تازہ تر ین

سفر کربلا اور حالت کربلا

سلمیٰ اعوان …. (لمحہ فکریہ)
تو آج کربلا کے لئے روانگی تھی۔بغداد سے کربلا، کوفہ اور نجف اشرف کے شہر دراصل مےسوپوٹےمےاکے علاقے ہےں۔دجلہ و فرات سے مستفےذ ہونے اور اِن کی زرخےزی سے بھرپور فائدہ اٹھانے والے۔
اےک تو جگہ جگہ چےک پوسٹوں کا سےاپا۔گاڑی رک جاتی ۔پولےس کا پورا جتھا چےکنگ کے جدےد ترےن آلات کے ساتھ اندر آتا۔پہلا مرحلہ تو گُھورگُھور کر دےکھنے کا ہوتا ےوں جےسے القاعدہ کے لوگ ہوں۔
صحرا کا نخلستان دےکھنے کا بھی اپنا مزا ہے۔بلدےہ مصےب کا جب دےدار کرتے تھے کوئی عقب سے حضرت عون کے مزار کی بات کرتا تھا۔
دھوپ کربلا کی گلےوں مےں اتری ہوئی تھی۔وےرانی کا گھمبےر سا تاثر ہر شے پر بکھرا ہوا نظر آےا تھا۔ مکانوں کی خستگی اور کہنگی بھی بڑی نماےاں تھی۔
برقی تاروںکے بے ہنگم پھےلاﺅسے بھی کوفت ہو رہی تھی۔ درختوں کی شجر کاری ضرور تھی مگر کثرت کہےں نہ تھی۔ ےہ شہر پوری دنےائے اسلام کےلئے مقدس ترےن جسکی زےارت کےلئے آنے والوں کا اےک نہ ختم ہونے والا تانتا۔ اسے تو خوبصورتےوں کا مرقع بنانا چاہےے تھا۔ اسکے وےرانوں کو نخلستانوں مےں بدل دےنا چاہےے تھا۔ تےل کے ذخائر سے مالا مال ملک اور زائرےن سے بھی لبالب بھرا ہوا۔
ہم اےک طوےل بازار سے گزر رہے تھے۔دو روےہ عمارات سے گھرا ہوا کشادہ سڑک والا بازار جو ٹرن لےتے ہوئے سےدھا مزار مقدس تک جاتا تھا۔بازار، اس مےں بنی دو منزلہ ،اےک منزلہ، سہ منزلہ عمارتےںاور گاڑےوں کی کثرت تھوڑی سی خوشی دےتی تھےں کہ ان کا حال احوال بہتر نظر آتا تھا۔
ہوٹل فندق الجنائن قلب روضہ عالی امام مےں گھسا ہوا تھا۔دو چھلانگےں مارو اور مرکزی گےٹ پر پہنچ جاﺅ۔ ہوٹل کے مالک آغا ےاس علی سے ہےلو ہائے کی۔پاس بےٹھی اور پوچھا ۔
”آغا آپ کےا سوچتے ہےں؟“
”مےری تو دلی تمنا ہے کہ امرےکہ ےہاں جم کر بےٹھ جائے۔مےرا تو کاروبار ٹھپ ہوا پڑا تھا۔ اےرانی زائرےن پر پابندےاں تھےں۔ گرما مےں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بےٹھے رہتے۔ اب دےکھو کھوّے سے کھوّا چھلتا ہے۔ مجال ہے جو مےرے تےن ہوٹلوںمےں سے کسی اےک مےں چھوٹا موٹا سا کمرہ بھی دستےاب ہو۔ہاﺅس فل۔
”ارے ےہ آغاکمبخت تو من و عن مےرے مرحوم ابّا جےسا ہے جنہےں آزادی تو اےک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ رہ رہ کر وہ کمبخت مارے گورے ےاد آتے رہتے۔
” بڑا امن تھا اُن زمانوں مےں ۔ارے اکےلی عورت چاہے بےس تولے سونا پہن کر کلکتے سے پشاور جاتی۔مجال ہے جو اُسے کوئی ڈر ڈُکر ہوتا۔ مےاں جی کا کاروبار کتنا بڑھا ہوا تھا؟گھر مےں دودھ اور شہد کی نہرےں بہتی تھےں۔“
کربلا کی شام خوبصورت تھی۔سنہری کرنےں اگر چہار سو سونا بکھےرتی تھےں تو مےرے بلند مرتبت عالی امام کے روضہ مبارک کا گنبد بھی نگاہوں کو خےرہ کرتا تھا۔ روضہ مبارک کے اندر شےشے کی جھلملاہٹوں، روشےنوں اور زےبائشی کام کی کوئی انت نہ تھی۔ نقاشی اور مےنا کاری مےں رنگوں کا امتزاج نگاہوں کو کھےنچے لئےے جاتا تھا۔
ہم نے بھی عقےدتوں اور محبتوں کو کےسے زرو جواہر مےں لپےٹ لےا ہے۔
ےہاں آہ وزارےاں تھےں۔ سسکےاں تھےں۔خاموش آنسووں کے ساتھ چاہتوں اور محبتوں کے نذرانے تھے۔
جالےوں تک مےری کہاں رسائی تھی؟ کےسے جگہ بنائی نہےںجانتی۔ کسی انجانے ہاتھ نے جےسے پکڑ کر تھام لےا۔
علی اصغر اور علی اکبر بھی وہےں آرام فرماتے ہےں۔
تو ےہاں صدےوں پہلے صحرا تھا۔جس نے مےرے عرب کے راج دلارے کا خون پےا اور سےراب ہوئی اور اب رہتی دنےا تک اِسے ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے کی کہانی سناتے رہنا ہے۔ محبتوںکے نذرانے پےش کئےے۔مغرب ادا کی اور حضرت عباس کے روضہ مبارک کی طرف چلی۔
روضہ مبارک سے پہلے بڑا وسےع و عرےض مےدان تھا۔ خوش رنگ قالےنوں پر عورتوں،مردوں بچوں کے جمگٹھے موجےں مارتے تھے۔ پےڈسٹل پنکھے چلتے تھے اوراےک بھرےا مےلے کا سا سماں تھاجو طبےعت کو شگفتگی دےتا تھا۔
خواتےن کے اےک گروپ کے پاس بےٹھ گئی۔زبان کا مسئلہ بڑا ٹےڑھا تھا۔تاہم پتہ چلا کہ ترکمانی فےملی تھی۔
عراق مےں سُنی تقرےبا ًتےس فےصد،شےعہ ساٹھ،کرد پانچ سے سات فےصد ،ترکمانی 2 سے تےن اور بقےہ اقلےتں جن مےں عےسائی،ےہودی،آرمےنئےن،ےزےدی اور اشوری ہےں۔ ترکمانی لوگ سُنی عقےدے کے حامل زےادہ اربل Arbil اور کرکوک Kirkuk مےں رہتے ہےں۔ ترکمانی بولتے ہےں جوٹرکش زبان کی ہی اےک شکل ہے۔
”ےہ جو کُرد ہےں ناسچی بات ہے ان کا تو نہ دےن، نہ اےمان۔کبھی کِسی کے پےچھے بھاگتے ہےں کبھی کِسی کے۔ خودمختاری اور آزاد علاقہ کردستان انہےں پھر بھی نہےں ملے گا۔ چاہے اسرائےل کے تلوے چاٹےں،چاہے امرےکہ کی مٹھی چاپےاں کرےں۔اور ےہ سُنی نوّے فےصد اےنٹی امرےکن ،شےعہ 50% پچاس فےصدپروامرےکی اورپچاس فےصد اےنٹی امرےکی ۔
ےہ تو ظالم ہےں ہی ۔اندر خانے جانے ہم سے کن صدےوں کے بدلے لے رہے ہےں۔ مگر ےہ نام کے مسلمان ،ہمارے ہمسائے ،ہمارے ماں جائے حکمران کےسے خود غرض اور اپنے مفادات کے حصاروں مےں گھرے ہوئے ہےں۔ اردن کو دےکھےں۔ان بڑے فرےبےوںکا چےلا چانٹا ہمےں مارنے کےلئے اُنکا سامان بھی اپنے راستوں سے بھےجتا تھا اور ہمےں زندہ رکھنے کےلئے اپنے کاروباری طبقے سے خوردونوش اور دےگر اشےاءکی تجارت بھی کروا رہا تھاگوےا پانچوں انگلےاں گھی مےں اور سر کڑاہی مےں۔
اب اٹھی کہ چل کر حضرت عباس علمدار کو سلام کر آﺅں ۔ چار آنسوﺅں کانذرانہ پےش کر آﺅں ۔مرکزی گےٹ پر ہی گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ عقےدت مند آگے بڑھنے کی کوشش مےں اےک دوسرے کا ملےدہ کرنے مےں دل و جان سے مصروف تھے۔بس ےوں لگا جےسے اےک قدم آگے بڑھا تو حُسن کی پرےوں اور جٹی مٹےاروں کے پاﺅں مےں قےمہ بن جاﺅں گی۔
”نہ بھئی نہ ۔واپس پلٹی تھی۔رات گہری ہوگی تو دےکھوںگی۔“
ہوٹل کے رےسپشن پر کافی لوگ تھے۔ سوچاذرا بات تو کروں۔جنگ کے حوالے سے پوچھا۔
”جنگ بڑھکوں سے نہےں جےتی جاتی۔دشمن بھی وہ جس کی جنگی ٹےکنالوجی کا زمانہ معترف ۔اس زون کا انچارج صدام کابےٹا قصے حسےن تھا۔لیفٹےننٹ جنرل رعد علی ہمدانی کربلا رےجن کو کمانڈکر رہا تھا۔دونوں مےں ٹھن گئی تھی۔قصے حسےن ےہاں سے فوجےں شمال کی جانب بجھوانا چاہتا تھا جبکہ ہمدانی کے خےال مےں اےسا کرنا غلطی تھی۔ امرےکی فوجےوںنے کشتےوں مےں فرات کو عبورکےا اور ہمارے سروں پر آموجود ہوئے۔“
”آپکی ہمدردےاں کن کےساتھ تھےں؟“ مےں نے پوچھاتھا۔
”پکی پکی حملہ آوروں کے ساتھ۔“
مجمع مےں سے اکثرےت کی آوازےں تھےں۔سچی بات ہے اےسی صاف گوئی پر ہنسی چھوٹ گئی۔
رات گےارہ بجے حاضری کےلئے باہر آئی تو نظارے حرم کعبہ جےسے ہی تھے۔ برقی روشنےوں کی تندی و تےزی اےسی بلاکی کہ رات پر دن کا گمان گزرے۔ عشاق کے پُرے۔دوکانوں پر خرےدارےاں ۔آپ عالی مقام امام حسےن کے بھائی اور علم بردار کربلا مےں صرف سقہ گےری کرنے پر مامور تھے۔ فرات سے کن مصےبتوں اور جتنوں سے پانی لائے مگر آپ عالی وقار کے خےمے تک پہنچ ہی نہ پائے اور شہادت نوش فرمالی۔
صبح اپنے آپ کوحسب معمول عراقی عورت کے قالب مےں ڈھالااور پرانا شہر دےکھنے نکلی۔
چارپانچ فٹ چوڑی گلےوں مےں چلتے اورانہی گلےوںمےں کہےں کہےں بنی ہٹےاں(دوکانےں)جنکی خستگی کو دےکھتے ہوئے مےرا جی دھپ سے وہاں بےٹھ جانے اور بےن ڈالنے کوچاہتا تھا۔
کےا اُس نے کبھی اِن گلی کوچوں کو نہےں دےکھا تھا؟وہ جس کے محل کی وسعتوں کا کوئی شمار نہ تھا۔دنےا کا دوسرا بڑا تےل پےدا کرنے والا ملک اور غربت کی پسماندگی اِس درجہ پہنچی ہوئی۔اِن مےں چلتی، کہےںکھلے دروازوں سے تنگ و تارےک ڈےوڑھےوں مےں جھانکتی، کہےں دروازوں پر ٹنگے ملگجے پھٹے پردوں پر نظرےں ڈالتی ،خوبصورت چہروں والے بچوں کو چلتے پھرتے دےکھتی چند گھروں مےں گھسی بھی۔وہی غربت کے دہلانے والے منظر۔اےک کمرہ، کہےں صحن کے نام پر بہتان، ہوا اور روشنی کی گزرگاہ سے محروم ۔ ان مےں بسنے والی عورتےں جن کے پےلے پھٹک مدقوق چہروں کے نےچے غالباً خون کی کوئی رگ ورےد نہےں تھی۔ زبان کا مسلہ ہر جگہ آڑے آنے کے باوجود کچھ بھی تو سمجھنا مشکل نہ تھا۔چےزےں تو عےاں تھےں۔
”پروردگار اِس مسکےن و ےتےم ملت اسلامےہ کو کب کوئی دےدہ ور نصےب ہو گا؟ کب اِن دروازوں پر علم کی روشنی دستک دے گی اور کب گلےوں مےں پھرتے ان مفلوک الحال بچوں مےں وےسی علم دوست شخصےتےں پےدا ہو ں گی جنہوںنے اس ناکارہ سی قوم کو اےک شاندار ماضی ورثے مےں دے کر دوبارہ ان کے ہاں جنم لےنے سے منہ پھےر لےا ہے۔“
تےن گھنٹے کی خجل خواری کے بعد جب واپس آئی۔
ہاے آگ دھوئےں اور جلتی گاڑےوں کے شعلوں مےں بعقوبہ مےں بم پھٹنے کی خبر تھی۔ہلاکتوں کے سےن تھے۔کٹی پھٹی لاشوںکے ڈھےر تھے۔آہےں اور بےن تھے۔ زار زار بہتے آنسو تھے اور دماغ مےں کشور ناہےد تھی۔
تمہےں معلوم ہے تم کربلا مےں ہو
ہمےں معلو م ہے ہم کربلا مےں ہےں
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved