دہشت گردوں سے ہیں، کیا قیام امن کے چارہ سازوں کے نزدیک یہ دہشت گردی نہیں؟ کیا مودی نے بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے کا طومار پاکستان پر باندھ کر ایک ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان کو سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی نہیں دی؟ کیا امن کی بانسری بجانے والے گویّوں کے نزدیک یہ دہشت گردی نہیں؟ اس نے کہا میں پاکستان کو تنہا کر دوں گا، پھر کہا میں دریاﺅں کا پانی بند کر دوں گا کیوں کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہ سکتے۔ کیا یہ دہشت گردی اور جارحیت نہیں تھی؟ کیا بابری مسجد کو شہید کر دینا دہشت گردی نہیں؟ کیا سمجھوتا ایکسپریس اور مالیگاﺅں کے واقعات دہشت گردی کے قبیل سے تعلق نہیں رکھتے؟ سری لنکا میں تامل باغی بھارتی ریاست کی زیرتربیت اور پشت پناہی سے کام کرتے رہے، کیا یہ دہشت گردی نہیں تھی؟ کیا مقبوضہ کشمیر کے لوگ اپنے ایک لاکھ سے زائد شہدا کے خون کو اتنی آسانی کے ساتھ بھول سکتے ہیں؟ کیا کشمیر کے چناروں، دریاﺅں، ندی نالوں، چشموں اور جھیلوں میں کشمیر کے اہل جنوں کا خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ رہے؟ مودی یاد رکھے کہ جب مقبوضہ کشمیر میں مظلوموں کا خون اور پانی ایک ساتھ بہ سکتے ہیں تو بھارتی جارحیت کے جواب میں بھارتی فوج کا خون اور دریاﺅں کا پانی بھی ایک ساتھ بہنے سے کوئی روک ہی نہیں سکتا۔
زندگی اتنی غنیمت بھی نہیں، جس کے لیے
عہدِ کم ظرف کی ہر بات گوارا کر لیں
باریک بینی کی سطحِ مرتفع پر مسند نشینی کی دعوے دار اس دنیا کی اہلِ کشمیر کے خوابوں کی بھٹکتی تعبیروں، تکمیل کی جانب ہمکتی اور سرگرداں ان کی خواہشوں اور کاوشوں اور ان کے جسم و جاں پر بھارتی استبداد کے باعث المناک حقیقتوں سے صرفِ نظر برتنے کی محض ایک ہی وجہ ہے کہ وہ لوگ مسلمان ہیں۔ تعصّب کی گھٹا ٹوپ گھٹائیں اتنی کالی اور سیاہ ہو جائیں تو دنیا میں امن کی فاختاو¿ں کو کچھ دکھائی اور سجھائی نہیں دے سکے گا۔ جنوبی ایشیا کے اس خطّے پر مقبوضہ کشمیر ایک رِستا ہوا گھاﺅہے اور اس گھاﺅ کے باعث اہلِ کشمیر کے سینوں میں بھارت کے خلاف نفرت کے الاﺅ دہک رہے ہیں۔ مصائب و آلام میں گِھرے کشمیریوں کو ایک طویل عرصہ بیت چکا۔ پاکستان کی طرف دیکھتے دیکھتے اہلِ کشمیر کی آنکھیں پتھرا چکیں۔ درد و الم کے مارے وہ لوگ یہ نہ کہنے پر مجبور جائیں۔
تمہاری سرد مہری سے الجھنے سے تو بہتر تھا
ہم اپنی ذات کے قصّے در و دیوار سے کہتے
کشمیر کا بچّہ بچّہ آزادی پر مر مٹنا تو گوارا کر سکتا ہے مگر بھارتی تسلّط کل قبول تھا نہ آج تسلیم ہے۔ سو دنیا کشمیریوں کے درد کا ادراک کرے، اگر دنیا نے اس انتہائی حساس مسئلے میں غفلت کا مظاہرہ کیا تو پھر یہ یاد رکھے مودی بھارت کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہو سکتا ہے جو بھارت کو تباہ کروا دے گا۔
(کالم نگارقومی وسماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved