تازہ تر ین

ڈیل اور نو ڈیل

کامران گورائیہ
وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد سے ابتک بارہا کہہ چکے ہیں کہ آصف زرداری ہوں یا نوازشریف کسی کو این آر او دیا جائے گا نہ ڈیل کی جائے گی اور کسی قسم کی ڈھیل دینے کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔لیکن عمران خان کے ان بیانات اور جارحانہ بیانات کے باوجود پچھلے کچھ عرصہ سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی مقتدر قوتوں کے ساتھ ڈیل اور ڈھیل کے چرچے زبان زد عام ہیں۔ عید کا تہوار ہو یا ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی برسی یا علاج و معالجہ کے معاملات ،نواز شریف جیل سے باہر آنے کا کوئی بھی موقع حاصل کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دے رہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے دائمی امراض میں مبتلا ہونے کے باوجود میاں نوازشریف جیل کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں جبکہ وہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز ایک ماہ سے زائد عرصہ سے قومی احتساب بیورو (نیب) کی حراست میں ہیں اور ان سے مختلف الزامات کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ نوازشریف کے لئے ان کی بیٹی کا نیب حراست میں ہونا کسی کرب اور ناقابل فراموش اذیت سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے لیکن وہ حد درجہ ثابت قدمی سے یہ سب کچھ جھیل رہے ہیں۔
یوں تو قیام پاکستان کے بعد ہی سے سیاستدانوں پر یہ تہمت لگائی جاتی رہی ہے کہ وہ آمریت کی گود میں پلے بڑھے اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر محمد خان جونیجو پھر بے نظیر سے نوازشریف اور اب خود موجودہ وزیراعظم عمران خان کو بھی اسی الزام کا سامنا ہے کہ وہ آمریت کی پیداوار اور سلیکٹڈ حکمران ہیں۔ لیکن انصاف اور حقائق کی بات کی جائے تو سیاستدانوں پر آمریت زدہ ہونے کا الزام مضحکہ خیز سا لگتا ہے کیونکہ اگر یہ حقیقت ہو تو آمرانہ سوچ کو وہ اہمیت اور برتری حاصل نہ ہوتی جو انہیں ہمیشہ سے حاصل رہی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ آج بھی ہم آمریت زدہ معاشرے میں سانس لے رہے ہیں ۔ آمریت کا عفریت کبھی جمہوریت کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے اور کبھی غیر اعلانیہ مارشل لاءکی صورت میں مسلط کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کسی منتخب وزیراعظم کو کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ حکمران کا طعنہ سننے کو ملتا ہے تو کبھی آمریت مراعات یافتہ دکھائی دینے لگتی ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف پر بھی الزام ہے کہ ان کی سیاسی پرورش آمریت کی گود میں ہوئی اور اسی وجہ سے وہ مملکت خداد اد پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہے لیکن ذوالفقار علی بھٹو کو دی جانے والی پھانسی اور پھر محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی اقتدار کے ایوانوں سے جبراً رخصتی سے بہت سے سوالوں کو جنم دینے لگتی ہے۔ پھر المیہ یہ بھی رہا ہے کہ کبھی ان سوالوں کے جوابات بھی نہیں ملتے اور اس ملک کے مسائل زدہ عوام اپنی بے بسی اور لاچارگی پر خاموش آنسو بہاتے رہتے ہیں۔ میاں نوازشریف تین مرتبہ وزیراعظم بنے تو وہ اپنے ان ادوار میں سیاست اور حکمرانی کے تمام داو¿ پیج کا شعور حاصل کر چکے تھے جس کا سمجھنا کسی بھی سیاسی جماعت کے قائد اور حکمران کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ رہی ہے کہ وزیراعظم کی حیثیت سے نوازشریف کی مخالفت ہونے لگی یہاں تک کہ انہیں نا اہلی کا طوق گلے میں ڈال کر کرپشن اور بدعنوانی جیسے الزامات کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا لیکن ملک کے موجودہ حالات اور سیاسی اور حکومتی منظر نامہ پر نظر دوڑائی جائے تو اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اب نوازشریف ڈیل کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں نہ وہ کسی قسم کی ڈھیل کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔
نوازشریف بارہا ڈیل اور ڈھیل پر اپنا مو¿قف پیش کر چکے ہیں اور ان کا مو¿قف اب یہ ہے کہ ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات جھوٹ اور فیصلے غلط ہیں اس لئے انہیں آفر یا ڈیل لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اس سے بھی زیادہ اہمیت کا نقطہ یہ ہے کہ وہ برملا کہتے ہیں ان کا مقدمہ عوام کی عدالت میں ہے اور عوام ان کے حق میں پہلے بھی بارہا فیصلہ دے چکے ہیں اور اب بھی وہ انہی کا دم بھرتے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار اب ممکن نہیں کہ نوازشریف کو جو اذیت اور مشکلات برداشت کرنا پڑی ہیں ان کے لئے وہ ہمیشہ ناقابل فراموش رہیں گی۔ نوازشریف کو تمام تر الزامات سے بری بھی کر دیا جائے تو بھی وہ کبھی خود پر لگائے جانے والے الزامات اور دی گئی سزاو¿ں کو بھلا نہیں پائیں گے۔ آئندہ وقتوں میں نوازشریف کو ملک کے انتظامی امور چلانے کے حوالے سے کوئی کردا ر ادا کرنے کاموقع ملے یا نہ ملے وہ کبھی بھی خود پر اور اپنی صاحبزادی پر لگائے گئے الزامات کے محرکان کو شاید معاف نہیں کریں گے اسی لئے اب ان کی خاموشی کو آنے والے طوفان کا پیش خیمہ سمجھا جا سکتا ہے۔ مقتدر قوتیں ہوں یا ریاستی ادارے نوازشریف تمام فریقین کو اپنی اپنی حدود میں رہ کر کردار ادا کرتے دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور یہی خواہش انہیں جیل کی دیواروں میں بند کرنے کی وجہ بن گئی۔ نوازشریف ایک ایسی سیاسی جماعت کے قائد ہیں جس کی جڑیں اب عوام میں ہیں وہ ایک لیڈر ہیں اور لیڈر روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ نوازشریف کی جیل میں موجودگی سے مقتدر حلقوں کو پیغام مل چکا ہے کہ اب ڈیل کی جائے گی اور نہ کرنے دی جائے گی لیکن ان عوامل پر بھی غور کرنا ہوگا کہ بہت سی قوتیں نوازشریف کو مشروط رہائی دینے کا عندیہ دے رہی ہیں تو ان کےلئے یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہیں۔
نوازشریف ڈیل کے زیر نگوں ہو کر ملک سے باہر جانے کو ہرگز تیار نہیں ہیں اسی لئے ان پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ بہت سے دوسرے ممالک کے سربراہان کو وزیراعظم عمران خان سے بات کرنے اور ڈیل لینے پرمجبور کررہے ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ نوازشریف اس وقت خود اپنی صاحبزادی مریم نوازسمیت پاکستان واپس لوٹ آئے تھے جب انکی اہلیہ کلثوم نواز برطانیہ ہسپتال میں زیر علاج تھیں اور آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ درحقیقت نوازشریف ایک ایسی طاقت بن چکے ہیں جس کا اعتراف ایسے ہی نہیں کیا جارہا جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ نوازشریف جیل میں رہ کر مزید طاقتور اور پر اثر ہو چکے ہیں۔ جتنا زیادہ وہ جیل میں رہیں گے مخالفین کے لئے اتنا ہی خطرات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ان پر ڈیل کے لئے مختلف ذرائع سے دباو¿ ڈالا جا رہا ہے لیکن وہ کسی طور پر بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بارہا اس بات کی گواہی دے چکی ہے کہ نوازشریف اب کسی ڈیل لینے کے خواہشمند نہیں ہیں۔ گذشتہ کئی روز سے جو ڈیل کی افواہیں اڑائی جا رہی ہیں بعض لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا نوازشریف سے کوئی تعلق نہیں ۔ان کا مزید کہنا ہے کہ کچھ لوگ ان کےخلاف سازش کر رہے ہیں، میاں صاحب خود متعدد بار اب نظریاتی سیاست کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں اور کوئی ایسا تاثر یا اشارہ نہیں ملا کہ نواز شریف کوئی سمجھوتا کریں گے یا ڈیل کریں گے۔ وہ اپنے اصولوں پر قائم ہیں اور ان کی جماعت بھی ان اصولوں پر قائم رہے گی۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved