تازہ تر ین

پاک دھرتی کے شہیدوں کو سلام

عبدالستاراعوان….(احوال عصر)
طلبہ تنظیم’ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ‘کی طرف سے حال ہی میںلائن آف کنٹرول پر شہید ہونے والے پاک آرمی کے جوان لانس نائیک تیمور شہید ‘دیگر شہدائے افواج پاکستان اور کشمیری حریت پسندوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے گزشتہ دنوں والٹن کینٹ میں ایک شاندار سیمینار کا انعقا د کیا گیا ۔ میں نے ”شاندار“کالفظ محض ”خانہ پری“کے لئے ہرگز استعمال نہیں کیا ،والٹن کے محب وطن شہریوں نے اس تقریب میں بہت بڑی تعداد میں شرکت کر کے اور اپنے قومی ہیرو ز کے ساتھ والہانہ عقیدت کا اظہار کر کے اسے صحیح معنوں میں شاندار اور یادگار بنادیا تھا ۔
اس تقریب کے مہمان خصوصی تیمور اسلم شہید کے والد گرامی ملک محمد اسلم تھے اور دیگر اہم مقررین میں تحریک انصاف کے رہنمااورصوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس،مسلم لیگ نواز کے ممبر صوبائی اسمبلی یاسین عامر سوہل ،اردو قومی زبان تحریک کی فاطمہ قمر اور ایم ایس او کے راہنما عبد اللہ خان تھے۔ سیمینار سے دیگر طلبہ تنظیموں کے قائدین اور ارباب فکرودانش نے بھی اظہار خیال کیا ۔اس موقع پر راقم السطور نے شرکاءکے سامنے اپنی معروضات پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ نریندر مودی کی سرپرستی میں بھارتی فوج نے کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کرد یا ہے ۔مودی سرکار نے کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ کی قرا ردادوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے بھارتی آئین میں موجود کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا ہے جس سے مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سمیت پورے خطے میں بھارتی حکمرانوں اور قابض افواج کے خلاف نفرت کی ایک شدید لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے ۔ بھارت کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف پاکستان عالمی سطح پر سفارتی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری بہادر افواج کشمیر کی آزادی اور اپنے وطن کی حفاظت کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لیے ہر دم تیار و بیدار ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جذبہ ایمانی اور اتحاد کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کریںاور ہندو بنیے پر واضح کردیں کہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر دنیا کے نقشے پر پاکستان کا حصہ بن کر ابھرے گا۔
ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ تیمور شہید جیسے جوان ہمارے قومی ہیروز ہیں جو اپنی جانوں پر کھیل کر ارض وطن اور کشمیری عوام کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔الحمد اللہ ! ہم ایسی قوم ہیں جس کے سرحدی پہرے داروں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار ہے ۔ہمارے اِن محافظوں کے دلوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ موجزن ہے اور وہ اپنی زندگی پر شہادت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دشمن نے سرحدو ں پر سراٹھایا یا اس نے اندرونِ ملک دہشت گردوںاور ٹی ٹی پی جیسے گروپوں کی پشت پناہی کر کے وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہا ہمارے بہادرسپوت آگے بڑھے اور دشمن کو نیست و نابود کر ڈالا ۔ پاک دھرتی کے محافظ اس انداز سے دشمن پر جھپٹتے ہیں کہ اسے نشان عبرت بنا دیتے ہیں۔ اس کا بہترین مظاہرہ حال ہی میں ہم نے دیکھا جب لانس نائیک تیمور شہیداور ان کے دو ساتھیوں نے لیپاسیکٹر میں اگلے مورچوں پرجوانمردی کے جوہر دکھاتے ہوئے دشمنوں کو حرف غلط کی طرح مٹا ڈالا۔پاک دھرتی کے یہ بیٹے اس انداز سے دشمن پر برق بن کر گرے کہ اسے کوئی جائے پناہ نہ مل سکی ۔ہمارے جوانوں کی بہادری اور عسکری مہارت کا یہ مظاہرہ ویڈیوزاورتصاویر کی صورت میں پوری دنیا دیکھ چکی ہے کہ انہوں نے کس طرح مہارت کے ساتھ دشمن کے بنکر ز تباہ کر دیے اور وہاں پر تعینات ہندو فوجیوں کوجہنم واصل کیا۔
عزیز دوستو! سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں ہم نے کیا کرنا ہے ۔ میں یہ گزارش کروں گا کہ جانے انجانے میں ففتھ جنریشن وار کاحصہ بن کر دشمن کے ارادوں کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ کیونکہ پوری ملت کفر وطن عزیز کی بہادر افواج سے خائف ہے اور وہ بھاڑے کے دانش وروں کے ذریعے نوجوان نسل کے دل و دماغ میں اپنے محافظوں کے خلاف نفرت کازہر انڈیل کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے کیونکہ اسے بخوبی علم ہے کہ جس دن عوام کے دلوں سے عساکر پاکستان کی محبت نکل گئی وہ دن پاکستان کا آخری دن ہوگا۔ اس لیے میری تمام دوستوں سے گزار ش ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر صرف اور صرف” اسلام ،پاکستان اور افواج پاکستان “زندہ باد کا نعرہ بلند کر کے دشمن کے عزائم خاک میں ملا ئیں۔ ففتھ جنریشن وار ہو یا Hybrid war ، دشمن کی جدید دورکی ان چالوں کو سمجھتے ہوئے ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کے خلاف ارادی یا غیر ارادی طور پر کسی بھی مہم کا حصہ مت بنیں۔
ملک دشمن ایجنسیاں غیر روایتی اور نہ سمجھ میں آنے والے داﺅ پیچ استعمال کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتی ہیں ۔ اس کے لیے ان طاقتوں کے پاس آج کل ایک بڑا حربہ سوشل میڈیابھی ہے۔ہمارے بعض نادان دوست بھی محض ریٹنگ اور پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں دشمن کے ارادوں کو تقویت دے رہے ہیں۔ ہمیں نئے دور کی ان جنگی چالوں کو سمجھ کر ان سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ ہمیںسوشل میڈیا کے استعمال میں ہمیں نہایت احتیاط سے کام لیتے ہوئے دشمن کے ارادوں کوناکام بنانا ہے۔ میں اس موقع پر تیمور شہید کے باہمت والدین کو سلام پیش کرتا ہوںکہ انہوں نے جوان بیٹے کی جدائی کا صدمہ بڑی استقامت کے ساتھ بر د اشت کرکے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ہمارا یہ قومی فرض ہے کہ ہم تیمور شہید جیسے اپنے قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایسی شاندار تقریبات کا اہتمام کرتے رہیں۔ اس پروگرام کے انعقاد پرایم ایس او کے احباب بھرپور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دعا ہے ان حضرات کا یہ جذبہ ایمانی اورجذبہ حب الوطنی یونہی سلامت رہے اور اللہ کریم انہیں مزید استقامت عطا فرمائیں۔( آمین)۔ اسلام زندہ باد ۔۔۔۔پاکستان پائندہ باد۔
(کالم نگارسماجی وادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved