تازہ تر ین

کاش! ہم سچ کہنے اور سننے کا حوصلہ رکھتے

نجیب الدین اویسی ….(ستلج کنارے)
پچھلے دنوں سرکٹ ہاﺅس میں محرم الحرام میں امن و امان کی خاطر ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ عرصہ دراز سے میں میٹنگوں میں جانا ایک بیکار پریکٹس تصور کرتا ہوں۔میں اپنی پارٹی کی پارلیمانی میٹنگوں میں بھی شاذ و نادر جاتا ہوں۔شاید ان چھ سالوں میں (2013ءتا 2019ئ) چھ مرتبہ بمشکل شریک ہوا ہوں گا۔ان تمام تر (زیادہ تعدادتقریباََ 99%) میٹنگوں میں چند خوشامدیوں کی قصیدہ گوئی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ یہ قصیدہ گو خوشامد میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے پرجھوم جھوم رہے ہوتے ہیں اس دوران میری روح پر سخت کوڑے برس رہے ہوتے ہیں۔ پورے پانچ سال میں ہمارے قائد میاں محمد نواز شریف نے شاید ہی پانچ پارلیمانی میٹنگز کی ہوں گی۔ میں بھی وزیر اعظم کی خوشامد میں شاید تین چار میٹنگوں میں شریک ہوا۔ جو چند مقرر تقریر کرتے یا جنھیں تقریر کرنے کا موقع ہی اس لیے فراہم کیا جاتا کہ یہ مداح سرائی کرینگے۔ ہم جیسے گستاخوں کو خاموش ہی رہنے دیا جاتا۔میرے انتہائی معزز قابل صد احترام Colleagues ایسی لفاظی کرتے جسے سن کر میں سوچتا ابھی زمین دھنس جائے گی۔
کاش مجھ میں اتنی ہمت ہو میں کھڑے ہو کر چیخ چیخ کر کہوں یہ سب غلط کہہ رہے ہیں۔ یہ سب جھوٹے ہیں لیکن میں ایسا کبھی نہ کر سکا۔ میں نے ایسا کبھی نہ کیا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں میں بھی تو ان خوشامدیوں کے جرم میں برابر کا شریک ہوں ۔ پھر اپنے آپ کو خوش کرنے کے لیے خود ہی خود کو تسلی دے لیتا ہوں۔ برائی دیکھو تو ہاتھ سے روکو ، ہاتھ سے نہیں روک سکتے ، زبان سے روکو، زبان سے بھی نہیں روک سکتے تو دل میں کہو یہ غلط بات ہے۔ یہ ایمان کی سب سے کمزور نشانی ہے۔ مگر نہیں یہ بھی اپنے آپ کو طفل تسلی ہے۔ میں بھی اس لیے نہیں بولتا کہیں میرے قائد ناراض نہ ہو جائیں۔ کہیں ان کے مزاج پر میرے الفاظ گراں نہ گزریں۔
بات ہو رہی تھی محرم الحرام کی امن میٹنگ کی۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا میں میٹنگوں میں جانا پسند نہیں کرتا۔ نا جانے کیسے خیال آگیا؟ میں حسب پروگرام دو بجے پہنچا یہ بھی میری روایت کے خلاف تھا۔ منیر نیازی کے الفاظوں کی ترجمانی کرتے ہوئے” ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں“۔ دو بجے ماسوائے پولیس ، چند معزز شہریوں، علماءکرام کے کوئی بھی نہ تھا۔ میں پنڈال میں جانے کی بجائے سرکٹ ہاﺅس کے ہال میں جا کر بیٹھ گیا۔مجھے بتایا گیا میٹنگ تین بجے ہے۔فوراََ مےرا ماتھا ٹھنکا، مجھے یاد آیا مقامی انتظامیہ لاہور ، اسلام آباد کے معزز مہمانان کی آمد سے کم از کم ڈیڑھ سے دو گھنٹے پہلے کا وقت بتاتے ہیں۔ میں جس ہال میں بیٹھا تھا وہاں دو تین پولیس اہلکار بھی بیٹھے تھے جن کے پاس وائرلیس سیٹ تھے جس پر لاہور سے معزز مہمانان کی ایئر پورٹ پر لینڈنگ تین بجے ہوئی۔
کچھ دیر بعد پوزیشن معلوم کی گئی تو کمشنر آفس میں اعلیٰ سطح کی میٹنگ کا کہا گیا۔ مجھے ایک معتبر ذرائع سے معلوم ہوا تمام ایم این ایز ، ایم پی ایز کو کمشنر آفس بلایا گیا ہے۔شاید وہ معزز اراکین حکومتی جماعت کے ہونگے۔ ہمارا یہ قومی المیہ ہے ہر دور میں حکمران جماعت کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔سرکٹ ہاﺅس کے ہال میں بیٹھے ہوئے مجھے دو گھنٹے ہو گئے یہ بھی میرے مزاج کے خلاف عمل تھا۔ مگر میں مختلف وجوہات کے باعث بیٹھا رہا۔ میں انصاف والوں کی میٹنگ دیکھنا چاہ رہا تھا ۔ لاہور سے میرے دوست جن کے بارے میں بتایاگیا، یوسف نسیم کھوکھر چیف سیکر ٹری ، عارف نواز آئی جی، رائے طاہر ایڈیشنل آئی جی تشریف لا رہے ہیں۔ یہ سب میرے اچھے پیارے، محبت کرنےوالے دوست ہیں۔ افسوس کھوکھر صاحب کی بجائے ان کا نمائندہ شریک ہوا۔ رائے طاہر موجود بھی تھے مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ صرف عارف نواز کا شکوہ سننا پڑا آپ لاہور نہیں آتے ؟ آتے ہیں تو شاید ہم سے نہیں ملتے ؟
جونہی معلوم ہوا مہمانا ن عظام کمشنر آفس سے چلنے والے ہیں میں پنڈال میں آگیا۔ میں نے A.C سٹی بہاولپور سے پوچھا کہاں بیٹھوں ؟ انھوں نے فرنٹ پر تیسری کرسی پر اشارہ کیا آپ یہاں تشریف رکھیں۔ میں اس رو پر بچھی کرسیوں میں آخری پر بیٹھ گیا۔ ان کر سیوں کے پیچھے بھی دو کر سیاں علیحدہ اسی سٹائل کی انتظامیہ نے حفظ ماتقدم کے طور پر رکھی ہوئی تھیں۔ مہمانوں کی آمد سے قبل A.C سٹی نے ایک کرسی میرے دائیں جانب رکھوا دی۔ جونہی مہمان تشریف لائے ۔پنڈال میں اگلی قطار میں بیٹھے چند لوگوں سے ہاتھ ملا کر دائیں بائیں جانب دیکھے بغیر کرسیوں پر بر اجمان ہو گئے۔ ان کے بیٹھنے کے بعد کمشنر میرے پاس آئے مجھے فرمایا آپ ادھر بیٹھ جائیں جہاں ایک علیحدہ رو میں تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز بیٹھے تھے۔
میں اٹھ کر باہر جانے لگا تو کمشنر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انھوں نے دوڑ کر مجھے پکڑا تو کہا آپ ادھر بیٹھیں۔ خود خالی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ایک ریزور کرسی لگوا کر RPO بہاولپور کو بٹھا دیا۔اب میں نے پنڈال اور معزز حاضرین کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔میرے دائیں کمشنر بہاولپور تو بائیں ایک اجنبی شخص بیٹھا تھا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا، ان کے چہرے کی سختی،بیزاری، ناگواری سے میں نے نتیجہ اخذ کیا یہ کوئی سخت مزاج بیوروکریٹ ہے۔ جب سٹیج سیکر ٹری نے انھیں تقریر کیلئے بلایاتو میرا خیال درست ثابت ہوا وہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم نکلے۔ وہ مختصر خطاب کے بعد واپس اپنی کرسی پر آبیٹھے۔ مگر پوری میٹنگ کے دوران بیزار بیزار ، غصے سے بھر پور انداز میں بیٹھے رہے۔ مجھے میاں شہباز شریف یاد آئے جن کے دور میں سٹیج کی ترتیب مختلف ہوتی تھی مجا ل ہے کوئی افسر سٹیج پر پاﺅں بھی رکھتا۔ ہر ضلع سے ایک ایک عالم دین نے تقریر کی۔ ہماری انتظامیہ کا 72 سال سے وتیرہ ہے وہ میٹنگ سے پہلے مقررین کا چناﺅ کرتے ہیں انھیں وزیراعلیٰ، وزیر اعظم کی آمد سے قبل دو تین مرتبہ چائے، کیک، پیسٹریوں سے تواضع کر کر کے بریفنگ دیتے ہیں۔ جن پر ان کا مکمل اعتماد ہوجائے ان کو تقرےروں کیلئے چن لیتے ہیں۔ ہر مقرر نے اپنی سکت کے مطابق انتظامیہ کی تعریف میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ویسے ہمارے کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنرلائق تعریف بھی ہیں مگر کچھ ایسے افسروں کی بھی تعریفوں کے پل باندھے جو لائق تعریف ہی نہ تھے ۔اس کالم کے لکھنے کے دوران جمعہ کا وقفہ کیا۔ جمعہ کی ادئیگی کے بعد کچھ دیر کے لیے اکیلے بیٹھے ہوئے سوچنے لگا، ہم کمزور لوگ ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں کمزوروں کی زند گی بڑی مشکل ہے۔اگر اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے دولت، عہدہ نہ ہو تو پھرافسروں کی خوشامد ہی سے کام چلانا پڑتا ہے۔ بھَلا اس میں ان مقررین کا کیا قصور ہے؟
پھر اپنے آپ پر بھی غصہ آیا۔ ” اے بندہ خطا بڑا سچائی کا داعی ہے“ کہاں سچ بولتا ہے؟ کہاں سچ کہتا ہے؟ اپنے کمزور لوگوں کے سامنے، بے چارے بیوروکریٹ کے سامنے، اگرچہ ہماری بیوروکریسی بڑی ہی مضبوط، طاقتور ہے مگر ہر بات درست، غلط، سچ سننے کی ٹریننگ یافتہ ہے۔آپ کی ہر بات کو مسکرا کر ٹال دے گی۔ہاں جب آپ اس کے ہتھے چڑھے، سود سمیت حساب چکتا کر دے گی۔ بیوروکریسی میں اچھے لوگ بھی ہیں جو مجھ ایسے بد مزاج سے بھی پیار کرتے ہیں۔
یہی سوچتے سوچتے خود ہی نادم ہوا۔ ماسوائے دو مواقع کے میں نے کبھی میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف جیسے طاقتورپارٹی صدورکے سامنے سچ نہیں کہا۔ میاں شہباز شریف کو 2010ءمیں ضمنی الیکشن کی ٹکٹ لیتے ہوئے۔ میاں محمد نواز شریف کو 2015ءمیں جب مجھے پارلیمانی سیکرٹری بنایا گیا، میں نے خوب سچی سچی باتیں کیں۔ جس کا گواہ ایڈیشنل سیکرٹری (ریٹائرڈ) حسن بھروانہ زندہ و سلامت ہیں۔ اس وقت دونوں بھائی وقت کے بلا شرکت غیرے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم تھے۔
کاش! ہم سب سچ کہنے، سچ سننے کا حوصلہ رکھتے۔
(کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved