تازہ تر ین

قیام پاکستان سے قائداعظم کے پاکستان تک(3)

ڈاکٹر صفدر محمود….خاص مضمون
اس ضمن میں قائداعظم ؒ کے ذہن اور فکر کو سمجھنے کیلئے انکی اس پریس کانفرنس کا حوالہ دینا ضروری ہے جو انہوں نے پاکستان کاگورنر جنرل نامزد ہونے کے بعد 14جولائی 1947ءکو نئی دہلی میں کی، اقلیتوں کے ضمن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا …..!
” میں اب تک بار بار جو کچھ کہتا رہا ہوں اس پر قائم ہوں، ہر اقلیت کو تحفظ دیا جائیگا، انکی مذہبی رسومات میں دخل نہیں دیا جائیگا اور ان کے مذہب، اعتقاد، جان و مال اور کلچر کی پوری حفاظت کی جائیگی، وہ ہر لحاظ سے پاکستان کے برابر کے شہری ہونگے۔“ قائداعظمؒ نے کہ ”آپ مجھ سے ایک فضول سوال پوچھ رہے ہیں، گویا میں اب تک جو کچھ کہتا رہاہوں وہ رائیگاں گیا ہے، آپ جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا، ہم نے جمہوریت 1300سال قبل سیکھ لی تھی“
سوال یہ ہے کہ 1300سال قبل مسلمانوںنے کونسی جمہوریت سیکھی تھی؟ کیا وہ سیکولر جمہوریت تھی یا اسلامی جمہوریت ؟ ان دونوں تصورات میں ایک واضح فرق ہے جسے ذہن میں رکھنا چاہیے، وہ یہ کہ مغربی جمہوریت کے مطابق مذہب اور سیاست ایک دوسرے سے بالکل الگ اور لاتعلق ہوتے ہیں، یہ لوگوں کا انفرادی معاملہ سمجھا جاتا ہے ،جبکہ مسلمانوں کے نزدیک اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لئے اسکی سیاست بھی اسلامی اصولوں کے تابع ہے۔
یوں تو قائداعظم کی تقاریر میں بہت سے حوالے ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوگا کہ قائداعظمؒ کے خیالات میں ایک تسلسل تھا اور وہ مسلسل پاکستان میں اسلامی جمہوری نظام کا تصور پیش کرتے رہے بلکہ وعدہ کرتے رہے لیکن میں اس حوالے سے چند ایک اقتباسات پیش کررہاہوں جن سے قائداعظم کی سوچ اور ویژن سمجھنے میں مدد ملے گی۔
نومبر1945ءمیں قائداعظم نے پشاور میں کہا….
”آپ نے سپاسنامے میں مجھ سے پوچھا ہے کہ پاکستان میں کونسا قانون ہوگا، مجھے آپ کے سوال پرسخت افسوس ہے، مسلمانوں کا ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب پر ایمان ہے، یہی مسلمانوں کا قانون ہے اور بس ۔اسلام پاکستان کے قانون کی بنیاد ہوگا اور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا“۔
14 فروری 1947ءکو شاہی دربار سبی، بلوچستان میں تقریر کرتے ہوئے کہا….
”میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنیوالے پیغمبر اسلام نے دیا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیاد صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پررکھیں“۔
30اکتوبر 1947ءکو لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا….
”اگر ہم قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں تو بالآخر فتح ہماری ہوگی، میرا آپ تمام لوگوں سے یہی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کریں“۔
25جنوری 1948ءکو عید میلاد النبی کے موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے استقبالیے میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم ؒ نے وکلاءکے سامنے ان حضرات کو بے نقاب کیا جو ان کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلارہے تھے۔ اس وقت قائداعظم پاکستان کے گورنر جنرل بھی تھے اس لئے انکے منہ سے نکلا ہوا ہرلفظ ”پالیسی بیان“ کی حیثیت رکھتاتھا۔ قائداعظم ؒ کے الفاظ پر غور کیجئے اور ان الفاظ کے آئینے میں ان چہروں کو تلاش کیجئے جنہیں قائداعظمؒ نے شرارتی اور منافق کہا، قائداعظم نے کہا….
”میں ان لوگوں کے عزائم نہیں سمجھ سکا جو جان بوجھ کر شرارت کررہے ہیں اور یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ پاکستا ن کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں ہوگی، ہماری زندگی پر آج بھی اسلامی اصولوں کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح 1300سال پہلے ہوتاتھا، اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے اس لئے کسی کو بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں “۔
پھرفروری 1948ءمیں قائداعظم نے امریکی عوام کے نام ایک ریڈیو پیغام میںیہ واضح الفاظ کہہ کر نہ صرف ہر قسم کے شکوک و شبہات کی دھند صاف کردی بلکہ اس بحث کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سمیٹ دیا۔قائداعظم نے فرمایا ….
”پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ابھی دستور بنانا ہے، مجھے علم نہیں کہ اس کی حتمی شکل و صورت کیا ہوگی، لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری قسم کا ہوگا جسے اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائیگا، اسلام کے اصول آج بھی عملی زندگی پر اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح 1300سال قبل ہوتے تھے، اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے، ہم ان شاندار روایات کے امین اور وارث ہیں اور دستور سازی میں انہی سے رہنمائی حاصل کی جائیگی،بہرحال پاکستان ایک تھیوکریٹ (مذہبی ریاست )نہیں ہوگی“۔
قائداعظم ؒ مسلسل یہ کہتے رہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، سیرت النبی ہمارے لئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے ، جمہوریت ،مساوات اور انصاف ہم نے اسلام سے سیکھا ہے اور اسلام نے جمہوریت کی بنیاد 1300برس قبل رکھ دی تھی،اسلئے ہمارے لئے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہونگے اور یہ کہ ہمارے نبی کریم نے یہودیوں عیسائیوں سے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا تھا ہم اس پر عمل کرینگے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت پر نہیں رکھی جائیگی وہ سازشی اور منافق ہیں اور آخر میں یہ کہہ کر تمام شکوک و شبہات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہوگا اور اس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائیگی۔ گویا جہاں تک نظام حکومت کا تعلق ہے قائداعظم کا تصور پاکستان پوری طرح واضح ہے اور وہ یہ کہ قائداعظم ؒ ایک اسلامی ، جمہوری ،فلاحی پاکستان چاہتے تھے اور اگر وہ زندہ رہتے تو ہمارا آئین یقینا انہی بنیادوں پر تشکیل دیا جاتا۔ (ختم شد)
(کالم نگارممتازمحقق اوردانشورہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved