تازہ تر ین

حج اور جدہ قونصلیٹ کی افسر شاہی

انجینئر افتخار چودھری …. باعث افتخار
وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے یکم ستمبر کو ارض حرمین سے ارض پاک پہنچوں گا۔یہاں میرے اعزاز میں بے شمار تقریبات منعقد ہوئی ہیں کبھی عشائیے کبھی ناشتوں پر دوستوں سے ملاقاتیں،پرانے دوستوں کو ڈھونڈ نکالا ۔حج بھی ہو گیا ہے ۔حجاج کرام کی جانب سے کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔اس حج میں سب سے بڑی بات روڈ ٹو مکہ تھا ،بے شمار حاجی اپنا امیگریشن پاکستان سے ہی کرا کے آئے تھے۔قارئین اگر کوئی سمجھتا ہے کہ پاکستان سے حج پر جانیوالے حاجیوں سے متعلقہ معاملات میں اب کرپشن نہیں ہو رہی تو یہ اس کی غلط فہمی ہے، ابھی بھی وہ لوگ حاجیوں کی قسمت کے وارث ہیں جو سابق دور حکومت کے کل پرزے تھے۔ نور الحق قادری جتنے مرضی نیک نیت اور مخلص ہوں ،حج سیکرٹری وزارت حج کراتا ہے۔میں تو حیران ہوں کہ گزشتہ برس ہا برس سے حج کے انتظام اور اس سے وابستہ اداروں سے وہی چہرے جڑے ہوئے ہیں جو ماضی کی حکومتوں میں بھی ہوا کرتے تھے۔یہاں جو حج ڈائریکٹر رہا اس نے خوب مال بنایا اور جاتے جاتے اپنے کارندوں کی فوج ظفر موج چھوڑ گیا جو اس فریضہ مقدس میں مال پانی بنانا اور انہیں کھلانا جانتے ہیں۔حج کے ڈائریکٹر صاحبان کی کرپشن کے قصے زبان زد عام ہیں۔کوئی یہ کہے کہ بیورو کریسی کے یہ لوگ عمران خان کی تعریفی تقریر سے خوش ہو کر ایمانداری کا مظاہر کریں گے تو ان کی بھول ہے۔حج ڈائریکٹوریٹ ہو یا قونصل خانہ یہ لوگ حجاج کرام کی جیب کاٹتے نظر آتے ہیں۔ کوئی تجربہ کار بھائی یہ دعوی کر رہا تھا کہ حج میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔حاجی گھر سے چلتا ہے تو میٹر ریڈنگ شروع ہو جاتی ہے اور جاتے وقت تک کرپشن کا میٹر لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک چھو جاتا ہے۔بلڈنگوں کے حصول سے مدینہ روانگی ایئر پورٹ پر کھانے ،سب میں کمیشن چلتی ہے۔اس بار حجاج کو شکایات تھیں وزیر اعظم ،نور الحق قادری کو واٹس ایپ پر شکایات بھیجتے بھی رہے ۔فائر فائیٹنگ ہوتی رہی۔مجموعی طور پر اس حج کو پچھلے تمام حج آپریشنز سے بہتر تو کہا جا سکتا ہے لیکن اب بھی بڑی گنجائش موجود ہے۔ امجد علی خان ایم این اے اور میرے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں کراچی سے آنے والے ایک حاجی نے دکھڑا سنایا ان کی اس تجویز کو تو میں بھی پسند کرتا ہوں کہ پاکستان سے حجاج کی خدمت کرنے والے لوگوں کو نہ لایا جائے یہ اکثر بڑی عمر کے ہوتے ہیں۔یہاں پہنچ کر وہ اپنے حج میں مصروف ہو جاتے ہیں جس کا عام حجاج کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اس کی بجائے وہ یہاں کے حج والینٹئرز گروپ کی تعریف کر رہے تھے جبکہ پاکستان سے آنے والے معاوضہ لیتے ہیں اور کارکردگی بھی زیرو ہے۔دوسری اہم بات نور الحق قادری بھی ان لوگوں کے چنگل سے نکلیں جو سالہا سال سے حج آپریشن میں کرپشن کرتے آئے ہیں۔صرف پراپیگنڈے سے کامیاب حج کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جا سکتا۔میں دیکھ رہا ہوں ایک شخص مدتوں سے حج کرنے آ جا تا ہے سابق حکومت میں فری آتا تھا لیکن اس بار بھی وہ طویل ریشی صحافی موجود ہے، یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے خرچ پر آیا ہو۔ اس کے ساتھ ایک اور بھی معروف نام ہے جو سابق منسٹر حج کی ناک کا بال تھا اب بھی وہ نورالحق قادری کے ساتھ نظر آتا ہے۔یہ کون لوگ ہیں، کیا پاکستان تحریک انصاف کے اندر ہی نون لیگ موجود ہے؟
قونصل خانے کا حال دیکھیں، زلفی بخاری پہلی فرصت میں جدہ آئیں اور لوگوں سے ملیں ، لوگ جب انہیں یہاں کی افسر شاہی کے گلچھڑوں کی بابت سنائیں گے تو حیران ہو جائیں گے۔پہلی فرصت میں پاکستان ایمبیسی سکولز کے فنڈز کا آڈٹ کرایا جائے۔میں شاہ محمود قریشی سے درخواست کروں گا کہ خدارا یہاں کمیونٹی سے ملا کریں، اپنی آمد کی اطلاع عام لوگوں کو دیں قونصلیٹ میں بیٹھے لوگ انہیں سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں ۔سب سے زیادہ زر مبادلہ سعودی عرب سے جاتا ہے حالت یہ ہے کہ لوگ قونصلیٹ کا رخ نہیں کرتے ۔اس بار قونصلیٹ میں کوئی سو لوگ ہوں گے انتظامات کی یہ حالت تھی کہ خواتین کھڑی رہیں۔عملے کے افسران اپنے لئے کرسیوں کو محفوظ کرنے میں لگے رہے ۔ان کا اخلاق اکڑ اس قدر کہ مجھے کہنے لگے یہ کرسی افسران کےلئے ہے آپ اٹھ جائیں۔ ایک باریش قونصلر حفظ مراتب پر لیکچر دینے لگے۔ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ جنرل اسد درانی جیسے شخص کے سامنے میں نہیں جھکا تو یہ کیا شے ہیں۔شاہ کے ان کاسہ لیسوں کو جواب دینا تھا دے دیا۔اس قسم کے رویے باعث شرم ہیں کہ آپ کسی سینئر سیٹیزن اور پاکستان سے آئے مہمان کی توہین کریں۔یہ کون لوگ ہیں ، کیا یہ تبدیلی کے سفر میں ہمارا ساتھ دے سکیں گے۔جنہیں یہ سلیقہ بھی نہیں کہ اس دن وہ میزبان تھے اور باقی مہمان۔نخوت اتنی کہ کہ میرے کرسی نہ چھوڑنے پر قونصل جنرل تمام وقت کھڑے رہے اور اپنی تقریر میں بڑھکیں مارتے رہے کہ میرے لئے پی پی پی، نون لیگ ،پی ٹی آئی سب برابر ہیں۔یقینا یہ اچھی بات ہے لیکن کبھی اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں کو بھی دیکھا ہے جو سیاسی لوگوں کے کندھوں پر بیٹھ کر ترقیاں پاتے رہے۔یہی جدہ قونصلیٹ ہے جہاں افغانیوں کو پاسپورٹ بیچے جاتے رہے۔یہاں کے قونصل جنرل اور دیگر افسران حاجیوں کی جیبیں کاٹتے رہے۔ قونصل جنرل آفتاب کھوکھر کا جو حال ہوا سب کے سامنے ہے۔
حضور اب ایسا نہیں چلے گا۔جس طرح نون لیگی حشام بن صدیق کی چھٹی کرا کے راجہ علی اعجاز کو سفیر بنایا گیا ہے اسی طرح یہاں قونصلیٹ میں قونصل جنرل کو فی الفور تبدیل کیا جائے ۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ان افسران کے پاس امریکن آٹھ سلنڈر جی ایم سی سوبربان گاڑیاں ہیں۔میں حیران ہوں کہ وزیر اعظم ہاﺅس کی مرسیڈیزیں بک گئی ہیں یہاں جدہ قونصلیٹ کی کیوں نہیں بکیں۔میں شاہ محمود قریشی سے درخواست کرتا ہوں ان معاملات کی جانب توجہ دیں۔قوم کا پیسہ یہاں ضائع ہو رہا ہے۔سکول میں شنید ہے ایک شخص جو کلرک کے ویزے پر ہے اسے چالیس ہزار ریال دئے جاتے ہیں اور اسے ایک بڑے کمپاﺅنڈ میں ڈیڑھ لاکھ ریال کے کرائے پر وِلا لے کر دیا ہے۔جادو گر اتنے کہ اس سکول کے پیٹی کیش سے اسے تنخواہ دی جاتی ہے۔نصراللہ نامی یہ شخص کون ہے؟۔شنید یہ بھی ہے کہ سکول کے فنڈ سے کسی سابق اعلی افسر کو پاکستان بھتہ بھی بھیجا جاتا ہے۔پاکستان میں نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کا رولا جاری ہے میں سمجھتا ہوں نیب کا دائرہ اختیار جدہ سکولوں تک پہنچایا جائے۔ظلم کل بھی تھا اور اب بھی جاری ہے ،سکول کا سابق پرنسپل جیل میں بند ہے اس میں سعودی عرب حکومت کا کوئی قصور نہیں ہمارے لوگوں کے گندے کرتوت شامل ہیں جو قونصلیٹ میں بیٹھے ہیں۔سکول کے دو پرنسپلوں کو کوڑوں کی سزا سنائی جا چکی ہے جو بڑی مشکل سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ پاکستان بھاگ گئے ہیں۔راجہ اقبال پندرہ ماہ سے جیل میں ہے۔اس کی مسزکے بھی حالات اچھے نہیں ،وہ سکول کے اقامے پر ہےں لیکن جناب سفیر پاکستان کو چودھری فواد حسین کے جلسے میں کہا تھا کہ کم از کم اسے میڈیکل کارڈ ہی دے دیں جو قونصلیٹ کے پاس ہیں ۔مملکت خداداد پاکستان کے سب سے بڑے سفیر راجہ علی اعجاز یہ بھی نہ کر سکے۔ایک ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔کمیونٹی کا ہی کام تھا ، میں نے راجہ اقبال کے بیٹے کو نوکری دلوانے میں مدد کی ،پی ٹی آئی کے ایک دوست نے ہاتھ پکڑا اور نازوں میں پلا بیٹا اب ڈرائیوری کرتا ہے۔یہ حال ہے یہاں کے پاکستانیوں کا۔اور نخرے یہ کہ کالے شیشوں والی سوبربان کی پچھلی سیٹ پر فلیگ والی گاڑی پر مزے کئے جاتے ہیں۔یہ نہیں تھا وہ پاکستان جس کی بات میرے قائد نے کی تھی۔
جشن آزادی کے پروگرام میں جب سارے لوگ پاکستانی لباس پہن کر تقریب میں موجود تھے تو سوٹ ٹائی لگائے قونصل جنرل اپنی ہتک عزت پر تلملاتے اس قدر حواس باختہ ہوئے کہ اپنے سارے افسران کے ساتھ دفتر چلے گئے۔ہم نیچے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے پاک فوج زندہ باد کہتے رہے اور یہ صاحبان اپنے دفتروں میں جا بیٹھے۔ان کے دفتروں پر دربان لگے ہیں کیوں ملنا ہے کون ہیں آپ کی غرض کیا ہے؟میں نے عاطف ڈار نامی ایک افسر سے ملنے کی کوشش کی تو سو سوال ہوئے۔حالت یہ ہے کہ اسی شہر میں پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ یافتہ خالد المعینا موجود ہے۔اسے تک نہیں پوچھتے،میں نے ان کے اوپر احسان نہیں کیا لیکن گزشتہ دو ماہ میں یہاں کے پالیسی ساز لوگوں سے ملا ہوں۔کشمیر کی بات کی ہے پاکستان کا کیس سامنے رکھا ہے۔یقین کیجئے کالم مکمل کرتے ہوئے دل دکھی ہے۔میں اس بات پر زور دوں گا کہ قونصلیٹ کے پاس سے بڑی گاڑیاں لے کر اسی طرح نیلام کریں جس طرح وزیر اعظم ہاﺅس کی ہوئی تھیں۔گھروں کا سالانہ کرایہ بیس ہزار ریال سے اوپر نہ دیا جائے ۔میں جس گھر میں رہ رہا ہوں تین بیڈ بڑے ڈرائنگ روم والا گھر ہے یہاں کرایہ بیس ہزار ہے ۔ان افسروں کا کرایہ لاکھ ڈیڑھ سے کم نہیں ہے۔تیسری اور آخری بات جناب وزیر خارجہ اس قونصلیٹ کو محلے سے نکال کر اچھی جگہ منتقل کریں۔سفیر پاکستان الریاض سے جدہ آ کر کمیونٹی کے ہر بندے سے ملیں۔
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved