تازہ تر ین

ہا نگ کا نگ میں کیا ہو رہا ہے ؟

یاو جنگ….خاص مضمون

ہا نگ کانگ دنیا میں ایک جانی پہچانی جگہ ہے، یہ شہر نہ صرف ایک اہم بین الاقوامی ،تجارتی اور معاشی مرکز ہے بلکہ نئی ایجادات اور ٹیکنا لو جی کا بھی مرکز ہے ۔ یہ شہر دنیا کی آزاد ترین معیشتوں اور دنیا کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے ۔یہ شہر اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت کے باعث چین اور مغربی دنیا کے درمیان رابطے کے پل کا کردار بھی ادا کرتا ہے ۔ہانگ کانگ کو دی پرل آف دی اورینٹ بھی کہا جاتا ہے ۔گزشتہ کچھ عرصے سے ہانگ کانگ میں سپیشل ایڈ منسٹریشن ریجن (SAR)کے تحت حکومت چین کی طرف سے تجویز کردہ قانونی بلوں ،جس کے مطابق ملزمان کوکریمنل معاملات میں چین کی حکومت کی جانب سے قانونی معاونت فراہم کی جانی تھی اس کے خلاف مظاہروں ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور ان مظاہروں کے دوران کچھ پر تشدواقعات بھی دیکھنے میں آئے جس کے با عث بین الااقوامی برادری میں تشویش پھیلی ہے ۔پا کستان میں بھی میرے دوست مجھ سے ہانگ کانگ کی صوررتحال کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں اور کہتے ہیں ہا نگ کانگ میں کیاہو رہا ہے ؟ میں اس معا ملے پر اپنی رائے دینا چاہتا ہوں ۔اس سلسلے میں پہلا سوال تو یہ ہے کہ
1۔چین کی حکومت ہا نگ کانگ میں کیوں ایک ملک دو نظام کا سسٹم لاگو کرتی ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہانگ کانگ قدیم وقتوں سے چین کا حصہ رہا ہے اور 1842ءکی اوپیم جنگ کے بعد ہانگ کانگ پر برطانوی سامراج نے قبضہ کر لیا ۔ انھوں نے ہا نگ کانگ پر بطور ایک کالونی 150سال تک حکمرانی کی اور اس حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے برطانوی حکومت نے چین کی کنگ سلطنت سے کئی معاہدے بھی کیے ۔1949ءمیں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی اور چین کی حکومت اور برطانوی حکومت کے درمیان ہا نگ کانگ کے مسئلہ پر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے بعد یکم جولائی 1997ءکو جوائنٹ سائنو برٹش ڈیکلریشن پر دونوں حکومتوں نے دستخط کیے اور ہانگ کانگ ایک بار پھر چین کاحصہ بن گیا ۔ لیکن ہا نگ کانگ کے 150سال تک برطانوی سامراج کے زیر انتظام رہنے کے باعث ہانک کانگ کے معاشرے اور سماج میں کئی تبدیلیاں آ چکی تھیں جو کہ چین سے بہت مختلف تھیں۔ ہانگ کانگ کا سماج ان کا رہن سہن اور معاشی نظام چین سے مختلف ہو چکا تھا ۔اسی لیے چین نے ہانگ کانگ میں ایک ملک دو نظام کا سسٹم رائج کیا جس کے تحت ہانگ کانگ کو بڑی حد تک اپنے معا ملات میں خود مختاری حاصل تھی ۔دفاع اور خارجہ امور کے علاوہ باقی تمام شعبوں میں ہا نگ کانگ کو مکمل آزادی حاصل تھی حتیٰ کہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام بھی ہا نگ کانگ میں برقرار رکھا گیا ۔چین کی حکومت بھی ہانگ کانگ کو ہانگ کانگ کے بیسک آرڈیننس (SAR)کے تحت ڈیل کرتی ہے ۔ہانگ کانگ کی چین میں دوبارہ شمولیت کے 22برس بعد ہانگ کانگ ایک نہایت ہی ترقی یا فتہ علاقہ بن چکا ہے ۔ہانگ کانگ کا جی ڈی پی سال 2018ءمیں 360ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو کہ 1996ءکے مقابلے میں دوگنا ہے ۔بیرونی سیاحوں کی تعداد 65ملین سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ 1997ءکے مقابلے میں 6گنا زیادہ ہے ۔ہانگ کانگ کے قانونی نظام کی عالمی ریکنگ 60ویں نمبر سے بہتر ہو کر 16ویں نمبر پر آچکی ہے ۔ہانگ کانگ کو دنیا کی آزاد ترین معیشت کا بھی اعزاز حاصل ہو چکا ہے ۔ہانگ کانگ چینی اور مغربی ثقافت کے درمیان ایک حسین امتزاج رکھتا ہے ۔چین نے گزشتہ 22سالوں کے دوران ہانگ کانگ کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ آج ہانگ کانگ کے شہریوں کو پہلے کی نسبت کہیں زیادہ حقوق اور شخصی آزادی حاصل ہے ۔اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت گوان ڈانگ ۔ ہانگ کانگ ۔ مکا ﺅ کے درمیان گڑیٹر بے کے عظیم الشان منصوبے پر بھی کام جاری ہے ۔
اب آتے ہیں دوسرے اہم ترین سوال پر
2۔ ہانگ کانگ کی حکومت اب کیوں فیوجٹیو او فینڈرز آرڈیننس میوچل لیگل اسٹینس ان کریمنل میٹرز کے قا نون میں تبدیلی چاہتی ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہا نگ کانگ کی حکومت اس قانون میں ایک کرمنل کیس کے با عث تبدیلی چاہتی ہے ۔2018ءکے اوائل میں ہانگ کانگ کے ایک شہری نے اپنی حاملہ گرل فرینڈ کو قتل کر دیا جوکہ تا ئیوان چین کی شہری تھی ۔اس جرم کے ارتکاب کے بعدیہ شخص ہانگ کانگ میں آگیا ۔موجودہ قانون کے مطابق ہانگ کا نگ کی حکومت کو اس کیس میں اس شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کوئی اختیار نہیں تھا اور اسی لیے اس قانون میں تبدیلی کی کوشش کی گئی ۔اس قانون کو تبدیل کرنے سے نہ صرف ہا نگ کانگ کا چین کے ساتھ قانونی معا ملات میں رابطہ بڑھے گا بلکہ مکاﺅ اور تائیوان جیسے علاقوں سے بھی قانونی معا ملات سے نمٹنے میں آسانی ہو گی ۔موجودہ قانونی نظام میں موجود سقم دور ہوں گے اور مشترکہ طور پر جرائم کے خاتمے اور قانون کی حکمرانی اور انصاف کا بول با لا کرنے میں مدد ملے گی ۔لیکن اس سال فروری میں اس قانون میں ترمیم کرنے کی کو شش کے بعد ہانگ کانگ میں شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ان مظاہروں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہانگ کانگ میں رہنے والے شہری چین کے قوانین اور نظام انصاف سے واقف نہیں ہیں اور ان کو میڈیا کے کچھ شرارتی عناصر بھی گمراہ کر رہے ہیں ۔ان مظا ہروں کے بعد ہانگ کانگ کی حکومت نے مجوزہ آرڈننس میں ترمیم کا کام روک دیا تاکہ معاشرے میں امن و امان کا قیام فوری طور پر بحال ہو سکے ۔
3۔ اب سوال یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا اس کو پر امن احتجاج کہا جائے یا پر تشدد تحریک ؟
ہا نگ کانگ میں حکومت کی جانب سے قانون میں مجوزہ ترمیم واپس لیے جانے کے با وجود صورتحال میں بہتری نہیں آئی بلکہ صورتحال اور بگڑ گئی ہے ،اب جو کچھ ہا نگ کانگ میں ہو رہا ہے وہ احتجاج کے زمرے میں نہیں بلکہ ہر صورت انتشار کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ پر تشدد واقعات میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے ، پر تشدد واقعات میں 139پولیس افسروں اور اہلکاروں سمیت 462افراد زخمی ہو چکے ہیںاور صرف یہ نہیں بلکہ کچھ شر پسند عناصر کی جانب سے ہا نگ کانگ کے بنیادی قانون (SAR)کی کاپیاں بھی جلائی جارہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ چین کو بدنام کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے ۔چین کے قومی پر چم کی بھی بے حرمتی کی گئی جو کہ چین کے قوانین کے مطابق ایک سنگین جرم ہے ۔ان شر پسندوں کی حرکات کے باعث نہ صرف چین کے قومی تشخص کو نقصان پہنچا ہے بلکہ ہا نگ کانگ کی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر بھی منفی اثرات پڑے ہیں ۔ مظاہروں کے باعث ہا نگ کانگ کی شرح نمو میں ابتری آئی ہے ،18ممالک نے ہانگ کانگ کا سفر کرنےوالوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی ہیں ،سرمایہ کار بھی ہا نگ کانگ کی صورتحال اور بگڑتے ہوئے کاروباری ماحول پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی نہایت ہی اہم ہے کہ موجودہ صورتحال کو اس نہج تک پہنچانے کے لیے بیرونی عناصر بھی ذمہ دار ہیں اور ان بیرونی عناصر جن میں مغربی ممالک کے سیاست دان بھی شامل ہیں وہ جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں ۔یہ لوگ شروع سے ہی ایسے بیانات دے رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ لوگ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کہہ رہے ہیں ۔یہ لوگ چین اور ہا نگ کانگ کے اندرونی معا ملا ت میں مداخلت کررہے ہیں جو کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ
4۔ اب حکومت چین اور ہا نگ کانگ کی حکومت اس صورتحال کے ساتھ کس طرح نمٹے ؟
چین کی حکومت ہر حال میں اپنی قومی سلامتی اور ہانگ کانگ کی ترقی اور خوشحالی کا دفاع کرے گی اور اس معاملے پر کسی قسم کو کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔چین کی حکومت مضبوطی کے ساتھ ہا نگ کانگ کی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور ہانگ کانگ کی پو لیس اور عدلیہ کو قوانین کے مطابق پر تشدد کارروائیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے میں ان کا ساتھ دے گی ۔ چین کی حکومت اس ضمن میں ہانگ کانگ کے محب وطن شہریوں کی بھی شکر گزار ہے جو کہ اپنے شہر میں قانون کی بالادستی بحال کرنے کے لیے چین کی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ہا نگ کا نگ چین کا ہانگ کانگ ہے اور ہانگ کانگ کے معا ملات چین کے اندرونی معاملات ہیں اور چین اپنے معا ملات میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا ۔چین کی حکومت نے بعض بیرونی ممالک پر واضح کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پا سداری کرتے ہوئے چین کے اندرونی معا ملات میں مداخلت سے باز رہیں اور ہانگ کانگ میں کسی بھی قسم کی پر تشد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔انصاف اور قانون کی بالا دستی انسانی فطرت میں شامل ہے اور انسانوں کے دلوں میں بستی ہے۔ میں پر امید ہوں کہ چین کی حکومت کی ہانگ کانگ کی حکومت کو غیر مشروط سپورٹ ،صورتحال میں بہتری کے لیے ہانگ کانگ حکومت کے اقدامات اور ہانگ کانگ کے محب وطن شہریوں کی بڑی تعداد کی چین کو سپورٹ کے باعث ہانگ کا نگ میں بہت جلد صورتحال معمول پر آ جائے گی اور ہانگ کا نگ جلد ہی ایک بار پھر امن و ترقی کے راستے پر گامزن ہو جائے گا ۔
(پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر ہیں)
٭….٭….


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved