تازہ تر ین

کشمیر کیسے آزاد ہو سکتا ہے؟

اسرار ایوب….(قوسِ قزح)
اگر ہندوستان سے جلسوں اور جلوسوںکے زور پر کشمیرکو آزادکرایا جا سکتا تو بہت پہلے کرایاجا چکا ہوتا، اگربین الاقوامی تعلقاتِ عامہ میں تقریروں اور نعروں کی کوئی وقعت ہوتی تو آج امریکہ نہیں بلکہ پاکستان سپر پاور ہوتا لیکن ایسا ہوا نہ ہوسکتا ہے۔
کشمیر کو آزاد کروانے کیلئے سب سے پہلے تومعاشی طور پربھارت سے زیادہ نہیں تو بھارت جتنا طاقتور ہونا ضروری ہے، تو کیا آپ جانتے ہیں کہ بھارت کی معیشت آج جتنی مضبوط اور پاکستان کی جتنی کمزور ہے اتنی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھی۔ بھارت کے ”فارن ایکسچینج ریزروز“430ارب امریکی ڈالر جبکہ پاکستان کے فقط7ارب امریکی ڈالر ہیں اور”نیٹ انٹرنیشنل انوسٹمنٹ پوزیشن“(یعنی آپ کی قوم کے اثاثہ جات جو غیر ملکوں میں ہیںاور غیرملکیوں کے اثاثہ جات جو آپ کی قوم میں ہیں، ان کی ”بیلنس شیٹ“) ہندوستان میں 436ارب ڈالر اور پاکستان میں فقط 21ارب ڈالر ہےں۔ تو آپ خود ہی فرمائیے کہ اگردو لوگوں میں لڑائی ہو جائے تو آپ کس کا ساتھ دیں گے ، اُس کا جس کے اثاثہ جات 436ارب ڈالر کے ہوں اور جس کا بینک بیلنس430ارب ڈالر ہو یا اُس کا جس کی جائیداد21ارب ڈالرکی ہو اور اُس کے اکاﺅنٹ میں صرف 7ارب ڈالر ہوں وہ بھی اُدھار کے؟ یہی وجہ ہے کہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس جو چین جیسے مضبوط ترین معاشی اور فوجی ملک(جو” ویٹو پاور “بھی ہے)کی ذاتی دلچسپی سے منعقد ہوا، اُسکی کاروائی بھی ریکارڈ نہیں کی گئی۔
معیشت فوری طور پر بہتر ہو نہیں سکتی اور معیشت کے بہتر ہونے کا انتظاربھی نہیں کیا جا سکتا،تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں کیا کیا جائے جب ہندوستان ہر اخلاقی و قانونی اصول کو پیروں تلے روند کرمقبوضہ کشمیر میںظلم و بربریت کی انتہاﺅں کو چھو رہا ہے؟ راستے دو ہی ہیں، ایک جنگ کا جو روایتی ہتھیاروں کے ساتھ زیادہ عرصے تک اس لئے نہیں لڑی جا سکتی کہ ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں ، بالفرضِ محال یہ جنگ لڑ بھی لی جائے تو بھی دوایٹمی طاقتوں کے درمیان روایتی ہتھیاروں کی جنگ نتیجہ خیز کیسے ہو سکے گی؟ اور ایٹمی جنگ کی صورت میںظاہر ہے کہ کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔
ہمیں دو طرفہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے ، وہ اس طرح کہ ایک طرف معاشی ایمرجنسی لگا کر (ماہرین کی مدد سے ) معیشت کوہنگامی بنیادوں پر درست کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دی جائے اور دوسری جانب مسئلہ کشمیر پر اپنے بیانئے کو موجودہ ضروریات سے اس اُصول کے تحت ہم آہنگ کیا جائے کہ مچھلی کا شکار کرنے کےلئے کانٹے پر اپنی پسند کی نہیں بلکہ مچھلی کی پسند کی خوراک لگانی پڑتی ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ کشمیر اور پاکستان ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیںیعنی کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دل ایک دوسرے کے سینے میں دھڑکتے ہیں یعنی کشمیری اور پاکستانی ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن بین الاقوامی سطح پر جب ہم کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہیں تو ہندوستان اسے اپنا اٹوٹ انگ کہہ دیتا ہے اور یوں یہ مسئلہ دو ملکوں کے درمیاں ایک سرحدی تنازعہ بن کر رہ جاتا ہے جس پر اقوامِ عالم کا توجہ نہ دینا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اس مسئلے کو اُن بنیادی انسانی حقوق(یعنی آزادی، انصاف اور امن) کی باریابی کا مسئلہ قرار دینا چاہیے جو اقوامِ متحدہ نے دنیا کے ہر انسان کے لئے بلا تخصیص منظور کر رکھے ہیں، یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس مسئلے کو ایک علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
اطمینان کی بات یہ ہے عمران خان یہی دو کام کر رہے ہیں، پہلے تو انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے یہ بہت دیکھ لیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور ہندوستان کے لوگ کیا چاہتے ہیں، اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کشمیری کیاچاہتے ہیں؟یعنی یہ ایک سرحدی جھگڑا نہیں بلکہ ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کو ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دینے کا مسئلہ ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مودی کے فلسفے کو ہٹلر کے فاشزم کی دوسری قسط قرار دے کردنیا کو یہ باور کرا نے کی کوشش بھی کی کہ ہندوستان میںمسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے لوگوں کو انتہا پسند ہندو حکومت سے خطرہ ہے۔
ہمیں دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کے اپنے سیاستدانوں کے بقول امریکہ کے ہالوکاسٹ میوزیم میںفاشزم کے جو 7اصول درج ہیں وہ تمام کے تمام مودی کے ہندوستان میں واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ پہلا قومیت کی بنیاد پر زندہ رہنے کا حق چاہے باقی سب کو روندنا ہی کیوں نہ پڑے۔ دوسراقومیت و مذہب کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی جس کے طفیل نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم میں گزشتہ سال کی نسبت اس برس 10گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ تیسرا میڈیاپر کنٹرول تاکہ وہ حکومت کے اشاروں پر ناچے یا اپنا بوریا بستر سمیٹ کر چلتا بنے۔ چوتھانیشنل سیکیورٹی کے نام پر ملک میں خوف کی فضا قائم کرنا۔ پانچواںحکومت اور مذہب کا باہم ہونا۔ چھٹادانشوروںروشن خیال تعلیم اور تعلیمی اداروں کے خلاف اقدامات اور تعلیمی نصاب میں انتہاپسندی کے رجحانات کو داخل کرنا اور ساتواںالیکشن کمیشن کو گھر کی لونڈی بنانا۔ فاشزم کے ان سات اصولوں اور ان کے تحت مودی حکومت کی کارکردگی پر بھارتی رُکن پارلیمنٹ ماہوآ موترا کی تقریر جو لوک سبھا میں کی گئی، انٹرنیٹ کے ذریعے کوئی بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔
ہمیں دنیا کے ہر ملک سے یہ پوچھنا چاہیے کہ اگر ہندوستان میں فاشزم کی حکومت نہیں تو پھر” امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی “کے وفد کو ہندوستانی ویزا دینے سے معذرت کیوں کی گئی؟ اس حوالے سے USCIRF(یونائیٹڈسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم)کے چیئرمین رابرٹ جارج کی پریس ریلیز انٹرنیٹ کے ذریعے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کمیشن کی ویب سائیٹ پرسالانہ رپورٹ 2019کے India Chapterمیںواضح طور پریہ بھی لکھا ہے کہ اب ہندوستان سیکولر نہیں رہا کیونکہ وہاں مذہب کے نام پر لوگوں کو دن دیہاڑے بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس سب کی پشت پناہی حکومت کرتی ہے۔
قصہ مختصر معیشت کو بہتری کے رستے پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کوایک نئے بیانیے کے تحت اپروچ کیا جائے تو کچھ عجب نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکے بصورتِ دیگرکشمیر کے نام پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیاست کی جاتی رہی تووقت ہاتھ سے نکل جائے گا اور ہاتھ ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved