تازہ تر ین

کرپشن، خود غرضی__اجتماعی سوچ میں رکاوٹ

وزیر احمد جوگیزئی….(احترام جمہوریت)
اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کے قیام میں اللہ تعا لیٰ کی کو ئی خاص حکمت کا ر فرما تھی تو یہ غلط نہ ہو گا ۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاص دین ہی تھی جس کے باعث ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان کی شکل میں خاص تحفہ ملا ۔ابتدا میں ہی قائد اعظم محمد علی جناح نے نہ صرف مسلمانان ہند بلکہ پورے ہندوستان کی خلقت سے یہ کہا تھا کہ بلا شک و شبہ ہندوستان کے لوگ چاہے وہ مسلمان ہو ں یا پھر ہندو کرپٹ ہیں اور انتہاءکے کرپٹ ہیں ۔پارٹیشن سے قبل قائد اعظم نے انجمن حمایت اسلام کوئٹہ کے پروگرام جو کہ اسلامیہ ہائی سکول میں منعقد کیا گیا سے خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اگر پاکستان کا قیام ہو تا ہے اور اللہ کرے کہ پاکستان کا قیام عمل میں آجائے ،تو ہم سب نے مل کر کرپشن اور بد دیانتی کو خیر باد کہنا ہے،اور اگر ہم کرپشن کے خاتمے میں کامیاب ہو گئے تو اس ملک میں اتنی دولت ہے کہ ہر بچے کے لیے سونے کا جھولا مہیا کیا جا سکتا ہے ،لیکن ایسا ہوا نہیں ۔ہم بطور قوم تانہ اور بانہ میں یعنی کہ لمبائی اور چوڑائی میں ہر طرح کی کرپشن کے ریکارڈ قائم کرتے رہے اور اس حوالے سے ہم نے لازوال مثالیں قائم کردیں ۔اور آج ملک کی حالت دیکھ لیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قحط الرجال کی سی کیفیت ہے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ بھی نہیں ہے ۔
آج ہم 22کروڑ کی آبادی والے ملک میں سے ایک فٹ بال ٹیم نہیں بنا سکتے ۔22کروڑ کی آبادی میں سے ایک ہاکی ٹیم نہیں بنا سکتے ۔جس جانب دیکھا جائے تو خود غرضی اور نفسا نفسی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔اور ایسی صورتحال کے اندر مودی صاحب نے ہمیں مسئلہ کشمیر کا ایک نیا رخ بھی دکھا دیا ہے ۔مقبوضہ جموں کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے کرفیوکا نفاذ ہے اور ہمیں بطور قوم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں سے ہمدردی کے لیے ،کشمیریوں کی مدد کے لیے کوئی آس امید نظر نہیں آرہی ۔اور ایسا کیوں ہے ؟ یہ اس لیے ہے کہ ہم ابھی تک ایک قوم بن کر سوچ نہیں پارہے ایک قوم کے طریقے سے سوچ نہیں پارہے اور ایک قوم بن کر نہ سوچ پانے کی وجہ کرپشن ہے خود غرضی ہے ۔جو کہ ہماری اجتماعی سوچ کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہیں ۔اس سلسلے میں موجودہ حکومت جوکہ انسداد کرپشن کا نعرہ بلند کرتی ہوئی حکومت میں آئی ہے ۔اس سے یہ امید کی جا سکتی تھی کہ یہ حکومت ملک میں کرپشن کی صورتحال میں بہتری لائے گی ۔آج کے اعتبار سے لگ رہا ہے کہ کرپشن میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے عالمی کرپشن انڈیکس میں پاکستان 175ویں سے 116ویں نمبر پر آگیا ہے ۔لیکن یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے اور اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
یہ مانا کہ مخلوط حکومتیں کمزور ہوا کرتی ہیں لیکن اگر لیڈر شپ مضبوط ہو تو وہ کسی مجبوری کو خاطر میں لائے بغیر اپنا کام کرتی ہے ۔لیڈرشپ کو عوام کو حو صلہ دینا چاہیے موجودہ حالات میں قوم کو اس کی زیادہ ضرورت ہے ۔اس حوالے سے اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے اپوزیشن نے تو موجودہ حکومت کے ساتھ چلنے کی کو شش کی ہے لیکن حکومت شاید اپوزیشن کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔کشمیر کا جو حصہ یعنی کہ آزاد کشمیر جو آج پاکستان کے پاس ہے یہ حصہ بھی عوام نے ہی پاکستان کو لے کر دیا تھا ۔عوام نے ہمیشہ ہی حکومت کا ساتھ دیا ہے ۔آج کیا وجہ ہے کہ عوام کو اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی مدد کے لیے آگے آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔سرکار عوام کو براہ راست یا بلا واسطہ کال دے کہ یہ رائفل ہے یہ گلاک ہے ،یہ کلاشنکوف ہے جائیں اور کشمیر کو فتح کر لیں ،اگر کروڑ دو کروڑ مسلمان کشمیر فتح کرتے ہوئے شہید ہوجائیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔پاکستانی قوم اس حکم کے لیے تیار بیٹھی ہے اور صرف اشارے کی منتظر ہے ۔اور اس طرح کشمیر کو ایٹم بم استعمال کیے بغیر بھی فتح کیا جا سکتا ہے بس شرط یہ ہے کہ ایمان کی قوت مضبوط ہونی چاہیے اور اسی طرح سے ہم ایک قوم بن سکتے ہیں۔
سیاست دانوں یا بیورو کریسی کے سہارے پر رہ کر ہمارایک قوم بن جانا محال ہے ۔قوم کو ایک بار یہ تجربہ کر دیکھنا چاہیے اور یہ کو ئی انوکھا تجربہ نہیں ہو گا اگر اپنے ٹکڑے کو حاصل کرنے کے لیے کشمیر کی آبادی سے زیادہ لاشیں گرانی پڑیں تو ہمیں اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے ۔اس عظیم مقصد کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے شہید کہلائےں گے اور اسی طریقے سے ملک کی تکمیل ممکن ہے اور اسی طرح قوم بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی شکل اختیار کرجائے گی ۔اس قوم کو اللہ تعا لیٰ نے کس نعمت سے نہیں نوازاخوبصورت علاقے ہیں ،خوبصورت لوگ ہیں ،چار موسم ہیں ہر قسم کی اجناس اس ملک میں پائی جاتی ہیںہر چیز پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔اللہ تعا لیٰ کی ذات نے ہمیں ایک ایسے ملک سے نوازا ہے جس میں اگر انصاف کا نظام قائم ہوجائے تو ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہو گی ۔انصاف کا نہ ہونا اس ملک کی بہت بڑی بیماری ہے ۔جب ایک جج کو سچ بولنے پر اس کے خلاف ریفرنس قائم کر دیے جائیں تو پھر انصاف ناپید ہو جایا کرتا ہے اور پھر جو خواب ہم نے اپنے ملک کے مستقبل کے حوالے سے دیکھ رکھے ہیں اور اپنی عوام کو بھی دکھا رکھے ہیں وہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ہمیں اپنی عدالتوں میں انصاف مہیاکرنے والے عادلوں کو تاحیات جج بنانا چاہیے ۔لیکن سچ بولنے پر گلہ گھونٹنے کی روایت سے ملک میں خوشحالی نہیں آئے گی ۔اس ملک میں حقیقی خوشحالی اللہ تعا لیٰ پر توکل کرنے اور جہاد کرنے سے ہی آسکتی ہے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved