تازہ تر ین

قابل فخر تقریر

اسرار ایوب….(قوسِ قزح)
ڈیل کارنیگی کا وضع کردہ یہ سنہری اصول گزشتہ کچھ برسوں میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ مچھلی کا شکار کرنے کے لے کانٹے پر اپنی پسند کی نہیں بلکہ مچھلی کی پسند کی خوراک لگانی پڑتی ہے۔ یعنی اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری بات سنے تو ہمیںاپنے مسائل کو دنیا کی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا جو ذولفقار علی بھٹو بھی نہیں کر سکے۔ اقوامِ متحدہ میں کیا گیا اُن کا مشہور و معروف خطاب دھواں دار تو بہت تھالیکن کانٹے پر انہوںنے بھی اپنی پسند کی خوراک ہی لگائی ہوئی تھی جس سے دنیا کو ظاہر ہے کہ کیا دلچسپی ہو سکتی تھی؟ بھٹو کے برعکس عمران خان نے جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لیااور بڑے دھیمے لیکن پر عزم لہجے میں دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کے مسائل دراصل بین الاقوامی برادری کے اپنے مسائل ہیں جو مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے ساتھ براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔
عمران خان نے جو کہا وہ تو غور سے سن لیا گیالیکن جو وہ نہیں کہہ سکے اُسے اور بھی زیادہ توجہ سے سننے کی ضرورت ہے۔ اُن کا پہلا نکتہ کلائمیٹ چینج تھا جو آج کی دنیا کو درپیش اہم ترین چیلنج ہے، کلائمیٹ چینج کی جڑ گلوبل وارمنگ ہوتی ہے جو زمین کے عمومی درجہ حرات میں کاربن ڈائی آکسائیڈکی بہتات سے ہونے والے اضافے کو کہتے ہیں، یہ اضافہ جو0.8ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے اگر 5ڈگری تک پہنچ گیا تو دنیا ایک مرتبہ پھرویسے ہی تباہ و برباد ہو جائے گی جیسے آج سے ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے ہوئی تھی جب بڑے بڑے” ڈائناسار“ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔ عمران خان نے یہ تو کہہ دیا کہ کلائمیٹ چینج سے جن ممالک (پاکستان، بھارت، افغانستان، نیپال، بھوٹان اور تبت) کو سب سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے وہ سب کے سب ہمالیہ کے پہاڑوں میں آباد ہیں، لیکن کپتان یہ نہیں کہہ سکے کہ پاک بھارت ایٹمی جنگ کی صورت میں زمین کا عمومی درجہ حرارت کتنی تیزی سے اپنی انتہائی حدوں تک پہنچ جائے گا ؟
یہ بات پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ جوہری ہتھیاروں کے ماہر ”رس ویلن“ کی ایک تحقیق کے مطابق (جو جاپان پر گرائے گئے ایٹم بموں سے ہونے والے تباہی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئی) اگر پاک بھارت ایٹمی جنگ ہو گئی تو اس میں جو بم استعمال ہوں گے وہ اتنے طاقتور ہیں کہ انکے پھٹنے سے 50لاکھ ٹن دھواں (یعنی کاربن)فضا میں بھر جائے گا اور اس دھوئیں سے ہماری Ozoneکا 50فیصد حصہ تباہ ہو جائے گا، ایک طرف سورج کی انتہائی ضرررساں ”الٹرا وائلٹ“ شعائیں (جنہیں Ozoneروکتی ہے) ہم تک براہِ راست پہنچنا شروع ہو جائیں گی تو دوسری جانب قطب شمالی میںدرجہ حرارت اتنا ٹھنڈا ہو جائے گا جتنا برفانی دور(Ice Age)میں ہوا کرتا تھا۔ ان دھماکوں کے براہِ راست اثر سے دو کروڑلوگ تو فوراً ہی پگھل جائیں گے جبکہ ان سے پھیلنے والی تابکاری سے آنے والے دنوں میں دو ارب لوگ سسک سسک کر دم توڑدیں گے۔
عمران خان نے ”اسلامو فوبیا“کے اصل محرکات پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے یہ تو کہا کہ غیر مسلموں کا جانبدارانہ رویہ مسلمانوںمیں انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے جس سے بین الاقوامی امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکے کہ کلائمیٹ چینج کسی انسان کو مارنے سے پہلے یہ نہیں پوچھتی کہ اس کا تعلق کس قوم سے ہے؟ یعنی کائمیٹ چینج سے نمٹنے کیلئے قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی یکجہتی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جو اسی صورت میں یقینی بنائی جا سکتی ہے کہ عیسائی، مسلمان ،ہندو وغیرہ وغیرہ بن کر سوچنے سے پہلے انسان بن کر سوچا جائے ۔ مودی کی پسماندہ عقل تو ہندوازم سے آگے نہیں دیکھ سکتی لیکن کیا مغرب کا ترقی یافتہ ادراک بھی بین الاقوامی بھائی چارے کی اہمیت سے آگاہ نہیں ؟
عمران خان نے بڑے موثر انداز میں یہ بھی بتایا کہ دنیا میں جب تک (ٹیکس ہیونز کے ذریعے) کرپشن سے حاصل کئے گئے سرمائے کو تحفظ فراہم کیا جاتا رہے گا تب تک یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم جیسے غریب ممالک ان اہداف کے حصول میںکوئی کردار ادا کر سکیں جو اقوامِ متحدہ نے ہمارے لئے مقررکر رکھے ہیں، نہ ہی امیر ممالک اُن معاشی مہاجرین سے بچ سکیں گے جنہیں سنبھالنا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکے کہ بین الاقوامی بھائی چارے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ یہی غربت ہے جس کی وجہ( ”گلوبل فائننشل انٹگرٹی“ جیسے مغرب کے اپنے اداروں کے بقول) ترقی پزیر ممالک سے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے والی سرمائے کی غیر قانونی ترسیل ہے ۔ تو اگر کسی کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہو گی تو کیا وہ گلوبل وارمنگ جیسے مسائل کو یکسو کرنے کا سوچ بھی سکے گا؟
عمران خان کا چوتھا نکتہ کشمیر تھا جس پر انہوں نے اتنی اچھی گفتگو کی کہ حیران ہی کر دیا۔ ایک عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ بیانیہ ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ یا بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اس بیانیے کا فائدہ پاکستان کو نہیں بلکہ ہندوستان کو ہے۔ عمران خان وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے کشمیریوں کی مرضی کو پاکستان یا بھارت کی مرضی پر ترجیح دینے کا نیا موقف اپنایا اور یہ بھی کہا کہ کشمیر کا مسئلہ دو ممالک کے باہمی تنازعے سے کہیں بڑھکر ان بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے جو اقوامِ متحدہ نے دنیا کے ہر انسان کے لئے بلاتحصیص منظور کر رکھے ہیں۔ کپتان نے یہ تو کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا بھارت سے وابستہ اپنے معاشی مفادات کو ترجیح دیتی ہے یا ایک کروڑ انسانوں کو جن کے ساتھ وہ کچھ کیا جا رہا ہے جو جانوروں کے ساتھ بھی نہیں کیاجاتا، انہوں نے یہ بھی باور کرایاکہ بھارت ہم سے کہیں بڑا ملک ہے اور جنگ کی صورت میںایٹم بم کا استعمال ہماری مجبوری ہوگی جس کا ”فال آﺅٹ“ ہماری سرحدوں سے کہیں دور جائے گا، لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکے کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں ہم نہ رہے تو ہندوستان بھی نہیں رہے گا اور اگر ہندوستان ہی نہ رہا تو کیا وہ معاشی مفادات رہ سکیں گے جواس سے جڑے ہوئے ہیں؟
بہرطوراقوامِ متحدہ میں عمران خان کی تقریر قابل ستائش ہی نہیں بلکہ قابل فخر ہے جس پر بے ارادہ اپنے یہ اشعار یا د آگئے کہ
بنایا جس نے ہے آئینِ اذنِ گویائی
غضب یہ ہے کہ اُسی کی زباں پہ تالا ہے
بکی ہوئی ہے اگر آخری عدالت بھی
تو اس کے بعد بغاوت مرا حوالہ ہے
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved