تازہ تر ین

عثمان بزدار کو رہنے دو!

انجینئر افتخار چودھری …. (باعث افتخار)
عمران خان نے ایک بار جدہ میں برادر ذوالقرنین علی خان اور میری جانب سے منعقدہ تقریب میں کہا تھا کہ اب پی ٹی آئی کو صرف تحریک انصاف ہی شکست دے سکتی ہے۔ یہ شائد 2012ءکی بات ہے مرحوم احسن رشید بھی وہیں تھے۔میں چونکہ منتظمِ تقریب تھا اس ایک جملے پر حیران ہو گیا کہ کون سی آفت آ گئی ہے کہ عمران خان کو یہ کہنا پڑا ۔شرٹن کی لفٹ میں بھی کہا کہ کیا کروں لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ فلاں کو پارٹی میں لوں فلاں کو نہ لوں ۔ہم بھی بات کرنے سے رہتے کہاں ہیں کہا خان صاحب وہ وقت یاد کریں جب کونسلرز کے پاس بھی جایا کرتے تھے اور گھنٹوں کی ملاقا ت کے بعد جواب ملتا تھا سوچ کے بتاﺅں گا۔سچ پوچھیں ذہن میں سیف اللہ نیازی کی محنت تھی جو وہ2007میں کیا کرتے تھے۔ وہ تو اس سے بہت پہلے پارٹی میں تھے لیکن میں نے جب پی ٹی آئی جائن کی اس نوجوان کو دفتر میں بیٹھے دیکھا ۔عام آدمیوں کی خان صاحب سے ملاقاتیں کراتا گھنٹوں دفتر میں رہتا۔اسی طرح کی محنت جوگزشتہ چھ ماہ سے میں نے دیکھا کہ سیف رات دن ایک کر رہے ہیں انہوں نے بڑی محنت سے ایک ہجوم کو پارٹی بنانے کی ابتداءکر دی ہے۔اللہ نے کیا سب نے مل کر حکومت بنا لی۔ عمران خان وزیر اعظم بن گئے۔پنجاب میں بھی حکومت بن گئی۔اپوزیشن کے پاس سوائے اس الزام کے کچھ نہیں کہ یہ کسی مخلوق کی پیدا وار حکومت ہے۔جمع تفریق کر کے دیکھ لیں کہ کیا خلائی مخلوق جسے کہا گیا اگر اس نے مہربانی کرنی تھی تو یہ مانگ تانگ کے حکومت کیوں بنانا پڑی۔ کوئی دس قسم کی چھوٹی بڑی پارٹیوں سے مل کر وفاق اور صوبے میں حکومتیں بنائی گئیں منت سماجتیں دوڑ بھاگ کر کے عمران خان وزیر اعظم بنے۔ اس بات کا کوئی جواب دے دے کہ یہ کیسی مہربانی ہے اور کیسی عنائت کہ پی ٹی آئی نے اپنی سیٹیں بھی نچھاور کیں ۔ بڑی مثال پنڈی کی دو سیٹیں ہیں جو جناب شیخ کی جیب میں ڈالی گئیں اب اگر وہ کہتے نظر آئیں کہ میں اور عمران خان مل کر حکومت چلا رہے ہیں تو پانچوں سوار دلی سے آنے والی بات ہے۔
پنجاب کا منہ زور گھوڑا اس پر سوار عموماً لاہوری بیٹھا کرتے تھے یا پھر کوئی چودھری زمیندار اور تگڑے بندے جن کے خاندانوں کا کام ہی حکومت کرنا تھا۔عمران خان نے برادریوں، قوموں اور قبیلوں کی پرواہ نہیں کی۔ ایک حیران کن فیصلہ کیا اور جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے سے ایک ایسے شخص کو وزیر اعلی بنا دیا جس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ میں پنجاب کی اس گدی پر بیٹھوں گا جس پر بیٹھنے والے لوگ مریخ سے آیا کرتے تھے۔یہاں ایک بات کروں گا کہ اشرافیہ نے عمران کی اس بات کو نہیں مانا۔ویسے ایک بات کہی تھی کہ بنی گالہ میں تو سب مانتے ہیں نیچے نیازی چوک میں پہنچتے ہی اپنی اپنی۔یہ فیصلہ کیوں ہوا ۔محرومیوں میں گھرا جنوبی پنجاب جس پر وڈیروں کا راج رہا یہاں کے لوگ مزاریوں ،کھوسوں، لغاریوں، گیلانیوں، قریشیوںاور ہاشمیوں کے شکنجے میں رہے۔کبھی کھر، کبھی گورمانی اور خاکوانی مگر وسیب کے لوگوں کے پاﺅں میں صحیح طرح کی جوتی نہیں دیکھی۔اپنے داخلی جابروں کی کوتاہ اندیشانہ پالیسیوں نے جنوبی پنجاب کو اندرون سندھ بنا کے رکھ دیا جہاں اب بھی موئن جو ڈرو دور کی گاڑی چلتی ہے۔لاہور میں ستر ہزارفی بندہ خرچ کیا گیا جبکہ جنوبی پنجاب کے راجن پور میں چوبیس سو روپے فی فرد خرچہ کیا گیا۔میں نے ان لوگوں کی شاہانہ حکومت دیکھی ہے یہ لوگ اپنے کتوں پر جو خرچ کرتے ہیں اتنا لوگوں پر نہیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ جاگیردار لوگ اپنے اس کتے کی پرورش کے لئے غریب کو بھینس دیتے ہیں۔ہر جاگیر دار کا یہی حال ہے۔
عمران خان نے ان لوگوں میں سے ایک چنا اور پارلیمانی پارٹی کے سامنے رکھا اور کہا کہ یہ ہے میرا امیدوار۔کم لوگوں کو علم ہے کہ سرائیکی وسیب کے نام پر ہمارا دشمن بہت کچھ کر چکا ہے وہی جو اس نے بنگالیوں پر کام کیا۔میں دبے اور پسے ہوئے طبقے کا نمائندہ لکھاری ہوں ۔ مجھے علم ہے کہ میرے علاقے ہری پور کے لوگوں پر راجوں کے بعد خوانین وہی کچھ کر رہے ہیں جو ہر جاگیردار لوگوں کے ساتھ کرتا ہے۔آمرانہ نظام کی پیداوار یہ اشرافیہ تحریک انصاف کیا اگر زمزم سے دھلی کوئی پارٹی بنی تو اس کے امیدوار بھی یہی لوگ ہوں گے۔جو غیر محسوس طریقے سے جابر اور آمر کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔یہ لوگ جنہیں ہم الیکٹ ایبل کہتے ہیں اپنے علاقوں میں عمران خان کا نام نہیں لینے دیتے، اپنے اپنے باپوں اور دادوں کی ٹوپیاں ان کا قومی نشان ہوتی ہیں۔یہ طبقہ ہر جگہ موجود ہے جو سیدھے سادے اور شریف انسان کو وزیر اعلی نہیں دیکھ سکتے۔مجھے کسی سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی میں بزدار صاحب کی مدح سرائی کر کے انعام پانے کا متمنی ہوں۔ مزے کی بات ہے سال ہونے کو ہے، میں اگر لاہور آیا تو صرف بچے کی بارات یا پھر جناب ضیاشاہد کی دعوت پر آیا۔ نہ میں نے اسمبلی دیکھی نہ سیکرٹریٹ اور نہ ہی کسی ساتھی دوست وزیر کا دفتر۔فقیر بادشاہوں کے ٹھکانوں پر نہیں جاتے ۔پہلے بھی کہا تھا اب بھی لکھ رہا ہوں کہ عثمان بزدار کو رہنے دو اس لئے کہ وہ اس طبقے کا نمائندہ ہے جس کا کوئی نمائندہ نہیں ہوتا۔فیاض الحسن چوہان اچھا دوست ہے اس دن سنٹرل میڈیا آئے تو پوچھا سچ سچ بتاﺅ کہ بزدار کیسا ہے ۔جواب دیا بہت اچھا انتہائی شریف بہت ہی مہربان اور خیال رکھنے والا۔ یہی بات فرح آغا، نسرین طارق سیمابیہ واثق جازی نے بتائی۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ممبران صوبائی اسمبلی اس کی تعریف کرتے ہیں تو پھر بار بار اس کی پگڑی کو کیوں سرکانے کی بات کی جاتی ہے۔وزیر اعلی عثمان بزدار میں ہاں ایک خرابی ہے کہ وہ جہاں سے گزرتا ہے سائیں سائیں نہیں ہوتی ۔ ہر طرف خوف کے پہرے نہیں ہوتے۔کسی نے شو میں کہا کہ آپ کے دور میں شہد اور دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں؟جواب دیا خون کی ندیاں بھی نہیں بہتیں۔ہم جانتے ہیں کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کو ہٹانا در اصل عمران خان کو ناکام بنانا ہے اس کے دلیرانہ فیصلے کی پسپائی یقین کیجئے بنیاد کی اینٹ کا نکالناہو گا۔بنیاد کو چھیڑنا ہو گا۔پے در پے پولیس گردی کے واقعات کو دیکھئے انہیں باریکی سے دیکھیں کہ کیا اگر بزدار کے دور میں صلاح الدین کو تھرڈ ڈگری ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا تو اس سے پہلے نہیں ہوا؟۔کتنے لاشے گھروں میں بھیجے گئے اور کتنے لوگ ماورائے عدالت قتل کئے گئے۔بڑے پیمانے پر اصلاحات پیسہ مانگتی ہیں جو سال سے منجمد ہے۔میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور اب بھی لکھے دیتا ہوں کہ عثمان بزدار کو ہٹانے کے پیچھے عمران خان کو کمزور کرنے کی سازش ہے چاہے وہ بیرونئے کر رہے ہیں یا اندرونئے۔سچ پوچھیں گاﺅں کے غریب کےلئے بوسکی پہننا بڑا مشکل کام ہے ۔لوگ دیہات کیوں چھوڑتے ہیں انہیں زندہ نہیں رہنے دیا جاتا لاہور کی فضاﺅں میں کسی پسماندہ علاقے کو چودھری ماننا بڑا مشکل ہے۔ بزدار کے دور میں ہو سکتا ہے مختلف شعبوں میں گرفت کمزور ہو لیکن کیا مرکز میں ایسا نہیں ہے۔ ایک طبقہ ہے جس کا نام بیورو کریسی ہے اس میں گھسے لوگ جو عشروں سے موجیں کر رہے تھے انہیں عمران اور بزدار نہیں چاہئیں۔حرام کی دولت سے بنائے گئے یہ اسلام آباد کے بیشتر فارم ہاﺅسز کس کے ہیں؟کون ہے جو ملکی وسائل کو شیر مادر پی کر مست ہو گیا۔پنجاب کے وزیر اعلی کو رہنے دو اس لئے کہ کل کوئی پھر اسی طبقے کی آواز بن کر حالات بہتر کرے گا۔آج راجن پور ڈیرہ غازی خان اور ملحقہ علاقوں میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں کالج یونیورسٹیاں بن رہی ہیں ٹیکنیکل ادارے بن رہے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں لاہور اس حال میں پنڈی سے تیس سال آگے ہے تو راجن پور کا اندازہ لگا لیجئے کہ وہ پچاس سال پیچھے ہے۔
جینے دیجئے کسی غریب کو بھی اور اسے جڑا رہنے دیجئے قوم کے ساتھ۔یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اورنج ٹرینیں چلائیں اور ان کی ٹریکٹر ٹرالی نہ چلے۔عمران خان جانتا ہے کہ اگر اس نے ان طبقات کو نہیں اٹھایا تو اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔میں یہ نہیں جانتا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کیا فیصلہ کریں گے لیکن میری رائے پارٹی کے اندر اور باہر بھی یہی ہے کہ جس کو لیڈر مانتے ہو اس کی بات بھی مانو۔ پی ٹی آئی کے لوگوں کو شائد علم نہیں ایک سیل رواں ان کی طرف ہے۔ ایسے میں جب عمران خان کشمیر کی لڑائی میں مصروف ہے اس کی ٹانگیں کھینچنا مناسب نہیں۔قوم کو علم ہی نہیں کہ کرفیو کے سوا مہینے میں پتہ نہیں کہ بھارت کے درندے جو سر عام کہہ چکے ہیں کہ ہمیں اب کشمیر بھی ملے گا اور کشمیری خواتین بھی۔بوسنیا اور سربیا میں اجتماعی قبریں اسی قسم کے کرفیو میں کئے گئے جرائم کی وجہ سے بعد میں دریافت ہوئیں۔قارئین عمران خان نے بہتر سالوں کا ریکارڈ توڑا ہے اس ایک سا ل میں کشمیر کو عالمی مسئلہ بنایا ہے ۔لیڈر رت جگوں میں ہے اور ہمیں بزدار کو ہٹانے کی پڑی ہے۔شائد عمران خان نے سچ کہا تھا کہ ہم ہی ایک دوسرے کو ہرائیں گے۔قوم اگر متحد ہے تو ہمیں بھی اتحاد چاہئے ۔یہ پی ٹی آئی ہے اس میں ہم ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہیں۔ یارو!بزدار کو رہنے دو۔
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved