تازہ تر ین

پاکستان فیسٹیول مسقط

خالد شریف …. ماورا
سفارت خانے کی عمارت میں داخل ہوئے تو ایک قمیض پتلون میں ملبوس صاحب کو مہمانوں کا استقبال کرتے اور نشستوں پر بٹھاتے ہوئے دیکھا۔ پوچھا کہ سفیر محترم کہاں ہیں جواب ملا یہی ہیں۔ عقبی صحن میں خورد و نوش کی تیاریاں تھیں۔ بلوچی، پشتون بھائیوں نے رونق لگا رکھی تھی۔ معلوم ہوا کہ مسیحی پاکستانیوں کا ایک جتھہ اپنی مذہبی مصروفیات سے فارغ ہوکر پادری صاحب کی معیّت میں آیا ہی چاہتا ہے۔ ہم چند دوست جن کے گھٹنے کھڑے ہونے کی مشقت کی اجازت نہیں دے رہے تھے ایک جانب پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے کہ آواز پڑی اس طرف آجائیے۔ معلوم ہوا سفیر صاحب کچھ گفتگو فرمائیں گے۔ انہوں نے گفتگو شروع کی سامنے شاعر ادیب بھی تھے۔ صحافی اینکر اور سیاسی تجزیہ نگار بھی۔ استاد حامد علی خان جیسے فنکار بھی۔ سب مبہوت ان کی گفتگو سن رہے تھے اتنی سچّی کھری باتیں دل سے نکلی ہوئی آواز۔ خدایا سفیر ایسے بھی ہوا کرتے ہیں۔ بیسویں کامن کے علی جاوید نے وطن کی محبت سے سرشار ایسی باتیں کیں کہ مہمان اور میزبان سب آبدیدہ ہوگئے۔
مسقط کے پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تقریب کو پاکستان فیسٹیول کا نام دیا گیا ہے۔ پاکستان سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مدعوئین نے اس میں بھرپور شرکت کی۔ ہمیں اور ان سب احباب کو مدعو کرنے والے نوجوان شاعر اور صنعت کار قمر ریاض ہیں جو ایک محبت سے لبریز شخصیت ہیں۔ قمر نے ثابت کیا کہ وہ ایک اچھا شاعر اور دوست ہی نہیں بہترین منتظم بھی ہے۔ مدعوئین کی فہرست میں راقم کے علاوہ عطاالحق قاسمی، سہیل وڑائچ، استاد حامد علی خان، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، جاوید چودھری، سید سلمان گیلانی، پروفیسر یوسف خالد، سید طلعت حسین، ڈاکٹر علی یاسر، ابرار ندیم، وجیہہ نظامی، مخدوم شہاب الدین، گوہر زاہد ملک، عقیل عباس جعفری، فرخ شہباز وڑائچ، طارق چودھری، عامر غوری شامل تھے۔ جبکہ افتخار عارف اور ڈاکٹر صغرا صدف اچانک مصروفیات کے سبب شامل نہ ہوسکے۔ عمان آڈیٹوریم میں ہونے والی یہ تقریب اس لحاظ سے منفرد تھی کہ اس میں مختلف سیشن رکھے گئے ہیں جن میں مہمانوں سے گفتگو، رنگِ مزاح اور موسیقی سے حاضرین لطف اندوز ہوئے۔ حاضرین میں ہر طبقہ فکر کے پاکستانی موجود تھے جبکہ سلطنت عمان کے شاہی خاندان کے فرد اور وزیر مذہبی امور جناب فارس فاتک حیرت انگیز طور پر چھ گھنٹے سے زائد اس تقریب میں ہمہ وقت موجود رہے اور سارے پروگرام کو دلچسپی سے دیکھتے رہے۔
استاد حامد علی خان پٹیالہ گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ ان کے بڑے بھائی استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان کی موسیقی کے لئے خدمات آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔ دونوں بڑے بھائیوں کے انتقال کے بعد استاد حامد علی خان اس گھرانے کے سربراہ ہیں۔ اپنی گائی ہوئی چیزوں کے علاوہ وہ فرمائش پر بڑے بھائی کی گائی ہوئی چیزیں بھی محبت سے سناتے ہیں۔ اس محفل میں بھی انہوں نے ”انشا جی اٹھو اب کوچ کرو“ اور ادا جعفری کی غزل ”ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام بھی آئے“ سنا کر محفل لوٹ لی۔ سہیل وڑائچ، جاوید چوہدری اور طلعت حسین نے بھی اپنے اپنے انداز میں خوب رنگ باندھا۔ مزاحیہ شاعری کی مختصر محفل میں سلمان گیلانی، ابرار ندیم اور ڈاکٹر علی یاسر نے حاضرین کو مسکراہٹیں بکھیرنے پر مجبور کردیا۔ عطاالحق قاسمی نے سفیر پاکستان کی تقریر اور شخصیت کو موضوع سخن بنایا اور ایک خوبصورت مزاحیہ مضمون غیر ملکی سیّاح کا سفر نامہ لاہور پڑھ کر خوب داد سمیٹی۔ قمر ریاض کے کلماتِ تشکر کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوا تو تمام حاضرین پاکستان کی محبت سے سرشار جذبات کے ساتھ ہال سے باہر نکلے۔۔
مسقط ایک چھوٹے سے ملک کا ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ لیکن ایسے شہروں میں جاکر شدّت سے احساس ہوتا ہے کہ ہم اتنی ترقّی کیوں نہیں کرسکے۔ صاف ستھری شاہراہیں، منظم بازار، سڑکوں پر کوئی گڑھا نہیں کہیں کھدائی نظر نہیں آرہی خود کار ٹریفک نظام چوری چکاری نہ ہونے کے برابر، سربراہِ مملکت انچاس برس سے وہی اور پھر بھی محبوبِ خلائق۔ یہی حال قطر کا ہے۔ ان ملکوں کے پاس کونسی جادو کی چھڑی ہے جو ہمارے پاس نہیں۔ درست کہ تیل کے ذخائر نے ان کی تقدیر بدلی لیکن شنید ہے کہ وہ تو ہمارے پاس بھی بہت ہیں بلکہ سونا بھی وافر مقدار میں ہے تو پھر ہمیں کس کی نظر لگی کہ یوں راندہ¿ عالم ہیں۔
بس اِک ہم ہیں کہ مٹی سے محبت کر رہے ہیں
پرندے بھی یہاں سے اب تو ہجرت کر رہے ہیں
ہمیں جو قتل کرنے کے لئے آئے ہیں خالد
ہمارا حوصلہ ہم ان کی عزّت کر رہے ہیں
(کالم نگار معروف شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved