تازہ تر ین

گونگے کا خواب

عابد کمالوی…. حلقہ¿ زنجیر
اہل قلم اپنے عہد کی تاریخ ہی تو رقم کرتے ہیں بھلے وہ شاعری کی شکل میں ہو یا نثر کی صورت میں۔ یہ لوگ نہ صرف تاریخ رقم کرتے ہیں بلکہ اپنے ماحول، تہذیب و ثقافت ،مذہب اور حکومتوں کے عروج و زوال کی داستان بھی تاریخ کے صفحات پر ایسے کندہ کردیتے ہیں کہ وہ آنے والوں کے لئے عبرت آمیز بھی ہوتی ہیں اور سبق آموز بھی۔ تاریخ نویسی کی یہ اشکال مختلف اصناف ادب سے جڑی ہوتی ہیں ۔کبھی غزل کبھی نظم کبھی مزاحمت کبھی مسدس، کہیں شاہ نامہ اور کہیں افسانہ ،کبھی مشاہدات اورکبھی تحقیق کی صورت میں تاریخ رقم ہو رہی ہوتی ہے۔ کہیں واردات قلبی بھی کہ
”جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے“
اور کہیں یہ شعر نظر آتا ہے:
نظم کی شکل میں ہوں یا ہوں غزل کی صورت
شعر ہر دور کی تاریخ ہوا کرتے ہیں
عہد موجود کے معروف افسانہ نگارطارق بلوچ صحرائی نے بھی افسانوں کی شکل میں جو کردار اٹھائے ہیں وہ اسی معاشرے کا حصہ ہیں ۔پاکستان کی تہذیب و ثقافت میں رچے بسے اور گندھے ہوئے اس کے افسانے پڑھنے والوںکو تصوف و روحانیت کے ساتھ ساتھ تاریخی حقائق سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ وہ اپنی افسانوں کی نئی کتاب” گونگے کا خواب“ میں ایک جگہ یوں بول رہا ہے۔
ہم نے ان بچوں کو کیا دیا !
”خوف اور دہشت گردی میں ڈوباپاکستان جہاں مائیں بچوں کو اسکول بھیج کر خود مصلے پر بیٹھ جاتی ہیں، جہاں باپ اپنے جگر گوشوں کو بھوک میں تڑپتا نہیں دیکھ سکتا اور اپنے گردے بیچ دیتا ہے ،اسے لگا جیسے اس کے بچے اسکی طرف دیکھ رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں” بابا ہمیں ڈالر نہیں چاہیے ہمیں سکون چاہیئے ،ہمیں ا من چاہئے ،کیا دنیا کو میدان جنگ کے لیے ہمارا ہی خطہ نظر آتا ہے۔ ہمیں ڈالر نہیں چاہئیں، ہمارے پرندے ہم سے روٹھ گئے ہیں اب جگنو ہم سے بات نہیں کرتے تتلیاں اب ہم سے نہیں کھیلتیں ہمیں بارود نہیں چاہیے ہمیں پھول چاہئیں، ہمیں رنگوں سے کھیلنے دو ہمیں کھلونوں سے کھیلنے دو، ہمیں سرخ رنگ سے نفرت ہوگئی ہے ۔وہ اپنی سسکیوں کو نہ روک سکا کیا یہ وہی پاکستان ہے جو جنا ح نے ہمیں دیا ہے؟ خون میں نہلایا ہوا پاکستان یہاں صرف بے یقینی کا سناٹاپھن پھیلانے بیٹھا ہے جس کی پھنکار سماعتوں کو متاثر کردیتی ہے پھر انسان وہ نہیں سنتا جو کہا جاتا ہے بلکہ وہ سنتا ہے جو نہیں کہا جاتا“
یہ خوبصورت نثر پارہ صرف نثر پارہ نہیں بلکہ میں تو اسے نثری نظم کہوں گاجو افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی کی تخلیق ہے۔ طارق کے نام کے ساتھ صحرائی کا لاحقہ اس کے چہرے پر پھیلے ہوئے سرابوں کا پتہ دیتا ہے۔ وہ صحرا کی ریت پر گلاب اگانا چاہتا ہے ، وہ صحرا کی دھوپ کو بہار افزا بنانے میں کوشاں ہے، وہ صحرا کے بگولوں کو انسانوں کے لئے سنگ میل کی حیثیت دینا چاہتا ہے ، مجھے اس کے افسانوں کی دوسری کتاب ”گونگے کا خواب“ پڑھتے ہوئے یے رام ریاض کا یہ شعر یاد آگیا:
پھربگولے مجھے صحرا سے بلانے آئے
اے خزاں جشن منا تیرے زمانے آئے
بگولوں سے دوستی رکھنے والا اور دشت وصحرا سے آشنا یہ ادیب ملازمت کے ساتھ ساتھ اردو ادب کو افسانوں کی شکل میں ایسا سرمایہ گراں مایہ دے رہا ہے جو یقینادب پڑھنے والوں اور نثری ادب پر تحقیق کرنے والوں کےلئے خاصے کی چیز ہے۔ اسی لیے تو مرحومہ بانو آپا اس کے افسانوں پر یوں رقمطراز ہیں۔
”طارق بلوچ کی تحریروں میں ادبی قرینہ اور سلیقہ کے ساتھ ساتھ اصلاحی پہلو بھی نمایاں ہے مگر وہ کوئی طویل سفر طے کر کے یہاں تک نہیں پہنچا بلکہ اس نے تو آغاز ہی یہاں سے کیا ہے۔ احمد رفیق اختر ،بابا عرفان الحق ،سرفراز شاہ جیسے بڑے لوگوں سے طارق بلوچ کا طرز سخن اس حوالے سے مختلف ہے کہ وہ اپنی فکر کو افسانوی لبادے میں پیش کرنے کا فن بخوبی جانتا ہے( گونگے کا خواب) جو اس کی دوسری کتاب کا نام بھی ہے اس افسانے میں جس مقدار میں شاہکار جملے موجود ہیں اس سے ہم طارق کی ادبی بلند قامتی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس میں معاشرے میں اجتماعی طور پر پائی جانے والی روحانی بیماریوں کی نشاندہی بھی موجود ہے اور ان کا حل بھی پیش کیا گیا ہے“
طارق کے افسانوں کی اساس جنوبی پنجاب اور پاکستان کی دیہی ثقافت سے ہوتی ہوئی اسلام آباد اور لاہور کی شہری زندگی کا احاطہ کرتی ہے تو اس کے افسانے اردو ادب میں ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ درحقیقت وہ نثر میں شاعری کرتا ہے۔ پاکیزہ افکار و خیالات، حب الوطنی کے جذبوں سے بھرے ہوئے جملے اور الفاظ کی برموقع نشست و برخاست طارق کی تحریروں کا خاصہ ہے۔
پنجابی اور اردو ادب کے معروف قلم کار تنویر ظہوراور میرے درمیان ہونے والی گفتگو میں کئی مرتبہ طا رق بلوچ صحرائی کا ذکر آیا تب اسے ملنے کی جستجو بڑھتی رہی اور پھر ایک دن میں نے اس سے آنے کے لیے کہا تو بولے ”مجھے ابھی تو دوسرے دفتر میں کام کی غرض سے جانا ہے آپ اگر دس پندرہ منٹ کے درمیان پہنچ جائیں تو میں منتظر ہوں.. اور جب میں پہنچا تو اس کے دفتر میں جگہ جکہ سکیورٹی کے انتظامات کی وجہ سے دفتر کے اندر جانے میں دقت کا سامنا بھی ہوا لیکن میں حیران ہو گیا کہ وہ اپنے دفتر کے باہر بیٹھے دربان کے پاس کھڑا میرا انتظار کر رہا تھا۔ میں نے جب دربان سے اس کا پوچھا تو اس نے مجھے گلے سے لگا لیا اور مجھے دفتر میں لے گیاایک اور کولیگ سے میرا تعارف کرایا اس نے” گونگے کا خواب “مجھ تک پہنچانے کے لیے پہلے ہی اپنے ہاتھ میں تھام رکھی تھی اور پھر میں نے اس لمحے کو محفوظ کرنے کا تقاضا کیا تو اس نے دفتر کے ایک اہلکار کو تصویر بنانے کے لیے کہا۔
طارق صحرائی سے مل کر مجھے یوں لگا کہ میں بھی اردو ادب کے معروف بابوں قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق احمداور واصف علی واصف کی طرح دور حاضر کے کسی ادبی بابے سے مل رہا ہوں پھر جب گونگے کا خواب میں ڈوبا تو مجھے اس بات کا مکمل ادراک ہوگیا کہ طارق ایک مکمل بابا ہے۔ اس کی تحریر سے میری روح سیراب ہو رہی تھی جبکہ اس کے ہزاروں قارئین یہ لطف اس کے افسانے پڑھ کر لیتے ہیں جبھی تو اس کے افسانے دو تین سال سے بہترین فروخت کا ریکارڈ بنا رہے ہیں۔
(کالم نگار قومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved