تازہ تر ین

پولیس اصلاحات اور ہماری ذمہ داری

سید عارف نوناری….(چیئرنگ کراس)
پولیس ، قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور ایجنسیاں کسی بھی ریاست میں امن و امان کو قائم رکھنے کی ذمہ دار ہوتی ہیں ۔ یہ ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں محکمہ پولیس میں اصلاحلات کی بہت ضرورت ہے ۔ کئی دہائیاں پرانے قوانین پولیس کے شعبہ میں شامل ہیں جن پر حکومتوں نے شائد غور نہیں کیا۔ پولیس کے غلط رویہ اور بعض اوقات غلط تفتیش کے باعث ملک کی عدالتوں میں کیسوں کی بھرمار رہتی ہے ۔ پولیس میں تبادلوں یا یونیفارم کی تبدیلی سے تبدیلی نہیں آنی ہے بلکہ پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ پولیس کے اختیارات کو کم کرنا اور ایسے ادارے پاکستان میں پولیس کی اصلاحات اور پولیس کے رویہ میں تبدیلی لانے کے لئے قائم کرنے ہیں جس سے یہ کلچر ختم ہو اور تھانوں کا ماحول پر فضا اور دوستانہ ہو جائے ۔ پولیس کی وردی میں ملبوس انسانوں کے ذہنوں کی تربیت اور اسلامی پولیس نظام کے ذریعے ریاست کے افعال میں رکاوٹیں کم ہو سکتی ہیں ۔ پولیس کا ملزمان پرتشدد اور زیر حراست ملزمان کی اموات سے معاشرہ پر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں ۔ ہمیں انگریزوں کے نظامِ پولیس کو چھوڑ کر اپنی ملکی ضروریات کے مطابق نظام لانا چاہئے ۔ عوام کے ساتھ پولیس کے غلط سلوک اور رویہ سے حکومت کی ساکھ بھی کمزور ہوتی ہے ۔ پویس کے متعلق عوام کے خوف کو ختم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ پولیس اور عوام کے درمیان بھائی چارے کی فضاءکو فروغ دینا ہو گا ۔ لیکن اس کی راہ میں پولیس محکمہ اور وزارت داخلہ کو بہت سی مشکلات درپیش ہیں اور وہ پریشان ہیں کہ کئی عشروں سے پولیس کے اندر جو ذہنی سوچ پروان چڑھ چکی ہے ان ذہنوں میں کیسے تبدیلی لائی جائے۔محکمہ پولیس میں اصلاحات کےلئے پولیس کے محکمہ میں ایسے تربیتی کورس کتابی شکل میں لانے ہوں گے جس سے پولیس کی محکمانہ تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقیات کو بھی درست کیا جائے ۔
اگر پولیس کے نظام کو تجزیاتی انداز میں دیکھا جائے تو یورپی ممالک میں پولیس کا نظام پاکستان کے مقابلہ میں بہت بہتر ہے انہوں نے خلفائے راشدین کے پولیس نظام کا مطالعہ کر کے اس میں سے کچھ نکات کو اپنے پولیس نظام میں شامل کیا ہے ۔ وہاں پولیس کا تفتیش کا طریقہ کار بالکل الگ ہے اور ملزمان کے ساتھ انسانوں جیسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ لیکن یہاں برادری ازم اور سیاسی مداخلت کے سبب تھانہ بے حس ہو جاتا ہے ۔ دشمنیوں کی آڑ میں جھوٹے پرچے درج ہوتے ہیں ۔ پولیس کا کیا دھرا پھر عدالتوں میں آتا ہے تو وہاں پولیس کی غلط کارروائی کے سبب کئی خاندان کئی سالوں تک عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ پر بھی بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ ریاستی قوانین اور اخلاقی قوانین کی پابندی کریں اور جرائم روک تھام میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں اور ریاستی اداروں کی مضبوطی اور استحکام کے لئے بھی اپنا کردار ادا کریں ۔ پاکستان میں جرائم کی شرح میں بھی دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں مہنگائی ، بے روزگاری ، ذہنی دباو¿ ، گھریلو تعلقات میں عدم استحکام ، غیر مضبوط سیاسی نظام ، ریاستی اداروں کی کمزوری ، سیاسی جماعتوں کا منفی کردار شامل ہیں ، جرائم کی شرح میں اضافہ کی وجوہات کو تلاش کر کے اس کی اصلاح بھی ضروری ہے ۔ ایک ماہ پاکستان میں پولیس کے ملزمان پرتشدد کے واقعات اور اموات سے یہی پتہ چلتا ہے کہ شائد ہم ابھی بھی پتھر یعنی غار کے دور میں رہ رہے ہیں جہاں انسان کا تحفظ اور اس کی سلامتی کی ضمانت نہیں تھی۔ ریاست کا وجود اور ریاست کو قبول کرنا یا اپنانا اور شہری کا ریاستی قوانین کی پابندی کرنے کا مقصد بھی سیاسی مفکرین ارسطو ، افلاطون ، اقبال ، امام غزالی کے فلسفہ میں یہی ہے کہ شہری تحفظ کے سبب ریاست اور ریاستی قوانین کو قبول کرتے ہیں ۔ پولیس کی اصلاحات پر حکومت کو بھرپور توجہ دینی چاہئے خیبر پختون خوا میں پچھلے دنوں میں نے چند دن قیام کیا ۔ جہاں میں ٹھہرا تھا وہاں ساتھ ہی تھانہ تھا اور ساتھ ہی سرکاری ہسپتال تھا ۔ وہاں سرکاری ہسپتال میں اپنا بلڈ پریشر چیک کروانے کےلئے گیا تو 15 بیس منٹ میں لڑائی جھگڑے کے کئی کیسز میرے سامنے آئے ۔ وہاں لوگوں کی آراءبھی سنیں تو پتہ چلا کہ پولیس کا نظام یہاں بہتر تو ہوا لیکن خالصتاً بہتر نہیں ہوا بلکہ نا انصافی کے پہلو ابھی بھی موجود ہیں ۔ معاشرہ کی ترقی اور خوشحالی اور پرامن زندگی کے لئے پولیس کو اپنی پولیس بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved