تازہ تر ین

اخبار فروشوں کی قلت اور ٹیلی ویژن سے مقابلہ کرنے کا طریقہ

اتوار کی شام اخبار فروش یونین لاہور کے زیر اہتمام اخبار مارکیٹ میں ایک سیمینار ہوا جس میں اخباری صنعت کے مسائل اور اخبارات کی سرکولیشن کے امور پر گفتگو ہوئی اخبار فروش یونین نے بحث مباحثے کا یہ سلسلہ شروع کیا ہے اور پہلی ہی تقریب میں ملک کے سینئر ایڈیٹر کی حیثیت سے سب سے پہلے سیمینار میں مجھے بلایا گیا۔ آغاز میں اخبار فروش یونین کے صدر چوہدری نذیر احمد نے اظہار خیال کیا جس کے جواب میں PFUJ کے رانا محمد عظیم نے مختصر گزارشات پیش کیں۔ پھر میں نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اخبارات میں کام کرتے ہوئے کم و بیش 52 سال گزر چکے ہیں اور میں پرانے زمانے کو یاد کرتا ہوں تو اخباروں کے عروج کا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ جب اخبار فروش مارکیٹ میں روزانہ لوگ جمع ہوتے تھے اور انارکلی کے چوک میں کھیر والے کی دکان تک اخبار فروخت ہوتے تھے۔ سرکلر روڈ بھرا ہوتا تھا اور مسجد کے سائے تلے دکانوں کے باہر سٹال لگتے تھے ماضی کے زمانے کی نسبت اخبارات کی سرکولیشن کم ہو چکی ہے اخبار فروش مارکیٹ کو دیکھا جائے تو لگتا ہے اس کی رونق اجڑ چکی ہے۔ بیشمار اخبار فروش یہ کام چھوڑ کر دوسرے کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں پٹرول کی مہنگائی کے پیش نظر لاہور کے مضافات میں دور دراز آبادیوں تک جانے میں پٹرول اتنا صرف ہوتا ہے کہ اکثر علاقوں میں اخبار فروش موٹر سائیکلوں پر پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اخبار فروشوں کا یہ کہنا ہے کہ اس پیشے میں بعض اوقات قریبی عزیزوں کے جنازے چھوڑ کر آنا پڑتا ہے اب اس کے امکانات کم ہو گئے ہیں لوگ باگ دیر سے اٹھنے کے عادی ہیں اور صبح چار بجے اٹھ کر اخبار فروش مارکیٹ پہنچنا مشکل ہو گیا ہے لہٰذا سب سے پہلا اور بڑا مسئلہ تو نئے اخبار فروشوں کی تلاش ہے۔ میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ اخبار فروش مارکیٹ نئے اخبار فروشوں کی تلاش کیلئے اخبارات میں اشتہار دے۔ جب میں کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتا تھا تو میرے ساتھ بہت سے طالب علم صبح سویرے اخبار فروشی کر کے کالج آتے تھے۔ میں روزنامہ خبریں، روزنامہ نیا اخبار اور چینل ۵ کی طرف سے پیشکش کرتا ہوں کہ دو ہفتے تک یعنی 15 روز بلامعاوضہ اشتہار چھاپوں گا کہ موٹر سائیکل رکھنے والے اور روزگار کی تلاش میں کوشاں نوجوان رابطہ کریں مجھے یقین ہے کہ اخبار فروشی سے رزق حلال کمایا جا سکتا ہے اور اخبار فروشوں کی قلت کے مسئلہ پر آپ لوگ قابو پا سکتے ہیں۔
لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اخبار کی سرکولیشن میں کیونکر اضافہ کیا جائے یہ درست ہے کہ ٹیلی ویژن کی آمد کے بعد بالخصوص پرائیویٹ چینل شروع ہونے پر اخبار کا بہت بڑا حریف پیدا ہو گیا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبارات نے بھی اپنے آپ کو نہیں بدلا۔ ٹی وی چینلز کے علاوہ سوشل میڈیا اور موبائل ٹیلیفونوں پر ایپ سسٹم نے اخبارات کی کمی بڑی حد تک پوری کر دی ہے لیکن اگر اخبارات چاہتے تو اپنے اندر تبدیلی لا کر اس کمی کو پر کر سکتے تھے۔
میں اس ضمن میں ایک واقعہ سناتا ہوں پرویز مشرف کا دور تھا جب میں ان کے ساتھ امریکہ کے دورے پر گیا اور مجھے وائٹ ہاﺅس میں جا کر پرویز مشرف اور امریکی صدر بش سے ایک ایک سوال کرنے کا موقع ملا مجھے یاد ہے میں نے یہ سوال مسئلہ کشمیر پر امریکہ کی بے رخی پر کیا تھا۔ امریکی اور پاکستانی چینلزپر اس پریس کانفرنس کی خبر چلی لیکن اگلی صبح میں نے پانچ بڑے امریکی اخبارات منگوائے کیونکہ میں یادگار کے طور پر صدر بش سے اپنا سوال و جواب چھپی ہوئی شکل میں ریکارڈ میں رکھنا چاہتا تھا لیکن کسی ایک اخبار میں بھی ایک سطر کی خبر نہیں چھپی تھی میں نے حیرت سے بعض پرانے مقیم پاکستانیوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ جو چیز ٹیلی ویژن پر نشر ہو جائے اسے اخبار نہیں اٹھاتا اس کے برعکس ہمارے ہاں گزشتہ رات 9 بجے اور رات 12 بجے کے نیوز بلیٹن اگلی صبح من و عن اخبارات میں چھپ جاتے ہیں اور اخبارات نہیں سوچتے کہ ہر گھنٹے بعد مختصر خبریں اورتین بار ایک ایک گھنٹے کے نیوز بلیٹن دیکھنے کے بعد اگلی صبح لوگ دیکھی ہوئی خبریں پڑھنے کے لئے اخبار کیوںخریدیں۔ مہنگائی کی وجہ سے جو چیز مفت میں مل سکتی ہے اس پر پیسے کیوں خرچ کریں۔ 27 سال پہلے میں جس اخبار سے منسلک تھا وہ لاہور میں 95 ہزار فروخت ہوتا تھا آج وہ اتنی مدت گزرنے اور تعلیم زیادہ ہونے کے باوجود شہر میں 20 ہزار بھی نہیں بکتا یہی حال باقی شہروں کا ہے اخبار والوں کی اپنی غلطیاں ہیں اور فیڈ بیک کا سلسلہ نہ ہونے کے باعث آپ اخبار والوں کو بھی یہ نہیں کہتے کہ آپ چھاپ کیا رہے ہیں اور اخباروں کی سرکولیشن تو آپ نے خود تباہ کی ہے۔ حیرت ہے اخباری تنظیمیں اے پی این ایس اور سی پی این ای آپس میں لڑنے جھگڑنے کی بجائے ان اہم مسائل پر نہ مل کر، نہ الگ الگ غور نہیں کرتیں جس کی وجہ سے اخبار دن بدن اپنی سرکولیشن کھو رہے ہیں اور آپ لوگ بھی ان مسائل پر کوئی بحث مباحثہ نہیں کرتے۔
میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ اخبارات میں ایسا مواد چھاپا جائے جس کی پڑھنے والوں میں پیاس ہو اور اخبار فروشوں کی قلت کا معاملہ حل کر لیا جائے تو بگڑی پھر ایک بار بن سکتی ہے۔ بشرطیکہ پیشہ ورانہ اہلیت اور لگن موجود ہو۔ چشم تصور سے میں اخبار مارکیٹوں کو پھر سے پھلتے پھولتے دیکھ رہا ہوں اور اخبارات کی سرکولیشن بڑھتے مجھے نظر آ رہی ہے۔ یہ کام ہر گز مشکل نہیں بشرطیکہ ہم مل جل کر مسئلے پر قابو پائیں نئے اخبارات مزید محنت کریں اور سستا اخبار بیچنے اور بعض اوقات بلامعاوضہ پھینکنے کی بجائے اس کے تحریری مواد پر محنت کریں تو اخبار کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے یہ اصول پلے باندھ لیں کہ جو خبر ٹیلی ویژن نے دکھا دی اسے ہر گز اخبار میں جگہ نہ دیں اور اپنا اور پڑھنے والوں کا وقت ضائع نہ کریں۔
(اخبار مارکیٹ لاہور کی ایک تقریب سے خطاب)


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved