تازہ تر ین

مسئلہ کشمیر پر مسلم ممالک کی خاموشی حیران کن

ڈاکٹر نوشین عمران …. احساس
کانگریس کے رہنما راہول گاندھی سمیت مختلف پارٹیز کے گیارہ اپوزیشن رہنما گزشتہ روز کشمیر کا دورہ کرنے بذریعہ فلائٹ سری نگر ائیرپورٹ پہنچے لیکن انہیں ائیرپورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا اورواپس بھجوادیاگیا۔سوال اٹھ رہاہے کہ ایسا کیا ہے جسے قابض مودی سرکارچھپا رہی ہے۔ کشمیرکی صورتحال پر اب عالمی ذرائع ابلاغ میں کھلی تنقید شروع ہوچکی ہے اورمقبوضہ وادی کی اصل صورتحال سامنے لائی جارہی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے ایک آرٹیکل میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور حکومت کے جھوٹے دعوﺅں کا پول کھولا گیا ہے۔بھارتی سرکار وادی میں سب ٹھیک ہے کا راگ الاپ رہی ہے لیکن ہزاروں افراد کو حراست میں لیا جاچکاہے۔ اگر حالات خراب نہیں تو نہتے شہریوں کو حراستی ایکٹ کے تحت گرفتار کیوں کیا جارہاہے۔ غیرملکی صحافیوں کووادی میں آنے سے روکا جارہاہے‘گرفتار افراد کے بارے میں کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں ہیںاورکس حال میں ہیں‘ بعض کو لکھنو‘آگرہ اوربنارس کی جیلوں میں منتقل کردیاگیاہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ کشمیر کو جھکانا ہندو انتہاپسندوں کادیرینہ خواب ہے۔ وادی میں ”کشمیرکاحل صرف بندوق“ کے نعروں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مودی حکومت کے منصوبے کے پہلے حصے پر جون2018ءکو عمل کیاگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی حکومتی اتحاد چھوڑ گئی اورحکومت کے پاس اکثریت نہ رہنے کے باعث گورنر راج نافذ کردیاگیا۔ خدشہ تھا کہ مودی آرٹیکل370کاخاتمہ چاہتے ہیں جو ان کی پارٹی کاخواب اورکئی سالوں سے منشور کاحصہ تھا۔ آرٹیکل370کے خاتمے کے لئے ریاستی اسمبلی سے مشاورت ضروری تھی لیکن ریاست میں گورنر راج کے باعث مودی سرکار کشمیری اراکین اسمبلی سے مشاورت کے بغیر ہی آرٹیکل کاخاتمہ کرسکتے ہیں۔ اخبار کے مطابق منصوبے کادوسراحصہ نومبر2018ءمیں شروع ہوا جب سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے گورنر کوبتایاکہ حکومت تشکیل دینے کے لئے ان کے پاس مطلوبہ تعداد پوری ہوگئی ہے لیکن گورنر نے اسمبلی تحلیل کردی۔ تیسرا حصہ مودی حکومت کی جانب سے الیکشن ملتوی کرانے کے لئے تمام ہتھکنڈوں کا استعمال تھا تاکہ ریاستی اسمبلی کے بغیر ہی اپنا پلان کامیاب بنایاجاسکے۔حتمی مرحلہ مقبوضہ وادی میں لاک ڈاﺅن تھا جس کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی۔ اخبار نے مزید کہاکہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کوبڑاقبرستان بنارکھاہے‘خواتین سے زیادتی اوربے حرمتی جاری ہے۔
برطانیہ کے معروف جریدے ”دی اکانومسٹ“ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا کشمیریوں کاحق چھیننے اوراختیارات کے غلط استعمال پر خوشیاں منارہاہے۔بھارت میڈیا پر پابندیاں لگاکر اصل صورتحال سامنے لانے سے روک رہاہے۔ مسلمانوں کی تضحیک کرناہندو انتہاپسندوں کا مقصد رہا ہے اور مودی ان انتہاپسندوں کے رہبر ہیں۔ بھارتی چینلز کو ڈاکومنٹری ”کشمیر پنجرے میں“ دکھانے سے روک دیاگیاہے۔ تنقید کرنے والے اخبارات کے اشتہار بند کردئیے گئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے کے مطابق بھارت کشمیر میں بڑے پیمانے پرقتل عام کرسکتاہے۔19روز کے کرفیو میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے‘ مساجد پرتالے ہیں‘ وادی میں نسل کشی کے لئے مزید انتہاپسند ہندو آرایس ایس کووادی میں بھجوادیاگیاہے اورانہوں نے آپریشن شروع کردیاہے‘صورتحال مزید تشویشناک ہوسکتی ہے۔ گھروں پر حملے اوراغوا کی کوشش کے دوران کشمیریوں سے جھڑپ میں آر ایس ایس کے170غنڈے مارے جاچکے ہیں‘ بھارتی حکومت نے انہیں اپنے فوجی ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد بھارت کے کئی ہندوگھروں میں ماتم کاسماں ہے۔ مودی کے خلاف احتجاج بھی کیاگیا‘ بھارتی حکومت عالمی میڈیا کو ان170فوجیوں کی لاشیں اورتصاویر دکھانے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ نمائندے کاکہناہے کہ اس سے فوجی وردیوں میں ملبو س آرایس ایس کے غنڈوں کاپردہ فاش ہونے کا امکان ہے۔
سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ مودی نے کشمیرپرقبضہ کرلیاہے‘ کشمیر پاکستانی عوام اورلیڈروں کے لیے ایک جذباتی معاملہ ہے۔امریکہ افغان طالبان کے ساتھ مصروف ہے اور بھارت نے اس مصروفیت کافائدہ اٹھا کریہ حرکت کی ہے۔ بھارت نے اس فیصلے کے لئے وقت کاانتخاب سوچ سمجھ کرکیاہے۔ وائٹ ہاﺅس کے حالیہ بیان کہ صدر ٹرمپ اب بھی ثالثی کے لیے تیار ہیں‘وہ جلد ہی جی سیون سمٹ کے موقع پر مودی سے بات کریں گے۔مودی کی پیرس میں موجودگی پر یونیسکو ہیڈ کوارٹر کے باہر شدید مظاہرہ کیاگیا۔تجارتی تعلقات کے باوجود فرانس کے صدر نے بھی مودی کو زوردے کرکہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ مل کر حل کرے۔انہوں نے جلد پاکستانی وزیراعظم سے بھی بات کرنے کاکہاہے۔ چین پہلے ہی پاکستانی موقف کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزارت خارجہ کشمیر کی صورتحال پرعالمی برادری سے مسلسل رابطے میں ہے۔ وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کوخط لکھ کر کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پرشدید تشویش کااظہار کیاہے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دوبارہ کہاگیاہے کہ بھارت دہشت گردی کرکے ملبہ پاکستان پر ڈال سکتاہے۔ بھارت کشمیر میں مظالم سے نظر ہٹانے کے لئے جھوٹے آپریشن کرے گا۔عمران خان نے پارلیمانی وفود بیرون ملک بھیجنے اور ہرفورم پر کشمیریوں کامقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیاہے۔
پاکستان کی کوشش سے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد سرد خانے میں پڑے مسئلہ کشمیر کو عالمی توجہ حاصل ہوئی اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کیاجانے لگا۔ پاکستان نے عالمی عدالت میں بھی مقبوضہ کشمیر کامقدمہ لے جانے کا فیصلہ کیاہے۔ دوسری طرف جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کامعاملہ9ستمبر کوعالمی انسانی حقوق کمیشن میں بھی اٹھایاجائے گا۔ جنیوا میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان کی سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ شرکت کریں گی۔ اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ستمبر کے آخر میں ہوگا جس میں26 ستمبر کومودی اور27ستمبر کو وزیراعظم عمران خان کاخطاب ہے۔ امید ہے کہ مودی کی تقریر کے بعد تقریر کرنے سے وزیراعظم عمران خان بھارتی ہم منصب کے جھوٹے پراپیگنڈے اور الزام تراشیوں کامو¿ثر جواب دیں گے۔
مقبوضہ جموں کشمیر میں مودی سرکار کی ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود یو اے ای کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کو سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ دیاجارہاہے جس کااعلان اپریل2019ءمیں کیاگیاتھا۔ اگرچہ اس وقت یہی خیال تھا کہ یہ ایوارڈ بہترین تجارتی تعلقات کے باعث دیاجائے گا لیکن آج اویسلا یونیورسٹی سویڈن کے انٹرنیشنل سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر آف پیس اشوک سیون نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہاہے کہ اس ایوارڈ کی ایک وجہ انڈین کوسٹ پرمارچ2018ءمیں کیاجانے والا اماراتی اوربھارتی حکومتوں کامشترکہ آپریشن ہے جس میں یو اے ای سے مفرورشہزادی لطیفہ کو بازیاب کروایاگیاتھا۔
کشمیر کے ایشو پر کئی مسلمان ممالک کی خاموشی حیران کن ہے‘ ایسے میں مودی کو دئیے جانے والا ایوارڈ کشمیریوں اورپاکستانیوں کے لئے انتہائی تکلیف کاباعث ہے۔ اوآئی سی اورکچھ مسلمان ممالک کی جانب سے متوقع ردعمل نہ آنے پر افسوس ہی کیاجاسکتاہے۔
سجدہ خالق کوبھی ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا
(کالم نگار”خبریں “کی منیجنگ ایڈیٹر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved