تازہ تر ین

رےاض مےں ےومِ دفاع ِ پاکستان کی تقریب

سجادوریا……..(گمان)
دنےا کی معلوم تاریخ تو ےہی بتاتی ہے کہ جن قوموں نے اپنا دفاع مضبوط رکھا ،تاریخ ان کو ہی قابلِ فخر انداز مےں ےاد رکھتی ہے۔دنےا کی رواےت ےہی ہے کہ عزت ہمےشہ بہادر لیڈروں اور غےور قوموں کے مقدر کاستارہ بنتی ہے۔مسلمانوں نے جب تک علم ،تحقیق اور دفاع کے شُعبوں پر غلبہ قائم رکھا ،دنےا ان کے کارناموں کو مثال بنا کر پےش کر تی تھی۔جب مسلمانوں نے اپنے اسلاف اور اپنی تاریخ کو پسِ پُشت ڈالا وہ اغےار کی سازشوں کے جال مےں پھنستے چلے گئے۔اللہ کا شکر ہے پاکستان اےک عظیم اور بہادر قوم کا ملک ہے ،پاکستانی قوم اپنے وطن پر قربان ہونے جذبہ رکھتی ہے۔قےامِ پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان کو اپنے مشرقی بارڈر پر اےک مکار،بُزدل اور دھوکے باز ہمساےہ دُشمن کے طور پر ملا۔ قےامِ پاکستان کے بعد جو اثاثے پاکستان کو ملنے تھے بھارت ان پر قابض ہو گےا ۔ہندوستان ”بغل مےں چُھری اور منہ مےں رام رام“کا وِرد الاپتے ہوئے موقع ملتے ہی چُھری گھونپنے کی تاریخ رکھتا ہے۔قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ مےں لکھتے ہےں پاکستان تو قائم ہو گےا لےکن پاکستان کے پاس عمارتےں اور فرنیچر بھی نہیں تھا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین کو بٹھاےا جا سکے۔انہوں نے لکھا ابتدائی طور پر درختوں کے نیچے ”سرکاری دفاتر “ قائم کیے گئے۔اس قدر بے وسیلہ سرکاری مشینری لےکن قوم جذبہ حُب الوطنی سے سر شار تھی،سرکاری ملازمین کے پاس کاغذات کو نتھی کرنے کے لئے پےپر پِن بھی دستےاب نہیں تھی،وہ کہتے ہےں کہ کاغذوں کو نتھی کر نے کے لئے سرکاری ملازم سائیکل پر شہر سے باہر جا کر کیکر کے درختوں سے کانٹے توڑ کر لاتے اور ان کا کانٹوں کو سرکاری اُمور کی ادائیگی کے دوران کاغذات کو نتھی کرنے مےں بطور پےپر پِن استعمال کیا جاتا۔
مےں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم سےنکڑوں خامیوں کے باوجود نا ممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔قےام پاکستان کے وقت اس بے وسیلہ قوم نے اپنے جذبے اور محنت سے باوقار قومی ڈھانچہ کھڑا کیا ۔ادارے بنائے،دفاع مضبوط کیا ۔ڈےم بنائے ،اےٹم بم بناےا اور پاکستان کی عظیم بہادر فوج نے 1965ئءکی جنگ مےں دشمن کو اےسی عبرتناک شکست سے دو چار کیا کہ پاکستانی قوم کا دنےا مےں ڈنکا بجنے لگا۔پاکستان کی خوش قسمتی ےہ ہے پاکستان کی جغرافیائی حےثیت اسکی طاقت بن کے سامنے آئی۔پاکستان کے مےدان،پہاڑ ،درےا اور جفا کش قو م پاکستان کی طاقت کے عناصر ہےں۔پاکستان کی بد قسمتی بے اےمان اور دھوکے باز دشمن اور عالمی سازشےں بھی اس کا مقدر بنی رہیں۔پاکستان اپنے قےام کے بعد جلد ہی جنگوں مےں پھنس گےا ۔بھارت کے ساتھ اور افغانستان مےں روس کے خلاف جنگ مےں پاکستان کے بے پناہ وسائل اور وقت بر باد ہوا۔پاکستان نے جو وسائل اپنی ترقی اور استحکام مےں خرچ کرنے تھے وہ دشمنوں کے خاتمے مےں لگتے رہے ۔مےں سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے بہت عمدگی سے دشمنوںکا مقابلہ کیا۔اےک شاعر کے بقول
اپنا مےخانہ بنا سکتے تھے ہم
اتنا پےسا مے کشی مےں لگ گےا
خود سے اتنے دور جا نکلے تھے ہم
اک زمانہ واپسی مےں لگ گےا
مےں اس شعر کی تشریح اس انداز مےں کر تا ہوں کہ دشمنوں نے ہمےں اےسے معاملات مےں اُلجھا دیا کہ ترقی کی منزل تک جانے تک بہت لمبا سفر کاٹنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے دشمنوں نے ہمےں نیچا دکھانے کی جو بھی کوششےں کیں اللہ کا شکر ہے پاکستان نے ان کا مقابلہ کرنے کا پورا اہتمام کیا ہوا ہے۔پاکستان کا دفاع الحمدللہ بہت مضبوط ہے۔پاکستان کے جے اےف تھنڈر ،الخالد ٹےنکس اور نےوکلےئر بم پاکستان کی طاقت ہےں۔ہم نے اپنے ازلی دشمن کو 65 ءکی جنگ مےں ناکوں چنے چبوا دیے اور چند مہینے قبل 27 فروری کو پاک فضائیہ نے بھارت کے طےارے گرادئے اور پایئلٹ گرفتار کر لیا۔
صد شکر کہ پاکستان اپنے دفاع مےں ناقابلِ تسخیر قوت و طاقت رکھتا ہے ۔پاکستان کی آئی اےس آئی پاکستان کی وہ آنکھےں ہےں جو ہر لمحہ کھلی رہتی ہےں اور دشمن کی تاک مےں لگی رہتی ہےں۔پاکستان نے 1965ءمےں 6 ستمبر کو دفاع پاکستان کا جو قابل فخر کارنامہ سر انجام دیا ۔پاکستانی قوم آج بھی اس قابلِ فخر جذبے اور بے مثال قربانی کو اےک عظیم ےاد اور فتح کے طور پر مناتی ہے۔ ےومِ دفاع کی ایک تقریب سعودی عرب کے دارالحکومت رےاض مےں بھی منعقد کی گئی۔سفارتخانہ پاکستان نے رےاض کے مےرےٹ ہوٹل مےں اس تقریب کا انعقاد کیا ۔اس تقریب کے مہمانِ خصوصی اسلامی عسکری اتحاد کے کمانڈر اور پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف تھے۔سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز ،پرےس قونصلر ڈاکٹر مدثر چیمہ ،وےلفےئر اتاشی محمود لطیف اور ملٹری اتاشی بریگےڈئر ہارون اسحاق اس تقریب کے روحِ رواں تھے۔ےہ معزز شخصےات اور سفارتخانے کی پوری ٹیم اس ےوم دفاع کی تقریب کے انعقاد پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ سفارتخانہ پاکستان نے ےوم دفاع کو ےوم اظہار ِ ےکجہتی کشمیر کے طور پر منا ےا۔اس ہائی پروفائل تقریب مےں سعودی دفتر خارجہ کے آفیشلز،دیگر ممالک کے سفیر اور ملٹری اتاشی موجود تھے،اس تقریب مےں شرکت کے لئے سفارتخانہ کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہو ا ،مےں محسوس کرتا ہوں اس تقریب میں شرکت باعث اطمینان ہے ۔ےہ دےکھ کر دل خوش ہوا کہ سفیر صاحب نے اس تقریب کو اےک سفارتی مہم مےں تبدیل کر دیا ،جب وہ اپنے خطاب کے دوران کہہ رہے تھے کہ پاکستان اپنے دفاع مےں نا قابل تسخیر ہے ،دنےا ،بھارت کی کشمیرےوں پر تشدد اور جبر سے بھر پور کاروائیوں کا نوٹس لے۔پاکستان کشمیر ےوں کے ساتھ ہے ۔ سفیر پاکستان نے اپنے مخاطب دنےا بھر کے سفیروں اور ملٹریوں اتاشیوں کو پےغام دیا کہ پاکستان کشمیر کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لئے تےار ہے۔کشمیر ی عوام اقوام متحدہ اوردنےا کی طرف دےکھ رہے ہےں ،پاکستانی عوام بھی دنےا کے ہوش مندانہ کرادار کے منتظر ہےں۔پاکستان کی کشمیر کے ساتھ قلبی،روحانی اور مذہبی وابستگی ہے۔کشمیر مےں اےک ماہ سے زےادہ کرفیو ہے کشمیر کو عملی طور پر اےک جےل بنا دیا گےا ہے۔عا لمی اداروں کو چاہئیے کہ انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیا جائے۔بریگےڈئر ہارون نے بھی دیگر ممالک کے سفیروں اور ملٹری اتاشیوں کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کا مقدمہ پےش کیا ۔مےری نظر مےں پاکستان اےمبےسی نے اس تقریب کو اےک عالمی رنگ دے دیا ،جب دنےا کے مختلف ممالک کے سےنکڑوں نمائندوں نے شرکت کی۔ظاہر ہے جب ےہ لو گ اپنے ممالک کو رپورٹ کرےں گے ،مسئلہ کشمیر کی حساسیت پاکستان اور ہندوستان کے تناظر مےں بےان کرےں گے۔
جنرل راحیل شریف نے کےک کاٹا ،پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا گےا،مہمانوں کو ڈنر پےش کیا گےا۔مےں نے جب جنرل راحیل شریف کو تعارف کرواےا ۔متوجہ ہوئے ۔کےسے ہےں ؟ ساتھ ہی مسکراتے ہوئے بو ل دیا ” اُمید ہے آپ لوگ مجھے اچھے الفاظ مےں ہی ےاد کرتے ہوں گے؟ مےں نے کہا جی سر ! مےں نے کہا ”خبرےں“ مےں آپ کےلئے ایک کالم بھی لکھا ،مسکرا دیے ،شکریہ ادا کیا۔میں نے خاص طور پر سےلفی بنائی اور وہ تمام لوگوں سے خوش اخلاقی سے پےش آرہے تھے۔ جناب سفیر پاکستان سے بھی مکالمہ ہوا ،بہت محبت اور شفقت کا اظہار فرماےا ۔راجہ علی اعجاز کہنے لگے ،صبح سے شام تک کوئی فرصت نہیں،بہت زےادہ مصروف ہوں ۔ مےدان ِ عمل مےں ان کی کامےاب سفارتکاری نظر آتی ہے۔ سعودی محکموں اور وزارتوں سے مسلسل اور مضبوط رابطے دراصل پاکستان کا وقار بلند کرنے کےلئے ہی ہوتے ہےں ےا پھر پاکستانیوں کے مسائل کے حل کی خا طر۔بہر حال اس کامےاب سفارتی تقریب کے انعقاد پر مبارک باد پےش کرتا ہوں ۔سفیر پاکستان کی ٹیم مےں وےلفےئر اتاشی محمو د لطیف اور پرےس قونصلر ڈاکٹر مدثر چیمہ ےقینا ان کے بھر پور معاون ہےں۔مےں ان کو بھی مبارک باد پےش کرتا ہوں۔مےں سمجھتا ہوں کہ اےسی تقریبات ہوتی رہنی چاہئیں تا کہ پاکستان کے وقار کو بلند کرنے مےں ممد و معاون ثابت ہو سکےں۔اسی طرح وہاں موجود میڈیاکے دوستوں نے بھی بہت بھر پور اور بروقت کورےج کی ،ان کو بھی مبارک پےش کرتا ہوں ،ہر لحا ظ سے یہ ایک شاندار تقریب تھی۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved