تازہ تر ین

مودی کا شکریہ

وجاہت علی خان….(مکتوب لندن)
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مذہبی انتہا پسندی کی رو میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے وہ کام کر دیا ہے جو خود کشمیری اورگزشتہ 72 سال سے پاکستان بھی نہیں کر سکا تھا۔ 1949ءسے لاگو آرٹیکل 370 کا خاتمہ دراصل نہ صرف کشمیریوں کی آزادی کا بگل ہے بلکہ بھارت کے طول و عرض میں چل رہی آزادی کی 135 تحاریک کیلئے بھی خوشی کا تازیانہ ہے۔ بھارت سے علیحدگی کی ان تحریکوں میں جموں و کشمیر کے علاوہ خالصتان کی آزادی کی تحریک، اروناچل پردیش، آسام، ناگا لینڈ جسے ایسٹ انڈین لبریشن فرنٹ بھی کہا جاتا ہے، نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ، یونائیٹڈ پیپل ڈیموکریٹک سالیڈیریٹی، کامٹاپور لبریشن آرگنائزیشن، بوڈو لبریشن ٹائیگر، بنگالی ٹائیگر فورس، گورکھا ٹائیگر فورس سمیت بیشمار ایسی ریاستیں اور اقلیتیں ہیں جو بھارت سے علیحدگی اور آزادی کی جدوجہد میں دہائیوں سے مصروف ہیں۔ ان تمام 135 تحریکوں کے اکابرین کو بھی مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اس کے مقبوضہ کشمیر بارے حالیہ اقدام سے اقوام متحدہ کو آخر کار وہ بات کہنا پڑی جس کیلئے سات دہائیوں سے کشمیری اور پاکستان جدوجہد کر رہا تھا، لیکن دنیا کے بڑے ملک اور اقوام متحدہ کبھی صاف طور پر اس ضمن میں بات نہیں کرتا تھا، لیکن گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریز کا بیان ملاحظہ کریں ”کشمیر کی حیثیت تبدیل نہ کی جائے، حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہو گا، کشمیر کے حالات پر ہماری نظر ہے۔“ دنیا کے تمام اہم ممالک نے مودی کے اس اقدام کی مذمت کی ہے، چین کی طرف سے بھی سخت ردعمل آیا کہ ”چین کشمیر پر پاکستان کا حامی ہے بھارت کا یہ قدم یکطرفہ امن کیلئے خطرہ ہے، مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت حل کیا جائے۔“چنانچہ میرے خیال میں تو مودی نادانستگی میں کشمیریوں اور بھارت کے تمام علیحدگی اور آزادی مانگ رہے لوگوں کیلئے ’مسیحا‘ کا روپ ہے جس پر یقینا اس کا شکریہ تو بنتا ہے لہٰذا اب اترپردیش، بہار، ویسٹ بنگال، جھاڑ کھنڈ ،اوڑیسہ، مہاراشٹر، کرناٹک، تامل ناڈو اورکیرالہ میں بھی آزادی کی تحریکوں میں تیزی آئے گی!!
سکھوں نے تو ایک ریفرنڈم کے ذریعے 2020ءکو اپنی آزادی کا سال قرار دے رکھا ہے۔ یہ سب تحاریک اب مودی کے گلے کی ہڈی بنیں گی، مودی نے آرٹیکل 370 ختم کر کے بھارت کو ایک ایسی آگ میں جھونک دیا ہے جس میں اسے ہر روز جھلسنا ہو گا اور شاید وہ وقت جلد آئے جب اکھنڈ بھارت کا خواب کئی آزاد ممالک کی شکل میں شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ادھر ایک معروف امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت دہشت گردوں کی جنت ہے، جریدے کے مطابق بھارت میں 317 دہشت گردی کے کیمپ موجود ہیں اس لیے یہ دنیا کا خطرناک ترین ملک اور دہشت گرد حملوں میں ہلاکتوں کے لحاظ سے عراق کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے۔ اسی جریدے کا ہی یہ کہنا ہے کہ علیحدگی کی زور پکڑتی تحریکوں کے باعث بھارت 2025ءتک کئی ٹکروں میں تقسیم ہو جائے گا۔ بھارت کے 162 اضلاع پر انتہا پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ آج تک دنیا میں عام تاثر یہی ہے کہ بھارت صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پورا بھارت ہی مذہبی، لسانی اور معاشرتی تعصبات اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔ پاکستان پر عسکریت پسند تنظیموں کی پشت پناہی کے الزام لگانے والے بھارت کی اپنی حالت یہ ہے کہ سرکاری سطح پر فرقہ واریت، لسانیت اور مذہبی اقلیتوں کو دبانے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، آج بھارت خود ہی اپنے آئین میں شامل کئے گئے لفظ ’سیکولر ازم‘ کو ختم کرنے کا مرتکب ہو رہا ہے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس ملک میں 135 علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہوں اور ملک کا وزیراعظم خود ایک انتہا پسند اور فاشسٹ پارٹی کا نمائندہ ہو ایسا دہشت پسند ملک کب تک ٹوٹنے سے بچ سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان عسکری تنظیموں میں تیس کے قریب ایسی ہیں جو بھارت کے وجود کو مسلسل کھوکھلا کر رہی ہیں جو آگے چل کر بھارت کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنیں گی۔
ایک آزاد سکھ مملکت کی تحریک یا خالصتان کے قیام کی موومنٹ جو 1980ءسے چلی آ رہی ہے حالانکہ بھارتی حکومت نے فوج اور پولیس کے ذریعے اس تحریک کو ختم کرنے کے لئے پُرتشدد کارروائیوں کی انتہا کر دی لیکن گزشتہ چند برسوں سے اس میں انتہائی تیزی آ چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں کینیڈا کے سکھوں کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت میں چار وزیر سکھ ہیں ان میں سے دو کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ وہ خالصتانی علیحدگی پسندوں سے ہمدردی رکھتے ہیں ان میں کینیڈا کے وزیر دفاع ہرجیت سجن بھی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب سے ٹروڈو وزیراعظم بنے ہیں انہوں نے سکھ انتہا پسندوں سے اپنی مبینہ قربت پر بھارتی حکومت کی تشویش کو نظر انداز کیا ہے، کینیڈا میں سکھوں کی ایک بڑی آبادی ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جسٹن ٹروڈو کی انتخابی کامیابی میں سکھ برادری نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ کینیڈا کے 16 گوردواروں نے گزشتہ سال سے بھارتی حکومت کے اہلکاروں، سفارتکاروں یہاں تک کہ منتخب نمائندوں تک کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ میں بھی تقریباً 100 گوردواروں نے بھی اس قسم کی پابندیاں لگائیں۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بھارت کی سیاست اور معیشت میں سکھوں کا بڑا حصہ ہے وہ ہمیشہ ملک کی مین سٹریم کا حصہ رہے ہیں لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ سکھ بھارتی پنجاب میں اپنا الگ ملک چاہتے ہیں، ملک میں تیزی سے اٹھتی اور اُبھرتی علیحدگی کی ان تحریکوں کو دبانے کے لئے بھارت نے 1958ءمیں ”آرمڈ فورسز پاور ایکٹ“ کے نام سے ایک کالا قانون بنایا تھا جس کے نفاذ کا صریح مقصد فوج کو خصوصی اور لامحدود اختیارات دے کر علیحدگی پسند رجحانات کو دبانا تھا اس قانون کے تحت ایک عام سپاہی کو بھی یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی بھی شخص کو غدار قرار دے کر اسے قتل کر سکتا ہے۔ چنانچہ اس قانون و اختیار کا انتہائی بھیانک طریقے سے استعمال کیا گیا اور کشمیر، منی پورہ، آسام و دیگر ریاستوں میں نہ صرف علیحدگی پسندوں بلکہ عام شہریوں کے خون سے بھی ہولی کھیلی گئی، بے دریغ قتل عام ہوا، غرض بھارتی فوج نے اس کالے قانون کی آڑ میں ہر جائز و ناجائز ذریعہ اورظلم و جبر تمام حربے استعمال کئے لہٰذا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علیحدگی پسند تحریکوں میں مزید تیزی آ گئی اور ان کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا۔ اس قدر ظلم و زیادتی کے بعد بھی آج حالات یہ ہےں کہ بھارت میں یہ علیحدگی پسند تحاریک پہلے سے زیادہ شدت سے آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں شائد یہی وجہ ہے کہ بھارت کا معاشی عدم استحکام بھی آج عروج پر ہے۔
بھارت کے تمام معاشی اعشاریے زبوں حالی کا شکار ہیں بھارت کا آزاد میڈیا جو رپورٹ کر رہا ہے اس کے مطابق ملک کے شیئر بازار میں تاریخ کی بدترین مندی ہے۔ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کار پیسہ انویسٹ کرنے سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں کیونکہ مودی سرکار کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث معاشی عدم استحکام بھی عروج پر ہے مثال کے طور پر مودی کے گزشتہ اور حالیہ دور کے دوران جیٹ ایئرویز بند ہو چکی ہے، ایئرانڈیا شدید ترین نقصان میں چل رہی ہے، بی ایس این ایل کمپنی کی 54,000 ملازمتیں خطرے میں ہیں، ’ایچ اے ایل‘ کمپنی دیوالیہ ہو چکی، محکمہ پوسٹ کو 15 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، ویڈیو کون بنک کرپٹ ہو چکی،ٹاٹا ڈکوسو، ایئر سیل اور جے پی گروپ جیسی کمپنیز تباہ ہو چکی ہیں۔ معاشی حالات اس قدر خراب ہیں کہ ”ٹاٹا گروپ“ جیسی ملٹی بلینئر کمپنی کی ملکیت، ملکیت تاج ہوٹل کے اثاثے فروخت کئے جا رہے ہیں۔ ملک کے 36 بڑے کاروباری افراد مقروض ہو کر ملک سے بھاگ چکے ہیں، حیران کن حد تک 35 ملین کروڑ روپے کے قرض ہیںجو واجب الادا ہیں لیکن کاروباری لوگ یہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں، بڑے بڑے بنک کھربوں روپے کا نقصان اٹھا رہے ہیں، ملکی خسارہ 131100 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، محکمہ ریلوے نجی سیکٹر کو فروخت کرنے کی باتیں چل رہی ہیں، لال قلعہ دلی اور تمام آثار قدیمہ تک کرایہ پر دی جا چکی ہیں۔ کروڑوں افراد ملک کے طول و عرض میں بیروزگار ہو چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پچھلے پچاس سال میں بیروزگاری کی حالیہ شرح بلند ترین سطح پر ہے، ملک کے پانچ بڑے ہوائی اڈے فروخت ہو چکے ہیں، کساد بازاری عروج پر ہے، ملک کی بڑی کار کمپنی ماروتی کی پروڈکشن آدھی سے بھی کم ہو چکی ہے، ملک بھر میں 55 ہزار کروڑ روپے کی نئی کاریں فیکٹریوں اور کار ڈیلروں کے پاس کھڑی ہیں مارکیٹ میں گاہک نایاب ہے، لیکن بھارت کے آزاد میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حکومتی کنٹرولڈ میڈیا یہ خبریں عوام کو نہیں دے رہا اوراب کشمیر کے حالیہ معاملہ کے بعد عدم استحکام میں مزید اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
بھارت آج ایک انتہا پسند شخص اور دہشت پسند تنظیم کے ہاتھ میں ہے ۔ملک سیکولر ہونے کا اپنا تشخص کھو بیٹھا ہے گو کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمہ سے کشمیریوں کی حق تلفی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے لیکن منصوبہ ساز دیوار کا لکھا پڑھنے میں مکمل ناکام ہوئے ہیں کیونکہ جنونیوں کے اس قدم سے تحریک کشمیر سمیت بھارت کی دیگر 134 تحاریک میں بھی تیزی آئے گی شائد کشمیر کی آزادی نزدیک تر ہے اور مودی حکومت نے جو گڑھا کشمیریوں کے لئے کھودا ہے۔ بھارت کی اپنی اکائی اس میں جا گرے۔
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved