تازہ تر ین

اینٹ گارے کی کھرچن

اعتبار ساجد……..(قلم کہانی)
یہ بات اب تک ہماری سمجھ میں نہیں آسکی کہ آکر ہمارے یہاں چھوٹے ادیبوں اور شاعروں کی شرح پیدائش میں یک لخت ایسی کیا تبدیلی آئی کہ انہوں نے پیدا ہونا ہی بند کردیا، جو بھی پیدا ہوتا ہے وہ اپنی بڑائی کی چیخیں مارتا ہوا پیدا ہوتا ہے، مارک ٹوئن نے کہاتھا کہ جب تمہارے معاشرے میں بڑے لوگوں کی تعداد زیاد ہ ہو جائے تو سمجھ لو کہ اب کوئی چھوٹا نہیں رہا، سب ہم قامت ہوچکے ہیں، جنگ اب چھوٹے بڑے کی نہیں قامت کے طول و عرض کی ہے، یہ تو خیر ایک بات تھی جو برسبیل تذکرہ یاد آگئی ، حقیقی صورتحال یہ ہے کہ معاشرے میں بالخصوص شعری و ادبی دنیا میں اتنے بڑے لوگ پیدا ہوگئے ہیں کہ خوردبین لیکر بھی ڈھونڈیں تو کوئی چھوٹا دکھائی نہیں دیگا، سبھی بڑے ہیں، محترم ہیں اور اپنی اپنی جگہ معتبر ہیں(اور جب سب معتبر ہوجائیں تو کوئی معتبر نہیں ہوتا) لیکن بڑے پن کی اس آندھی میں بھی کچھ ایسے ثابت قدم پیڑ مل جاتے ہیں جنکے پائے ثبات کو جنبش نہیں ہوتی، نہ انہیں کسی قدآوری کی فکر ہوتی ہے نہ سربلندی کی،کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ زلزلے، آندھیاں،طوفان اور بارشیں بڑے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہیں چھوٹے درختوں کو کچھ نہیں کہتیں، یہی وجہ ہے کہ نہ صرف باغ جہاں میں بلکہ گلشن ادب میں بھی سلامت رہتے ہیں، پچھلے دنوں ایک گنجے بزرگ نقاد ملے جو کتاب اور مسودہ دیکھے بغیر خواتین کےلئے فی الفور دیباچے اور مضامین لکھ دیتے ہیں، ان سے ہم نے گلہ کیا کہ کسی کتاب پر کچھ لکھنے سے پہلے ایک نظر اسے پڑھ تو لیا کیجئے ، وہ کندھے اچکا کر بولے ، میرے بھائی کسے اتنی فرصت ہے کہ اوٹ پٹانگ چیزیں پڑھتا پھرے، فرمائشوں اور سفارشوں کی مارکھاکر کچھ نہ کچھ لکھ دیتے ہیں کہ چلو کسی کا بھلا ہوجائے، چونکہ وہ کبھی کبھار سوئے اتفاق ہمارے سینئر بن جاتے ہیں لہٰذا ہم ایسے بزرگان ادب کی تقلید کرتے ہوئے خود بھی یہی کچھ کرتے ہیں جو ہمارے سینئرز کرتے ہیں، البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ ہم کتاب پڑھتے ہیں ، مسودہ دیکھتے ہیں پھر لکھنے کا موڈ بنے تو لکھ بھی دیتے ہیں، لیکن خدا کا شکر ہے کہ ہر کتاب پر لکھنے کی اذیت نہیں جھیلتے صرف انہی کتابوں پر لکھتے ہیں جنہیں پڑھ چکے ہوں، الحمدللہ کہ پچھلے دنوں ہم نے کئی کتابیں پڑھیں، ایک ایک لفظ پڑھا اور اپنی پرسنل ڈائری میں چند ایک کے نام بھی لکھ لئے کہ جونہی فرصت ملے گی اور جس کتاب پر جومناسب سمجھیں گے تاثراتی صورت میں لکھ دیںگے، نہ کسی کی خوشامد مطلوب ہے نہ کسی کی داد سے غرض ہے، آج صبح ہی اپنے ریک پر رکھی ہوئی پہلی کتاب ”اینٹ گارے کی کھرچن“ نظر آئی جس کا نام ہم نے اپنی پرسنل ڈائری میں لکھ لیا تھا کہ بشرط فرصت اس پر ضرور لکھیں گے ، کیونکہ یہ شازیہ مفتی کی کتاب تھی اور نثری مضامین پر مشتمل تھی، شازیہ مفتی بہت شائستہ ،مہذب اور پڑھی لکھی رائٹر ہیں، شاعری پر بھی عبور رکھتی ہیں اور نثر پر بھی انہیں خاصی دسترس حاصل ہے ، دلچسپ موضوعات پر مختصر مگرجامع تحریر، انکی فنی پختگی کی دلیل ہے، ایک ایک مضمون پر اگر نام بہ نام ایک ایک سطر بھی لکھیں گے تو صبح سے شام ہوجائیگی اور یہ ذکر ناتمام رہیگا، تاہم یہ اعتراف صدق دل سے ہے کہ وہ اچھی شاعرہ، افسانہ نویس اور مضمون نگار ہیں، سرورق کے پیچھے انکی ایک نظم پیش خدمت ہے اس دعا کیساتھ کہ پروردگار انکے قلم کی روانی برقرار رکھے ۔
مجھے رستہ نہیں ملتا
بھٹکتی پھرتی ہوں راہداریوں میں
کہیں روزن کہیں کھڑکی نہیں ہے
سبھی دروازوں پر تالے پڑے ہیں
مری تنہائی سانسیں لے رہی ہے
مکانوں میں دریچوں میں
جوسب کل تک یہاں تھے
سب کے سب سائے بنے ہیں وہ
مرا سایہ نہیں ملتا
کہاں گم ہوگئی ہوں میں؟
نہیں شازیہ!آپ کہیں گم نہیں ہوئیں، ہمارے درمیان موجود ہیں، البتہ راستے آپ کی راہ تک رہے ہیں، منزلیں آپ کی تلاش میں ہیں، انشاءاللہ ہم دیکھیں گے کہ آپ نے نہیں راستوں نے آپکو ڈھونڈ لیا ہے اور منزلوں نے آپ کی قدم بوسی کی ہے ، خدا آپکو سلامت رکھے !
(کالم نگارمعروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved