تازہ تر ین

یگانہ شکن

اعتبار ساجد……..قلم کہانی

مرزا اسد اللہ خان غالب کے بعد شاعری کی دنیا میں بہت سے انقلابات آئے۔ بڑے بڑے شعرائے کرام نے بزم سخن کو آراستہ کیا، نام کمایا۔ اپنا زمانہ گذارا اور پیوند خاک یا مقالہ جات کا موضوع بنے۔ اقبال کو اس فہرست سے نکال کر بات کی جائے تو مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اٹھارہویں صدی کے وسط میں جتنے شعراءپیدا ہوئے انہوں نے مہارتِ فن اور استادانہ پینترے دکھا کر اپنا سارا زور قلم وزن پر صرف کردیا۔ بہادر شاہ ظفر کو بادشاہی کے طفیل اپنے عہد کے دو باکمال اساتذہ فن نصیب ہوئے، ایک ہیں شیخ محمد ابراہیم ذوق اور دوسرے مرزا اسد اللہ خان غالب ۔ دونوں کو اپنے فن پر کمال حاصل تھا۔ ذوق نے ساری زندگی وزن میں گذاری، غالب نے اس کینوس کو ذرا اور وسیع کیا اور وزن کے ساتھ وژن کی طرف آئے، یہی وجہ ہے کہ غالب رہے، ذوق نہیں بنے۔لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے عہد میں مہمل گو شاعر کہلانے والے شاعر غالب نے ایک ایسا دروازہ¿ فن کھول دیا جس کی دہلیز چھوکر ایک سے ایک بڑا شاعر سامنے آیا، لیکن بہت کم نے اپنی شاعرانہ فلاسفی میں وژن پر دھیان دیا۔ اٹھارہویں صدی سے اب تک شعری دریائے فن میں بہت سے مدّوجزر آئے ، بہت اچھی شاعری ہوئی لیکن بیسویں اور اکیسویں صدی کے شعراءکو ایک ترتیب سے پڑھنے کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شاعری تو اچھی ہوئی ،بعض شعراءنے وژن کا بھی بھرپور خیال رکھا لیکن دو صدیوں کی شاعری میں شاید ہی کسی نے غالب کے لب و لہجہ کو برقرار رکھا، کیونکہ انکے نزدیک غالباً شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس موجود تھا کہ غالب کی زبان اپنے عہد کی زبان تھی، وقت کے ساتھ اسے دوام تو حاصل ہوا لیکن فروغ نصیب نہیں ہوا۔”آتش۔ زیرپا“کی شاعری پڑھ کر پہلے تو ہمیں یقین نہیں آیا کہ اس عہد میں بھی زبانِ غالب میں نہ صرف شاعری کی جاسکتی ہے بلکہ عصری تقاضوں کو بھی اسی زبان میں بیان کیا جاسکتا ہے ۔ ”آتش۔ زیرپا“ کی غزلیں ہمیں اس خوشگوار حیرت میں مبتلا کرتی ہیں کہ وسیع المطالعہ اور ادراک فن پر کامل عبور رکھنے والے ہی اس وادی¿ پر خار میں قدم رکھ سکتے ہیں جہاں غالب تخت سخن پر شامیانہ¿ شاعری میں تشریف فرما ہیں۔ شارق جمال خان نے ایک اچھے طالب علم کی طرح نہ صرف استادِ فن غالب اور بیدل کا مطالعہ کیا بلکہ اسی لہجہ¿ غالب کو اتنی خوبصورتی سے اپنایا کہ انہیں پڑھنے والا بلا شبہ کہہ سکتا ہے کہ وہ عرصہ دراز کے بعد غالب کے اسلوب میں کہنے والے جدید عصری شاعر ہیں، اور ایک ایسا پل ہیں جسے عبور کیے بغیر کوئی غالب اور بیدل تک نہیں پہنچ سکتا۔
یاس یگانہ چنگیزی کو ”غالب شکن“ کہا جاتا تھا لیکن ان کا کلام بغور پڑھنے کے بعد ان ناقدین کے پیمانہ¿ فن پر تعجب ہوتا ہے جنہوں نے محض لفظی جادوگری سے غالب کے بعد غالب شکنی کے لئے چنا بھی تو یاس یگانہ چنگیزی کو۔ یاس تو باحسرت و یاس اس دنیا سے چلے گئے ، افسوس یہ کہ ان کے مداحین اور ناقدین بھی رخصت ہوئے، آج زندہ ہوتے اور اتفاق سے ”آتش۔ زیرپا“ ان کے ہاتھ لگ جاتی تو یقینا انہیں اپنی رائے میں کچھ تبدیلی یا توسیع کی ضرورت محسوس ہوتی۔ بات صرف غزلوں تک ہی محدود نہیں، شارق جمال کی نظمیں بھی دیکھئے ، وقت ہوتا تو ہم کم از کم پانچ سات نظمیں پیش کرکے اپنے دعوے کو دلیل کے ساتھ پیش کردیتے لیکن سردست تاثرات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہمارے جو شعراءانگریزی ادب سے کماحقہ واقف ہیں وہ بہتر جان سکتے ہیں کہ دنیا کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں، ایک تو یہ کہ اسے اطراف و جواب کے نقطہ نظر کے حوالے سے دیکھا جائے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زمینی حدود سے ذرا اوپر اٹھ کر دیکھا جائے ، تب راز حیات و کائنات کی پرتیں کھلتی ہیں۔شارق جمال کی نظمیں بالخصوص اور غزلیں بالعموم طریقہ دوئم کی شہادت دیتی ہیں۔ چونکہ وہ اردو، فارسی اور انگریزی ادب کی گہری آگہی رکھتے ہیں لہٰذا کئی دنیائیں انکی دنیا میں سمٹ آتی ہیں۔ وہ وژنری شاعر ہیں اس لئے ان کا ہرشعر اور ہر نظم ان موضوعات سے یکسر ہٹ کر ہے جو بالعموم ہمارے اکثر شعراءکے یہاں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ڈرائیڈن نے ایک بات پر خاصا زور دیا کہ وژن طبع کی بلندی کا پیمانہ ہے۔میتھیو آرنلڈ اور جارج ایلیٹ کا بھی یہی خیال تھا کہ فلاسفی اپنے وژن سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں۔ آندرے ژید کی نظر میں وژن کی اہمیت تو ہے لیکن اس نے ایک سوال بھی اٹھایا کہ وژن کی متنوع اقسام میں سے کون سی قسم ازبس لازمی قرار دی جاسکتی ہے ۔ عمر خیام نے اسے صوفیانہ رنگ میں ڈھالا ہے جبکہ سعدی ، حافظ اور بیدل نے اسے اور کسی انداز میں بیان کیا ہے ۔ شارق جمال کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے اور وہ اسی وقت آپ پر منکشف ہوسکتا ہے جب آپ ان کی شاعری کے اسرار ورموز سے آگاہی کیلئے مکمل یکسوئی اور کامل انہماک سے ”آتش۔ زیرپا “کا مطالعہ کریں۔آپ پر ایک ایسا شاعر منکشف ہوگا جو تالیوں کا نہیں توجہ اور احترام کا مستحق ہے۔
(کالم نگارمعروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved