تازہ تر ین

بھارت میں انصاف کے دوہرے معیار(2)

افتخار گیلانی……..(خاص مضمون)
تقسیم ہند اور1971 ءمیں سقوط مشرقی پاکستان کے وقفہ کے دوران تقریبا ایک کروڑ افراد ہجرت کرکے شمال مشرقی ریاستوں میں بس گئے تھے۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر زچ کرنے کے لیے سرحدیں کھول دی گئیں تھیں اور اس طرح کی ہجرت کی حوصلہ افزائی بھی کی جارہی تھی۔ جب بنگلہ دیش وجود میں آیا تو اکثر لوگ واپس چلے گئے۔ 1978ءسے1985 ءکے درمیان آل آسام اسٹوڈنٹس (آسو)سمیت کچھ تنظیموں نے پروپیگنڈہ شروع کیا کہ بہت سے پناہ گزین بنگلہ دیش جانے کے بجائے آسام میں بس گئے ہیں۔ 1978ءمیں ہوئے اسمبلی کے انتخابات میں 17 مسلمان منتخب ہو گئے تھے۔ بس پھرکیا تھا، آسمان سر پر اٹھا لیا گیا کہ آسام کو اسلامی ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے بنگلہ دیشی مسلمانوں کا ایک ریلا چلا آرہا ہے۔پہلے تو غیر آسامیوں یعنی ہندی بولنے والوں کے خلاف تحریک شروع کی گئی، پھر اس کا رخ غیر ملکیوں اور خاص کر بنگلہ دیشیوں کے خلاف موڑد دیا گیا بعدازاں اسے آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرستوں کی شہ پر خونریز مسلم مخالف تحریک میں تبدیل کردیا گیا۔ اس خوفناک اور خوں آشام تحریک نے ہزاروں بے گناہوں کی جانیں لیں اورکروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں تباہ و برباد کی گئیں۔ آسام کی تاریخ گواہ ہے کہ غیر ملکی اور خاص کر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی جس میں 1983ءکا نیلی اور چولکاوا کے قتل عام کے روح فرسا واقعات کبھی فراموش نہیں کئے جاسکتے جس میں تقریبا تین ہزار (غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دس ہزارافراد) کو محض چھ گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیاتھا مگر متاثرین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا۔ 1985 ءمیں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کی نگرانی میں مرکزی حکومت، آسام حکومت او ر احتجاجی طلبہ لیڈروں کے درمیان باہمی رضامندی سے آسام ایکارڈ وجود میں آیا اور اس وقت کی تمام سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں نے اسے قبول کیا تھا۔پولیس نے نیلی قتل عام میں ملوث کئی سو افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی مگرآسام ایکارڈکی ایک شرط کے تحت کیسز واپس لئے گئے اور آج تک اس نسل کشی کے لئے کسی کو سزا ملی نہ ہی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
اس واقعے کو ایسے دبا دیا گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ بنگالی مسلمانوں کے خلاف یہ مہم چلانے والی آل آسام سٹوڈنٹس یونین کے بطن سے نکلی آسام گن پریشد کو بطور انعام اقتدار سونپ دیا گیا۔ایکارڈ کے مطابق مارچ1971 (Cut off date) بنیاد مان کر اس سے پہلے آسام آکر بس جانے والوں کو شہری تسلیم کیا گیا تھا۔چنانچہ اس معاہدہ کے بعدمر کزی حکومت نے پارلیامنٹ میں ایک ترمیمی بل کے ذریعہ1955 Citizenship Act میں section 6-A داخل کر کے اسے منظوری دی جس پر اس وقت کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس، بی جے پی،کمیونسٹ جماعتوں نیز تمام غیر سیاسی وسماجی تنظیموں نے بھی اسے تسلیم کیا تھا۔مگرچونکہ یہ مسئلہ ریاست میں مسلمانوں ایک سیاسی قوت بننے سے روکنے کی غرض سے کھڑا کیا گیا ہے۔ اس لئے 2009 میں اور پھر2012 میں آسام سنمیلیٹا مہا سنگھ سمیت مختلف فرقہ پرست اور مفاد پرست افراد اور تنظیموں نے سپریم کورٹ میں اس معاہدہ کے خلاف مفاد عامہ کی ایک عرضداشت داخل کرکے 5 مارچ 1971 کی بجائے 1951 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بناکر آسام میں شہریت کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی نیز اس معاہدہ کی قانونی حیثیت اور پارلیمنٹ کے ذریعہ Citizenship Act -1955 میں Section 6-A کے اندراج کو بھی چیلنج کیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے 1971کو بنیاد تسلیم کرتے ہوئے شہریوں کی ایک نئی لسٹ تیار کرنے کا فرمان جاری کیا۔
ممبر پارلیمنٹ اجمل جو ریاست کی ڈھبری حلقہ سے پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی جماعت کے ریاستی اسمبلی میں13 ارکان ہیں، سابق کانگریسی وزیر اعلی ترون گگوئی کو خاص طور سے نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے اپنے پندرہ سالہ دور حکومت میں (2001-2016) ریاست کی لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو تین کاری ضربیں لگائیں۔ پہلے انہوں نے 2005میں آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ کا سپریم کورٹ میں کمزور دفاع کرکے اس کو منسوخ کرایا جس کے تحت کسی شخص کو غیر ملکی ثابت کرنے کی ذمہ داری انتظامیہ پر تھی۔ بنگلہ دیشی دراندازوں کا پتہ لگانے اور شناخت کرنے کی غرض سے آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ 1983 میں پاس کیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت کسی فرد کو غیر ملکی ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اس کو ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد ان کی حکومت نے آسام میں بارڈر پولیس ڈیپارٹمنٹ تشکیل دے کر اسے اس بات کا مکمل اختیا دے دیا کہ وہ جسے چاہے غیر ملکی قرار دےکر گرفتار کر سکتا ہے۔ ہزاروں معصوم لوگ اس ڈیپارٹمنٹ کے ظلم و ستم کا شکار ہو چکے ہیں۔
مسلمانوں کو کس حد تک پاور اسٹرکچر سے باہر رکھنے کا کام کیا گیا، اس کی واضح مثال ہندوستانی حکومت اور بوڈو لبریشن ٹائیگرز کے درمیان2005 کا معاہدہ ہے، جس کی رو سے آسام کے کھوکھرا جار اور گوپال پاڑہ میں بوڈو علاقائی کونسل قائم کی۔ یہ معاہدہ جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت کے نسلی حکمرانی (اپارتھیڈ رول) کی یاد دلاتا ہے کیونکہ جن اضلاع میں یہ کونسل قائم کی گئی ان میں بوڈو قبائل کی تعداد محض 28 فیصد ہے۔ بنگالی بولنے والی آبادی نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے 80 کی دہائی میں یونائیٹیڈ مائنارٹیز فرنٹ کے نام سے ایک سیاسی تنظیم بنائی تھی لیکن یہ تجربہ باہمی اختلافات کی وجہ سے زیادہ کامیاب نہ ہو سکاحالانکہ اسے اسمبلی اور پارلیمنٹ میں قابل ذکر کامیابی ملی تھی۔
اسلام آسام کا دوسرا بڑا مذہب ہے جہاں 13ویں صدی میں سلطان بختیار خلجی کے دور میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس وقت تک آہوم سلطنت وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔جب برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1757کی جنگ پلاسی کے بعد بنگال پر قبضہ کیا تو اس کے زیر تسلط آسام کا علاقہ بھی آیا۔ کمپنی نے یہاں بڑے پیمانے پر بنگالیوں کو لاکر بسانا شروع کیا اوران لوگوں نے معاشی وجوہات سے اپنے رشتہ داروں کو یہاں بلانا شروع کیا۔ کیونکہ آسام میں زمینیں زرخیز تھیں۔مشرقی بنگال سے بڑی تعداد میں بے زمین کسان یہاں آکر آباد ہوگئے جن میں 85 فی صد مسلمان تھے۔ آج انہی صدیوں سے آباد مسلمانوں کو غیر ملکی یا بنگلہ دیشی قرار دے کر ان کے لیے زمین تنگ کی جارہی ہے۔ مزید برآں یہ کہ ریاست میں دراصل اکثر یت قبائلی فرقوں کی ہے جو کل آبادی کا لگ بھگ40 فی صد ہیں۔ قبائلیوں کی کل ہند تنظیم راشٹریہ آدیواسی ایکتا پریشد کے نیشنل کو آرڈی نیٹر پریم کمار گیڈو کہتے ہیں کہ آئین ہندکی رو سے قبائلی ہندو نہیں ہیں۔ گیڈم کہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے جس نے قبائلیوں کو غیر ہندو قرار دیا ہے۔ چنانچہ ریاست میں ہندوحقیقی معنوں میں اکثریت میں نہیں ہیں۔یہ چیز بھی فرقہ پرستوں کو کھٹکتی ہے۔انہوں نے مسلمانوں کی شہریت چھیننے اور ان کو بے حیثیت کرنے کی قواعد شروع کی تھی۔ اور یہ معاملہ برما سے بھی سنگین تر ہوتا جا رہا تھا۔ مقتدر کانگریسی لیڈر اور صوبائی اسمبلی کے پہلے ڈپٹی اسپیکر محمد امیرالدین کا خاندان ہو یا سابق فوجی افسر محمد اعظم الحق، ان کو پہلے ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا، اور بعد میں انہیں فارن ٹریبونل کی ایک اسپیشل بنچ کے سامنے شہریت ثابت کرنے کے لیے کہا گیا۔سرکار ی اعداد و شمار کے مطابق اگست 2017سے جاری اس کاروائی میں اب تک 89395 افراد کو غیر ملکی قرار دیکر حراستی کیمپوں میں نظر بند کیا جا چکا تھا۔
انصاف کے دوہرے معیار کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہو سکتی ہے۔ ایک طرف آسام میں مذہب کی بنیاد پر شہریت میں تفریق کی جارہی ہے تو دوسری طرف ہندوستان کی مرکزی حکومت لاکھوں غیر ملکی ہندو پناہ گزینوں کو شہریت دلانے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔اس سے بڑی اور کیا ستم ظریفی ہوسکتی ہے کہ آسام میں تو مقامی ہندو آبادی کی نسلی اور لسانی برتری قائم رکھنے کے لیے لاکھوں افراد کو بنگلہ دیشی بتا کر شہریت سے محروم کر نے کو کوشش ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف جموں و کشمیر کی نسلی، لسانی و مذہبی شناخت کو ختم کرنے کے لیے ا علانیہ دوہرے پیمانے صرف اس لئے اختیار کئے جا رہے ہیں کہ آسام کی 35 فیصد اور جموں و کشمیر کی 68فیصد مسلم آبادی ہندو فرقہ پرستوں اور موجودہ ہندوستانی حکومت کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے۔ حکومت کے حالیہ اقدامات عندیہ دے رہے ہیں کہ ہندو فرقہ پرست دیگر ریاستوں سے ہندو آبادی کو کشمیر میں بساکر مقامی کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کروانے کے فراق میں ہیں۔(ختم شد)
(بشکریہ: دی وائر اردو)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved