تازہ تر ین

پاک ایران تجارتی تعلقات

ضیاءالحق سرحدی….(یقیں محکم)
ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ہمسایہ ہونے کے اثرات زندگی کے ہر میدان میں نظر آتے ہیں۔ایک دوسرے سے ثقافتی تجارتی اور سیاسی روابط ہمیشہ سے ہیں۔ان کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔یوں تو ہمسایوں کی اہمیت کے لحاظ سے پاکستان کے ہر ہمسایے سے تعلقات اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیںلیکن ایران کے ساتھ معاملہ بالکل علیحدہ ہے۔ایسے حالات میں جب کہ ایران کے ساتھ تقریباً ساری دنیا نے امریکا کے کہنے پرتعلقات محدود کر دیے بلکہ پابندیاں عائد کر دی ہیں لیکن پاکستان کے ساتھ ایران کے باہمی تعلقات اسی طرح تجارت،ثقافت اورسیاحت سمیت ہر شعبے میں قائم ہیں۔
پاکستان اور ایران آپس میں جغرافیائی، معاشی، سماجی ، تاریخی، سیاسی و ثقافتی اور لسانی بندھن میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ یہ بندھن فارسی زبان کی آمیزش سے اور بھی مستحکم ہوا جس نے مغلیہ دور میں برصغیر پر برسوں راج کیا۔دورِ شاہ ایران مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پاکستان ایران قربت کی نشاندہی کرتا ہے۔ تعلیمی میدان میں بھی زرعی صنعتی اور انجینئرنگ ریسرچ کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوتارہا ہے۔دونوں برادر ممالک میں اعتماد کا رشتہ بھی موجود ہے حالات کی گرمی سردی کی بدولت دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاو¿ بھی آتا رہتا ہے مگر پھر بھی دونوں ممالک اہم نوعیت کے محل وقوع کی بدولت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے۔ ایران اور پاکستان دونوں برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے ایک دوسرے سے گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔
پاکستان اور ایران اس خطے کی اہم قوتیں ہیں، دونوں ملک بہت سے شعبوں میں ایک دوسرے کی مددکرسکتے ہیں، خصوصاً ایران کے پاس توانائی وافر مقدار میں ہے جبکہ پاکستان کو توانائی کی قلت کا سامنا ہے، پاکستان ایران سے گیس اور تیل لے کر توانائی کی قلت پر قابو پاسکتا ہے، سٹریٹجک ایشوز پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔جنرل پرویز مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تو سعودی عرب کے دورے پر گئے تھے اور واپسی پر ایک دن ایران کا دورہ کر کے ملک میں واپس آئے تھے۔ایران نے 3ماہ کے کریڈٹ پر پیٹرولیم مصنوعات دینے کی آفر کی تو مشرف نے کابینہ کی منظوری سے ایران سے پیٹرولیم مصنوعات 3ماہ کے کریڈٹ پر لینا شروع کیں اور امریکی دباو¿ کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ایران حالانکہ ایٹمی قوت نہیں ہے لیکن امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمیشہ بات کرتا ہے۔بھارت کو ایران سے تجارت میں کوئی رکاوٹ نہیں اور بھارت وایران کی باہمی تجارت میں امریکہ بھی حائل نہیں لیکن پاکستان کو بلا وجہ ایران سے تجارت سے باز رکھا جاتا ہے اور ہماری قیادت نے بھی ہمیشہ امریکی دباو¿کے آگے گھٹنے ٹیکے۔ مشرف دور میںخام تیل ایران سے منگوا کر مقامی ریفائنریزسے ریفائن کر کے آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے ذریعے ملک بھر میں فروخت کر کے ایران کو 3ماہ بعد ادائیگی کرتے رہے۔اس طرح کرنے سے ایرانی ڈیزل وپیٹرول کی فروخت صرف بلوچستان کے کچھ علاقوں تک محدود رہی جس پر حکومت کو کوئی بھی ٹیکس نہیں ملتا لیکن ملک بھر میں آئل ریفائنریزاپنی 100% پیداوارپر چلتی رہیں اور حکومت کو بھاری ٹیکس ملتے رہے اور قومی خزانے پر بھی ادائیگیوں کا بوجھ نہیں پڑا اور مستحکم معاشی حالات رہے۔پھر آصف زرداری کی حکومت نے اپنے آخری چند ماہ میں انقلابی اور جرات مندانہ فیصلہ کر کے ایران گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا اور امریکی دباو¿ کو پس پشت ڈال کر اس منصوبے پر تیزی سے کام کا آغاز ہوا۔ایران نے اپنی حدود میں گیس پائپ لائن کئی سال سے مکمل کر لی ہے لیکن گزشتہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے5سال میں امریکی دباو¿ پر ایران گیس پائپ لائن کا ذکر تک نہیں کیا اور اب تبدیلی سرکار کے بقول وہ کبھی امریکی ڈکٹیشن پر فیصلے نہیں کریں گے لیکن موجودہ حکومت نے بھی ایران گیس پائپ لائن کا کوئی ذکر نہیں کیا حالانکہ ایران کہہ چکا ہے کہ اگر پاکستان کہے تو پاکستانی حدود میں بھی گیس پائپ لائن ہم مکمل کر کے دینے کو تیار ہیں۔
کچھ ماہ قبل خبر آئی تھی کہ تاجکستان سے گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا جائیگا۔حیرت کی بات ہے کہ ایران گیس پائپ لائن پاکستانی سرحد تک آکر کئی سال رکی ہوئی ہے اس پائپ لائن کو مکمل کرنے کی بجائے تا جکستان سے معاہدے کی باتیں ہو رہی ہیں۔عرب ملکوں سے جس قدر مستحکم تعلقات اوراہمیت ہے اسی طرح کے تعلقات اور اہمیت ایران کو بھی دینی چاہیے اور ہر صورت ایران سے فوری طور پر گیس پائپ لائن منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ ایران سے 3ماہ کے کریڈٹ پر فوری طور پر خام تیل کی درآمد شروع کرنی چاہیے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کا قومی خزانے پر بوجھ کم ہو سکے اور برادر اسلامی ملک ایران نے ہمیشہ پاکستان کو کریڈٹ پر خام تیل دینے اور باہمی ہر طرح کی تجارت کے لئے خوش آمدید کہا ہے۔ لیکن ہماری قیادت نے شاید امریکی ڈکٹیشن پر ایران سے تجارت ودیگر معاہدے نہیں کئے۔وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ ایران سے باہمی تجارت کے زیادہ سے زیادہ معاہدے کر کے باہمی تجارت کو فروغ دیں اور اپنے دعوﺅں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کسی بھی قسم کے امریکی دباو¿ کو یکسر مسترد کر کے ایران سے زیادہ سے زیادہ تجارت کا آغاز کرنا چاہئے ۔ ایران سے مقامی کرنسی میں تجارت ممکن ہے کیونکہ اس وقت جب حکومتی سطح پر ایران سے تجارت نہیں ہو رہی تب بھی ایرانی ڈیزل اور پیٹرول پورے ملک میں کھلے عام فروخت ہو رہا ہے جو یقینا ایران سے مقامی کرنسی میں ہی خریدا جاتا ہے اور ملک بھر میں سپلائی ہو رہا ہے جو تمام پیٹرول پمپوں پر پاکستانی ریٹ پر فروخت کیا جا رہا ہے لیکن حکومت کو اس مد میں کوئی ٹیکس بھی نہیں مل رہا اور مقامی ریفائنریز کی پروڈکشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز کی آمدن بھی بہت کم ہو چکی ہے۔اگر ایرانی ڈیزل وپیٹرول ہی ملک بھر میں فروخت ہونا ہے تو پھر حکومت سرکاری طور پر اس کی درآمدکر کے کیوں نہیں لاتی جس سے قومی خزانے میں بھاری ٹیکس تو آتے رہیں گے جو یومیہ اربوں روپے تک ہوتے ہیں۔ مشرف نے اپنے پورے دور حکومت میں ایران سے خام تیل خریدا اور کبھی کسی قسم کا بحران پیدا نہیں ہوا۔ ایران سے شاید معاہدے اس لئے نہیں کئے جاتے کہ وہاں کمیشن نہیں ہوگی کیونکہ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا ہوتا رہق ہے کہ اس وقت تک معاہدے نہیں کرتے جب تک مستقل کمیشن نہ ملتی ہو۔
اگر ایران گیس پائپ لائن فوری مکمل نصب کر لی جائے تو ایل این جی یا کسی اور قسم کی مہنگی گیس کی ضرورت نہیں ہوگی۔بے شک تاجکستان سے گیس پائپ لائن معاہدہ کریں لیکن ایران گیس پائپ لائن جو ایران کی حدود میں مکمل ہو کر رکی ہوئی ہے اسے جلد از جلد مکمل کرنے کی طرف توجہ دیں ۔ ایران ہمارا پڑوسی ہے اور ہمیشہ پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ایران جب بھارت جیسی کٹرہندوریاست کو تجارت میں بہت رعایتیں دے رہا ہے تو پاکستان کو توباہمی تجارت میں بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا، کیونکہ دونوں ملکوں کی سرحدیں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور روڈ ٹرانسپورٹ سے تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیکر مقامی کرنسی میں ادائیگیوں کے معاہدے کر کے زرمبادلہ کے ذخائر پر ادائیگیوں کے غیر ضروری بوجھ کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔صرف ایران ہی نہیں بلکہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ پاکستان کو مثالی تعلقات قائم کر کے تجارت کو فروغ دینا ہوگا۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved