تازہ تر ین

واقعہ کربلا۔ مسلم امہ کیلئے پیغام

چوہدری ریاض مسعود….(نقطہ نظر)
نواسہ رسول حضرت امام حسین ؓ کی دین حق کیلئے کربلا میں دی جانے والی عظیم قربانی ہماری اسلامی تاریخ میں بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ شہادت، قربانی، صبر، برداشت، حوصلہ، عزم، جذبہ، سچائی، بہادری، جرا¿ت، شجاعت کی روشن مثال یہی کربلا کا واقعہ ہے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اسلام کی سربلندی اور دین حق کی حفاظت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیا اور شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ دشمنان اسلام نے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے ساتھیوں پر جو ظلم و ستم اور زیادتیاں کیں حتیٰ کہ اس صحرا میں ان پر پانی بھی بند کردیا لیکن ان جانثاروں کے عزم و حوصلہ اور جرا¿ت بہادری میں رتی بھر بھی فرق نہیں آیا۔ ان کے جذبہ ایمانی اور شوق شہادت سے اسلام دشمن لشکر لرزہ براندام تھا۔ حضرت امام حسین ؓ اور ان کے جانثار ساتھی اگرچہ تعداد میں بہت کم تھے لیکن اللہ کے سچے دین کی حفاظت کیلئے ان کا حوصلہ اور جذبہ پہاڑوں سے بلند اور چٹانوں سے زیادہ پختہ تھا اور پھر چشم فلک نے مجاہدین اسلام کو اپنے بہادر او رجرا¿ت مند سپہ سالار حضرت امام حسین ؓ کی قیادت میں دشمن سے لڑتے بھی دیکھا اور کربلا کی زمین پر شہیدوں کے مقدس خون کو گرتے بھی دیکھا۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اسلام کی سربلندی کیلئے شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ کربلا میں حضرت امام حسین ؓ کی عظیم قربانی ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ دین اسلام کی حفاظت اور سر بلندی کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینا بھی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے واقعہ کربلا کے حوالے سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔
حضرت امام حسینؓ کی عظیم اور لازوال قربانی مسلمانوں کیلئے بہت سے پیغامات دیتی ہے جس پر عمل کرکے ہم آج کی اس دنیا میں سربلند ہوسکتے ہیں ۔افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے واقعہ کربلا کو صحیح طور پر سمجھنے میں ہمیشہ کوتاہی کی ہے جس کی وجہ سے آج ساری اسلامی دنیا بے پناہ مسائل اور مشکلات کا شکار ہے۔ اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمارے پاس نہ جرا¿ت ہے نہ بہادری اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی ہے۔ اتحاد و اتفاق کا تو دور دور تک نام و نشان نہیں ہم دنیا کی بڑی طاقتوں کے غلام اور آلہ کار بن کر آپس میں دست و گریباں ہیں کہیں سے عرب و عجم، کہیں سے قومیت، کہیں سے علاقائیت، کہیں سے نسل پرستی اور کہیں سے مفادات کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم، زیادتیوں اور انتقامی کارروائیوں پر ”مسلم دنیا“ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ فلسطین، کشمیر، برما اور دیگر ممالک کے مسلمانوںپرقیامت ڈھائی جارہی ہے۔لاکھوں مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا جاچکا ہے اور درد ناک اور المناک واقعات کا یہ سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ایسے اندوہناک واقعات و سانحات پر اسلامی ممالک کی خاموشی بلکہ چشم پوشی اسلام دشمن طاقتوں کو مزید ظلم و ستم کرنے کا حوصلہ دے رہی ہے ہم دنیا کی سپر طاقتوں سے مرعوب ہوچکے ہیں، ان کے غلام بن چکے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے حضرت امام حسین ؓ کی عظیم اور لازوال قربانیوں کو فراموش کردیا ہے۔ حضرت امام حسین ؓنے دین اسلام کی سربلندی کیلئے جرا¿ت، بہادری اور دلیری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔
ایران ،عراق جنگ، عراق، کویت جنگ کی آڑ میں مسلم دشمنی پر مبنی دشمن کے عزائم اور خطرناک منصوبوں کو سمجھ ہی نہیں سکے اور آپس میں ہی لڑائی کرکے لاکھوں مسلمانوں کی جانیں لے چکے ہیں۔ عراق، لیبیا، سوڈان، شام اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے ہم اس سے بے پروا ہوکر اپنے علاقائی اور ذاتی مفادات کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے قیامت خیز ظلم و ستم پر آواز اٹھانے کی بجائے مسلمان ممالک اسرائیل اور بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کے رشتے مضبوط کررہے ہیں۔ یہود و ہنود کی سازشوں کا مقابلہ کرنے اور انہیں ناکام بنانے کی بجائے ان سے دوستی کی پینگیں بڑھارہے ہیں۔ ہماری یہ حرکتیں اسلام دشمن طاقتوں کی مذموم حرکات اور مقاصد کو یقینا تقویت دے رہی ہیں۔ نہ جانے مسلم دنیا کب خواب غفلت سے بیدار ہوگی؟ نہ جانے ان میں جذبہ ایمانی اور شوق شہادت کا سویا ہوا بلکہ کھویا ہوا جذبہ کب دوبارہ بیدار ہوگا؟ نہ جانے مسلم دنیا شہادت حضرت امام حسینؓ سے کب روشنی حاصل کرے گی؟ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت تمام مسلمان دنیا کو یہ سبق اور پیغام دے رہی ہے کہ دین کی سربلندی، دین کی حفاظت اور اللہ کی راہ چلتے ہوئے دنیا کی طاقتور اور شیطانی قوتوں کا راستے روکنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگادیں، ان کے سامنے مت جھکیں بلکہ اللہ پر کامل بھروسہ کریں کیونکہ یہی کامیابی اور فلاح کا راستہ ہے۔ہر مسلمان حضرت امام حسین ؓ کی عظیم قربانی اور فلسفہ شہادت کو سمجھتا بھی ہے لیکن اس سے جڑے ہوئے نیک اور اعلیٰ مقاصد حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے میں صریحاً کوتاہی کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں 56سے زائد اسلامی ممالک ہونے اور دنیا میں سب سے زیادہ وسائل رکھنے کے باوجود بھی ہم پسماندگی اور پستی کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہم گروہوں، فرقوں، نسلوں اور ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہم دنیا میں ذلیل و رسوا ہورہے ہیں۔ ہم مسلمان ممالک اپنے درمیان تجارت اور وسائل کو بڑھانے کی بجائے دنیا کی منڈی بنے ہوئے ہیں۔ دنیا یہ جانتی ہے کہ اسلامی دنیا کے پاس قدرتی وسائل کے خزانے، اعلیٰ دماغ اور انسانی وسائل بھی موجود ہیں لیکن ہم اللہ کی دی ہوئی ان بے پناہ نعمتوں سے استفادہ نہ کرکے کفران نعمت کے مرتکب ہورہے ہیں۔
ہماری انہی حرکتوںنے ہمیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا دست نگر بنادیا ہے اور انہوں نے اپنی حکمت عملی سے مسلم دنیا کو قرضوں میں جکڑنے کے ساتھ ساتھ ان کے قدرتی وسائل پر بھی عملاً قبضہ کررکھا ہے۔ مسلمان ممالک میں جرات ایمانی، جرا¿ت حسینی اور جذبہ شہادت دور دور تک کہیں نظر نہیں آتا ہرطرف انتشار، نفاق اور نااتفاقی کے شعلے بھڑک رہے ہیں جس سے ہم مسلمان خود ہی جل رہے ہیں اور ہمارا دشمن دور بیٹھا ہمیں دیکھ کر مسرت و شادمانی کے ڈنکے بجارہا ہے۔ فلسطین کشمیر اوردنیا کے دیگر کئی ممالک میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کی اصل وجہ ہم اور ہماری بے حسی ہی ہے۔ ہم اسلام کے پیغام و تعلیمات حضور اکرم کے ارشادات اور حضرت امام حسین ؓ کی شہادت جیسے روشن راستے کی بجائے برائی کی دنیاوی طاقتوں کے غلام بن چکے ہیں۔ مسلمان ممالک کے درمیان نااتفاقی اور انتشار نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ آپ کشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے ظالمانہ تشدد اور ہلاکت خیز کارروائیوں کو ہی دیکھ لیں بھارت کے روح تڑپانے والے مظالم کے خلاف کیا امت مسلمہ نے کوئی متحدہ طور پر آواز بلند کی؟ اسلامی ممالک کی تنظیم نے بھارت کے مظالم رکوانے کیلئے عملی طور پر کوئی کوششیں کیں؟ فلسطینیوں اور کشمیریوں کی جدوجہد میں اسلامی ممالک نے عملی طور پر کیا کوئی کردار ادا کیا؟ یقینا ان سب کا جواب نفی میں ہے۔
واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین ؓ کی لازوال شہادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ دنیا کی طاقتور اور ظالم قوتوں کے سامنے ڈٹ جانا ہی اسلامی احکامات کے عین مطابق ہے کس قدر دکھ کی بات ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت اور تجارتی مفادات حاصل کرنے والے چند ممالک نے کشمیریوں پر ظلم و ستم اور کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بھارتی ناپاک اعلان کو اس کااندرونی معاملہ قرار دے کر نہتے اور مظلوم کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ اپنے آپ کو جمہوریت پسند اور مہذب ممالک قرار دینے والوں کو کشمیریوں پر ہونے والے ہلاکت خیز مظالم کا رتی بھر بھی احساس نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب مسلمان ممالک کے درمیان ہی اتحاد و اتفاق نہیں ہوگا تو ہماری ہوا تو اکھڑے گی کون ہمارا ساتھ دے گا اور یہی اسلام کا ہمارے لئے پیغام بھی ہے۔ اگر ہم واقعہ کربلا کے حوالے سے پاکستان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو ادھر بھی طاقتور طبقہ کمزور طبقے کو دبائے ہوئے ہے۔ قانون اور انصاف پر عملدرآمد یکساں طور پر نہیں ہورہا ہے۔ بوڑھے، بزرگوں،ضعیفوںناداروںغریبوں مسکینوں اور مستحقین کی زندگیاں مشکل سے مشکل ہورہی ہیں۔ حکمران طبقہ ہر ضابطے اور قانون سے بالاتر ہے سب سختیاںاور قانون صرف غریب طبقے کیلئے ہے مہنگائی،بے روزگاری، رشوت ستانی، چور بازاری، ناجائزمنافع خوری، دھونس اور دھاندلی، ظلم و جبر، ناانصافی، لاقانونیت اور دیگر سماجی اور اخلاقی برائیاں ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑچکی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے ہم محرم الحرام کی فضیلت اور اہمیت کو سمجھیں۔ واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین ؓ کی عظیم اور لازوال شہادت کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیں۔ اللہ پر یقین کریں، نبی اکرم کی سیرت طیبہ پر عمل کریں، صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کی زندگیوں کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھیں اور شہادت امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ کے فلسفہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم اس راستے پر چل پڑے تو ہمارے دلوں میں خوف خدا پیدا ہوگا اور دنیاوی شیطانی قوتوں کا ڈر اور خوف بھک سے اڑجائے گا۔ یقیناًیہی ہمارے لئے کامیابی کا راستہ ہوگا۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved