تازہ تر ین

میں شرمندہ ہوں !!!

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی اور احمد علی اولکھ کے درمیان لیہ کی تحصیل کروڑ کے کچہ کے علاقہ میں ہونیوالے ایک حالیہ واقعہ سے پہلے ہی میں اتفاق سے تھل کے سیاستدانوں کی سوشل میڈیا پر ان کی تقریروں میں استعمال کی گئی زبان کو سن رہا تھا۔ ایک بار سن کر پھر سنتا تھا تاکہ ان کے الفاظ کے پیچھے کھڑی فرعونیت کو سمجھ سکوں۔ اس دوران کروڑ میں یہ واقعہ ہوگیا جس میں پہلے مجید خان نیازی نے رکن صوبائی اسمبلی کو گالیاں دیں پھربھی تسلی نہیں ہوئی تو اس کو عملی طورپر سبق سکھانے کیلئے ایک ڈیرے پر اخلاقی قدروں کو پس پشت ڈال کر آپریشن کیا گیا۔ ادھر بعدازاں اولکھ کے بیٹے اور حمایتیوں کی طرف سے بھی کوئی کمی نہیں رکھی گئی جو ان کے منہ میں آیا ، انہوں نے بھی کروڑ کے چوک میں کھڑے ہوکر مجید نیازی کے بارے کہا۔ بہرحال نیازی اور اولکھ کے دریائے سندھ کنارے ہونیوالے تنازع پر بات کرتے ہیں لیکن تھل کے دیگرسابق ارکان اسمبلی کی جلسوں میں استعمال کی گئی زبان بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کو یہاں پر لکھا جاسکے۔ سابق رکن صوبائی اسمبلی کی چوبارہ میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میںلاﺅڈ اسپیکر پر اپنے مخالفین کیلئے وہ زبان استعمال کی کہ اللہ کی پناہ۔ مطلب ان کی تقریر میں لوگ کے الٹے ناموں کے علاوہ ان کی قوموں کو چھوٹا قراردینے جیسی حرکت کی گئی ہے۔ ان کی تقریر میں عیاں تھا کہ پوری تحصیل چوبارہ میں ان کے علاوہ کوئی عزت دار بندہ نہیں رہتا ہے۔ وہ سیاسی مخالفین کو انتہائی گری ہوئی زبان میں مخاطب کررہے تھے۔عوامی جلسہ میں کھڑے ہوکر کہہ رہے تھے ”دوستو آج میں مجبوراً کچھ ایسی باتیں کرنا چاہتاہوں کہ وہ کہتے ہیں نا ، جلے ہوئے بندے کے منہ سے کوئلے نکلتے ہیں۔پھر کہا کہ دنیا میں کچھ ایس لوگ پیدا ہوئے ہیں ، جن کو ساری زندگی …. نہیں آنی ہے۔ سب سے بڑا …. چوک اعظم کا ہے ، جس کو میں نے کمیٹی کا چیئرمین بنایا ، وہ اٹھ کر میرے گلے لگ گیا۔ میرے مقابلے میں الیکشن لڑا۔ دوسرے نمبر پر ایک شخص ہے ، جو مانگا منڈی سے آیا ہے،جس کا آگے اور پیچھے کا کوئی پتہ نہیں ہے ، میں نے اسے یونین کونسل کا وائس چیرمین بنایا، اس نے ڈبو کی طرح میرے ساتھ سلوک کرنا شروع کردیاجس بندے پر بندہ احسان کرے اور جو اپنے محسن سے اس طرح سلوک کرے، وہ بندہ …. ہوتا ہے ۔ تیسرا …. ایک شخص 369 ٹی ڈی اے کا ہے، جس کو وائس چیئرمین بنایا، وہ بھی میرے پیچھے پڑا گیا ۔ایک اور سیاسی مخالف ہے اس پر لکھ دی لعنت ۔ جب سے میں سیاست میں آیا ہوں،میں نے اس کی مدد کی اس کے بیٹوں کو کئی بار جیل سے چھڑایا، ، ان کی زمینوں کے فیصلے کروائے،۔وغیرہ وغیرہ“ یہ توتھے ان کے زبانی ارشادات۔ اب تھل کے ایک اور کردار ہیں ان کی زبان اور انداز کو ملاحظ فرمالیں تاکہ سند رہے، ایک امیدوار جوکہ الیکشن مہم میں ووٹ مانگنے گیا، ان کے سیاسی انتقام سے تنگ افراد نے ووٹ دینے سے انکار کردیا تو موصوف کا اصل چہرہ باہر آگیا اور ووٹر استاد کے گھر کھڑے ہوکر اس کو دھمکی اس انداز میں دی کہ، میں تم سے اچھی کرتا نا ، تو تم مجھے آج ایسے جواب نہ دیتے ، میں تم کو ٹھوکاں ہاں ، تم آتے میری منتیں کرتے، تمہارا تبادلہ کینسل ہوتا، آج تم میرا جھنڈا لگا کر بیٹھے ہوتے،۔یہ شخص اس جماعت کا رکن صوبائی اسمبلی ہے جوکہ وزیراعظم عمران خان کو سلیکٹیڈ کا طعنہ دیتے نہیں تھکتی لیکن ادھر ان کا اپنا رکن صوبائی اسمبلی الیکشن مہم میں لوگوں کو اس انداز میں دھمکا رہاتھا اور سبق سکھارہاتھا۔ اور اپنے آپ کو الیکٹیڈ سمجھتاہے۔ تھل میں سیاستدانوں کے چہرے لاہور ، اسلام آباد میں تو اور ہوتے ہیں لیکن جونہی اپنے علاقوں میں ہوتے ہیں، ان کا رویہ یکسر بدل جاتاہے اور گفتگو میں فرعونیت کی واضح جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس طرح کی گفتگو نہ صرف تھل کے ان چند سیاستدانوں تک محدود ہے بلکہ اور بھی اس طرح بہت سارے کردار ہیں جن کی گفتگو ریکارڈ پر ہے، جوکہ تھل کے عوام کے مزاج کی ترجمانی نہیں کرتی ہے۔
اب واپس آتے ہیں رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی اور احمد علی اولکھ کے واقعہ کی طرف ،مجید خان کے الفاظ کو یہاں پر قلمبند ہی نہیں کیاجاسکتاہے۔اس کوشش کے باوجود کہ ان کے کہے گئے لفظوں کی زہر نکالنے کی کوشش بھی کروں۔ پہلی بات تو یہ ہے کچہ کے علاقہ میں سیاست کیلئے ایک نصاب یہ بنادیاگیاہے کہ آپ کو سیاستدان کیساتھ ایک بدنام زمانہ کردار یا خود بننا ہوگا یا پھر فیملی ممبر کو متعارف کروانا ہوگا تاکہ آپ کامیاب سیاستدان بن سکیں اور لوگ آپ سے خوف کھائیں ۔ یوں اسی کا شکار مجیدخان نیازی ہوئے ہیں، انہوںنے اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ ان کی اس طرح کی گندی زبان موصوف کو خود بھی مشکلات کا شکار کررہی ہے، اس کیساتھ ساتھ ان کے چاہنے والوں کو بھی بددلی کا شکار کررہی ہے۔ دریائے سندھ کے کٹاو سے عوام کو بچانے کیلئے فنڈز انہوں نے منظور کروائے تھے تو عوام کو جلسہ کرکے اپنے اس عوام دوستی کے بارے میں بتاتے اور واضح کرتے کہ احمد علی اولکھ کا ان فنڈز سے کوئی تعلق نہیں ہے، بات ختم ہوجاتی۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس کرکے الٹا اپنے آپ کو اس جال میں پھنسا لیاہے جوکہ اس کے سیاسی مخالف بڑی دیر سے لگا کر بیٹھے تھے کہ موصوف غلطی کرے اور وہ اس کی سیاست کی کشتی کو دریا برد کریں۔اسی طرح احمد علی اولکھ بھی اگر سمجھتے تھے کہ فنڈز ان کی وجہ سے تھے تو وہ بھی جلسہ کرسکتے تھے یا پھر کوئی کارنر میٹنگ کرسکتے تھے کہ انہوں نے دریا کے کٹاوکو روکنے کیلئے فنڈز منظور کروائے ہیں لیکن انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا اور اپنی سیاسی زندگی کو ایک الجھنا میں الجھا لیا ہے۔ پھر ان کے بیٹے اور حمایتوں کی طرف سے بھی کوئی ایسی زبان استعمال نہیں کی گئی جوکہ حوصلہ افزاءہوتی۔اس بات سے اتفاق ہے کہ اولکھ کیساتھ قابل مذمت واقعہ ہوا ہے۔
اب ان کی اس گفتگو سے نکلتے ہیں اور ان کی طرف آتے ہیں جن کے سونا اگلتی زمنیں، گھر بار اور زندگی کا پورا چل چلاو دریائے سندھ لے گیا ہے اور وہ دربدر ہوگئے ہیںاور باقی ماندہ لوگوں کے سر پر تلوار لٹک رہی ہے کہ کب دریائے سندھ ان کا بھی سب کچھ نہ لے جائے۔ڈاکٹر جاوید کنجال کا دریائے کے کٹاو پر کہنا تھا کہ جوآگ سے جل جائے وہ تو آباد ہوسکتاہے لیکن جو دریائے کے کٹاو کا شکار ہوجائے وہ دوبارہ نہیں آباد ہوسکتاہے۔ ظاہر دریا کے کٹاو تو زلزلہ سے بھی زیادہ خطرناک یوں ہے کہ زلزلہ میں پھر بھی بہت کچھ بچ جاتاہے لیکن دریا کاٹے تو پھر زندگی نہیں ہوتی حد نظر پانی ہوتاہے۔ آپ کا گھر، ڈھور ڈنگر سے زمینوں تک دریا لے جاتاہے۔دریائے سندھ کیساتھ علاقوں کو خوشحالی کی بدولت ایک وقت میںکچہ کے علاقہ کو ،کچھی سونے کی پچھی، قرار دیا جاتا تھا لیکن دریائے سندھ کے مسلسل کٹاو کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی زندگی نا قابل بیان حد تک مشکلات کا شکار ہوگئی ہیں ۔ پنجاب حکومت خاص طور ضلعی انتظامیہ لیہ کا کردار رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی اور اولکھ کے واقعہ کے بعد انتہائی مایوس کن یوں ہے، ابھی تک دریائی کٹاو کو روکنے کیلئے سروے نہیں کروایا گیاہے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے انتظامیہ بیٹھی ہوئی ہے۔ فنڈز اسی طرح پڑے ہوئے ہیں، ڈر ہے کہ پہلے کی طرح لیہ کے فنڈز لاہور یا پھر ڈیرہ غازی خان منتقل نہ کردیئے جائیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈپٹی کمشنر لیہ سروے کرواتے اور ہنگامی طورپر دریائے سندھ کے کٹاو کو روکنے کیلئے عملی اقدامات اٹھاتے لیکن پتہ نہیں وہ ایسا کیوں نہیں کررہے ہیں ؟ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ کچھ مقامی لوگ اس بات کا تذکرہ کررہے ہیں کہ دریاکے کٹاﺅ کو روکنے کیلئے ملنے والے فنڈز پر بڑا بننے کے پیچھے کمیشن کا عمل دخل ہے، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہاہے۔ اس کٹاﺅ کو ہمیشہ کیلئے نہ روکنے کے پیچھے بھی یہاں وہی سائنس ہے کہ کمیشن چلتارہے۔ دریا میں ہی پتھر ڈالناہے نا ، اس کو بھلا کس نے چیک کرناہے ؟ یوں یہ دھندہ ہے پر گندا ہے۔اسی طرح سمجھداروں کا کہنا ہے، ظالم منہ کو لگی بھلا کب چھوٹتی ہے، اس کیلئے جو زبان اور جوذلت اٹھانی پڑے، بڑے بڑے گر جاتے ہیں، اس بات کو بھی نہیں دیکھتے ہیں کہ ان کی اس واردات کی وجہ سے دریائے سندھ کے کنارے آباد لوگ اور زمینیں تیزی کیساتھ دریا نگل رہا ہے۔ اس طرف بھی توجہ اور تحقیقات کی ضرورت ہے کہ لیہ میں دریاکے کٹاو کے سامنے سپر باندھنے کیلئے کس کس دور میں کتنے فنڈز جاری کیے گئے ہیں ؟ اور کتنے پتھر دریا میں ڈال کر مستقل بند باندھے گئے ہیں تاکہ پتہ چلے کہ عملی طورپر اس حوالے کیاہواہے یا پھر وہی بات ہے ، دھندہ ہے پر گندا ہے۔ ان ساری حقیقتوں کے باوجود عرض اتنا کرناہے کہ فوری طورپر لیہ اوراس کی تحصیل کروڑ کے کچہ کے علاقہ میں دریائے سندھ کٹاﺅکو روکنے کیلئے پنجاب حکومت فوری اقدامات کرے، وزیراعلی لیہ کا دورہ کریں۔ آخر پر میں بحیثیت تھل کے شہری کے یہاں کے سیاستدانوںکی گندی اور اخلاق سے گری ہوئی زبان پر شرمندہ ہوں اور آپ سے معذرت خواہ ہوں۔وہ اس پر فخر کرتے ہیں تو کرتے رہیں۔
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved