تازہ تر ین

گنبد خضریٰ کے سائے میں

انجینئر افتخار چودھری ….باعث افتخار
رﺅ ف طاہر بڑی مزے مزے کی باتیں سنایا کرتے تھے ،بتایا کہ ایک اللہ کے ولی تھے اپنے مریدوں کے ساتھ بڑی دور سے مکہ پہنچے اورپڑاﺅ ڈالا ،دوسرے ہی روز کہنے لگے کہ خواب میں ملتان نظر آیا ہے مریدوں سے کہا چلو واپس۔ انہوں نے سوال کیا حضرت یہ کیوں ؟ جواب دیا یہاں آ کر ملتان خواب میں آیا ہے چلو ملتان جا کر مکہ کے خواب دیکھتے ہیں۔نور جرال اور افتخار دونوں شائد خواب دیکھنے نیویارک اور پنڈی چلے گئے باقیوں کو ضرور مکہ اور مدینہ ہی خوابوں میں نظر آتا ہو گا شائد اسی لئے ٹکے ہوئے ہیں۔جیسے مدینہ کے باسی ڈاکٹر خالد عباس الاسدی جو بن لادن ہسپتال میں برس ہا برس سے خدمت خلق کر رہے ہیں۔
نور جرال بڑا پیارا بھائی ہے اس کی زبانی ایک نعت کو مدتوں سے گنگناتا ہوں۔
کاش طیبہ میں سکونت کا شرف مل جاتا
دیکھتے روضہ سرکار کو آتے جاتے
بات تو سچ ہے یہ نصیب نصیبوں والے کو ملتا ہے۔ان میں ڈاکٹر خالد عباس الاسدی بھی شامل ہیں جو کئی عشروں سے دنیا کی مقدس ترین سر زمین میں رہ رہے ہیں۔میری تقرریں سننے والے جانتے ہیں کہ میں اپنی تقریر کا آغاز وہ دانائے سبل ،ختم الرسل، مولائے کل ۔۔۔۔ سے شروع کرتا ہوں اور اس کے ساتھ ایک شعر ”لفظ جب تک وضو نہیں کرتے ہم تیری گفتگو نہیں کرتے “اور بعد میں درود شریف پڑھتا ہوں ،اس سے میری تقریر میں برکت پڑ جاتی ہے۔ جب سے یہ وطیرہ ہے اللہ نے زبان کی ساری لکنتیں دور کر دی ہیں اور لفظ سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔میرے بیٹے کا دوست سلیم ہاشمی پوچھتا ہے انکل آپ تقریر کی تیاری کرتے ہیں اسے یہ علم ہی نہیں سب اس کے نانا سے محبت کا فیض ہے۔یہ لازوال شعر ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کا ہے ۔اللہ انہیں سلامت رکھے اس بار آیا تو مدتوں بعد بالمشافہ ملاقات ہوئی، جب آنکھ کا عارضہ لاحق ہوا تو روتا تھا ۔ایک دن فون آیا میں دعا کروںگا آپ آنکھ بند کر کے یا نور یا نور پڑھتے رہئے اور علاج جاری رکھئے۔میرے اللہ کا کرم ہوا میں پھر مدینے آ گیا۔جون میں حاضری دی ۔امتیاز مغل اور ان سے ملاقات نہ ہو سکی ۔واپسی پر فون آیا راستے میں تھے ڈاکٹر صاحب نے محبت کا اظہار کیا پچھلے ہفتے پھر حاضری نصیب ہوئی تو کھانے پر بلا لیا وہیں عزیزم جہانزیب منہاس سے ملاقات ہوئی ۔منہاس انہی راستوں پر ہے جن سے ہم تیس سال پہلے گزر کر آئے۔مدینے والے کے دربار میں ہر حاضر ہونے والے کی خدمت کرتا ہے۔وہاں برادر سردار صابر کے ہوٹل میں نشست ہوئی اپنی دو کتابیں عطا کیں ۔پاک چین دوستی اور پاک سعودی دوستی ،دو لاجواب کتابیں ان کی شاعری پر مشتمل ہیں۔کبھی اللہ نے موقع دیا تو ان کتب پر لکھوں گا۔میرے خیال میں صدارتی ایوارڈ کو اعزاز مل جائے اگر یہ ڈاکٹر خالد کو مل جائے۔ڈاکٹر عار ف علوی صدارت کو پیارے ہونے سے پہلے اچھے دوست تھے میری کوشش ہو گی کہ ایوان کی بلند و بالا دیواروں پر کوئی کمند ڈال کر ان کے کان میں کہہ دوں، سرکار مدینہ کے درباری کو اعزاز دے کر اعزاز پا لیجئے۔
وہ دیکھنے میں لکھنﺅ والے لگتے ہیں، چھریرا بدن، سامنے سے کم کم بال اور پیچھے سے شاعروں جیسے بال،کیوں نہ ہو خود بھی بڑے پائے کے شاعر ہیں۔ ڈاکٹر خالد کے لئے جدہ کے اتحاد کلب کے ساتھ ایک فلیٹ میں رات کے اس پہر جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ دل سے لکھ رہا ہوں۔کمال کا بھائی ہے ہمارا اور اوپر سے خاتون خانہ بھی لا جواب ۔ ہر کامیاب شخص کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور اس بہن سے مل کر دلی خوشی ہوئی جس نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ سالہا سال گزارے۔میں دوران ملازمت کوئی چار بار مدینہ رہا ،اسّی کی دہائی میں پھر نوے اور اس کے بعد دو ہزار دس اور دو ہزار چودہ میں۔ڈاکٹر صاحب سے کافی ملاقاتیں رہیں۔مرنجا ں مرنج خالد عباس کی شاعری کی خوبصورتی کا ایک شعر ہی کافی ہے۔میں چونکہ تبصرہ کتب نہیں کر رہا میں نے ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ انہوں نے میرے لئے قطعہ لکھا ۔اس کالم کو یہ بھی نہ سمجھئے کہ’ من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو ‘میں تمہیں حاجی کہوں اور اس کے بدلے تو مجھے ملا کہے۔ ویسے آج کل دونوں نام ہی کوئی خاص وزن نہیں رکھتے کیونکہ اس نام کے ورثاءنے کچھ اچھا نہیں کیا ۔اللہ پاک انہیں خوش رکھے جو اللہ کے دین کی خدمت کرتے ہیں۔ نسیم سحر تگڑا شاعر ہے جدہ سے ایک بار جا رہا تھا تو کہا
ہمارے شہر سے یوں افتخار کا جانا
ہے دوستوں کے دلوں سے قرار کا جانا
گراں گزرتا نہ تھا صد ہزار کا جانا
مگر ایک دیرینہ یار کا جانا
نسیم معاف کر دیں اگر لکھنے میں کوئی بھول چوک ہو۔منور ہاشمی کے ہوتے ہوئے مشہور شاعر انور مسعود نے بھی ارشاد فرمایا تھا
رس ملائی اور بیت الافتخار۔۔۔یو بی ایل میں تو ملازم تو نہیں
اے منور ہاشمی۔۔۔۔نہ مار
ڈاکٹر صاحب نے قطعہ کہا اور بار بار سنایا ،واٹس ایپ پر بھیجا ۔یہ میرے لئے عنائت ہے۔چھوٹا بھائی سجاد اس کی قدر سمجھتا ہے کہنے لگا نسلوں کے لئے انمول تحفہ ہے سچی بات ہے اس میں شک بھی کوئی نہیں۔
مدینہ منورہ کے کبوتر ہماری شاعری میں بڑے معنی رکھتا ہے۔ڈاکٹر خالد عباس کی نظر نور جرال کا شعر پیش کر رہا ہوں۔
نصیب طائران خلد میں قرباں اس کبوتر پر
کہ جس کا آشیاں ہے گنبد خضریٰ کے سائے میں
الاسدی صاحب اس شعر میں آپ کو دیکھتا ہوں۔گنبد خضریٰ کے سائے میں کتنے لوگ تھے اور اڑ گئے نہ جہانگیر خالد مغل رہے نہ ضیغم خان نہ فارقلید چودھری نہ ہی خواجہ صاحب اور بے شمار لوگ مدینے آئے چلے گئے۔ آپ خوش نصیب ہیں کس پیاری جگہ میں رہ رہے ہیں۔اور ہم بھی کچھ کم نصیب نہیں کہ گنبد خضریٰ کے سائے میں عزیزم فیصل جدون، عزیزم جہانزیب منہاس کے ساتھ آپ ایک معتبر آواز ہیں۔سرکار مدینہ کے روضہ مبارک کو آتے جاتے دیکھتے رہئے، دعا کیجئے وہ آنکھیں سلامت رہیں جو مدینے میں رہ گئیں۔ پچھلے سال مجھ پر ایک حادثہ گزرا مجھے اپنی ان کنٹرولڈ شوگر نے ایک ہی دھچکے میں اندھیر کر کے رکھ دیا۔بائیں آنکھ تو پہلے ہی متاثر تھی صحتمند آنکھ پر اٹیک ہوا اور میری نظر چلی گئی موتیے کا معمولی سا آپریشن سمجھا لیکن وہ پردے کا مسئلہ تھا کوئی چھ ماہ اسی کشمکش میں رہا کمپیوٹر پر کام بھی کرتا تو فانٹ بہت بڑا کر لیتا ۔اپنے گھر 502کے پیچھے لان میں بیٹھا سوچتا رہتا کہ اس جہان رنگ و بو سے میرا راشن ختم ہو چکا ہے۔بہت سی چیزیں یاد آ گئیں مدینہ منورہ کی یادیں اور وہ سادہ سی نعت’ آقا میریاں اکھیاں مدینے وچ رہ گئیاں‘ گنگناتا تھا ۔نم آنکھوں سے جناب حفیظ تائب کو یاد کرتا۔
کاش طیبہ میں سکونت کا شرف مل جاتا
دیکھتے روضہ سرکار کو آتے جاتے
سوچتا تھا آقا اگر اب کبھی موقع ملا بھی تو اگر ٹھیک سے دیکھ نہ سکا تو کیا ہو گا۔عزیزم نوید نے جی بھر کے خدمت کی ،ایک جگہ سے علاج کرایا آرام نہ آیا تو مزید مایوس ہوا لیکن اللہ بھلا کر ڈاکٹر نوید قریشی کا، انہیں آنکھ دکھائی تو میرے اللہ نے صحت عطا کر دی۔اب میں دیکھ سکتا ہوں لکھ سکتا ہوں۔یہ سفر اللہ کے حضور حاضری بھی تھی شکر ادا کرنے کا سفر بھی تھا۔شہر مدینہ جہاں زندگی کے کئی سال گزرے اب بدل سا گیا ہے انتہائی ماڈرن اور خوبصورت شہر کا وہ دور مجھے زیادہ لگا جب مسجد کے ایک دروازے سے منحنی پتلی سی گلی سے بہت چل کر جنت البقیع پہنچتے تھے ۔اب تو مسجد کے اندر ہی بہت چلنا پڑتا ہے سعودیوں نے کمال کر دیا ہے یہ مسجد دنیا کی خوبصورت عمارتوں میں سے ایک عمارت بن گئی ہے۔شہر مدینہ کے مسافروں کی خدمت میں تین دہائیوں سے زائد خدمتگار ڈاکٹر خالد عباس کے ساتھ بیٹھیں تو آپ کو اس شہر کی تاریخ بتائیں۔ چالیس سال میں جو تغیرات ان کی آنکھوں نے دیکھے ان سے سنتے جائیے اور جھومتے جھائےے۔ڈاکٹر صاحب یہ دعا کرتے رہیے گا سلام پیش کرتے ہوئے کہ مدینے کی گلیوں میں گھومتا آپ کی مدحت کرتا افتخار جس کا تذکرہ آپ نے اس قطعے میں کیا ،ایسا ہی ہو جائے ۔ ہم پندرہ سو الفاظ لکھتے ہیں حق ادا نہیں ہوتا آپ پچاس ساٹھ لفظوں میں دل جیت لیتے ہیں۔آج عزیزم عدنان اور عزیزہ حمیرہ سے پلاﺅ کھا کر آیا ہوں، آتے ہوئے ڈھیر سی کتابیں دیں ۔کہنے لگا انکل لے جائےے میر کی کتابیں اب ہم نے کیا کرنی، اللہ نے اپنے کرم اور اس شاعری کی جادوگری سے گھر بنا دیا ہے، آپ لے جائےے گویا وہ اب میرا گھر خراب کرنے کےلئے حسرت موہانی ،میر اور جگر مراد آبادی کی کتابوں کو گھر سے نکال رہا ہے۔ہائے افسوس ہماری نسلیں اب کتابیں نہیں پڑھتیں۔
ڈاکٹر خالد میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اس قطعے کا قرض اتار سکوں البتہ روز محشر دکھا دوں کہ گنبد خضریٰ کے سائے میں رہنے والے نے لکھا ہے۔مجھے آقا بخشش دلوا دیںگے۔ہمیشہ سلامت رہئے ۔
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved