تازہ تر ین

کشمےر کا سفےر ثابت قدم رہا مگر!

ثوبیہ خان نیازی….(اظہار خیال)
امرےکہ کے ساتھ مےری بچپن کی ےادےں وابستہ ہےں۔ جب ابو وہاں سے ہمارے لےے کھلونے ، پلے گےمز اور سکول بےگ لاےا کرتے تھے۔ اتنا سہانا اور شاہانہ بچپن کتنی جلدی گزر گےا۔ پتہ نہےں چلا۔ اس دور مےں لگتا تھا کہ لمحے ٹھہر ٹھہر کر گزر رہے ہےں ۔ رےڈ کلر کا سکول بےگ تو کوئی تےن چار سال تک مےرے سکول مےں مےرے ساتھ رہا۔ نہ وہ ٹوٹتا تھا اور نہ جان چھوٹتی تھی۔ بچپن سے مجھے اس بات پر ےقےن سا ہوگےا کہ امرےکہ سے لائی ہوئی چےزےں بہت مضبوط اور دےر پا ہوتی ہےں۔ اصل مےں کسی بھی شے کی مضبوطی اور پائےداری کے پےچھے اےماندار اور مضبوط لوگوں کے ہاتھ ہوتے ہےں۔ ان لوگوں کے جو ملاوٹ ، دھوکہ دہی او ر تصنع سے بہت دور ہوتے ہےں ۔ ساری مخلوق مےرے رب کا کنبہ ہے۔ وہ رب العالمےن ہے وہ کبھی کسی ذی روح کا خلوص اور محنت ضائع نہےں کرتا۔ معاملات زندگی مےں جو جتنا مضبوط ہوگا، محنت کرےگا۔ دھوکے ،فرےب اور انسانوں پہ ظلم و ستم سے بچے گا وہ اتنا ہی نواز جائےگا۔ مےں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اسلام کے سچے اصول ، عمدہ معاشرت کے طرےقے اور سچائیا ں دےارِ غےر مےں بسنے والوں نے اپنا لےں۔ وہ لوگ اےمان کے بغےر اےماندار بن گئے ۔ محنت کے اصولوں پر کاربند ہوگئے اور ہم صرف دولت کے فتنہ کے پرستار ہوکر رہ گئے اور اس مےں بھی مکمل نہےں ہوسکے ۔ ہماری حرص اور لالچ نے ہمےں تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کردےا۔ مگر ہم نہےں سمجھے ۔کاش آخری وقت کے آنے سے پہلے ہم اپنے قےمتی وقت کو سنبھال لےں اور اپنے پےارے آقا کے سچے وفادار بن جائےں جو سراپا محبت ،شفقت اور رحمت ہےں ۔ جنہوں نے دشمنوں کے لےے بھی دعائےں کےں ،جو رحمت العالمےن ہےں۔
اس روح زمےن پہ سب انسانوں کے دکھ ، درد ، خوشےاں اور احساسات ملتے جلتے ہےں لاکھ زبانوں کا فرق سہی مگر خون کا رنگ اےک ہے ۔ کوئی ےہودی ، عےسائی، نصرانی ہو ےا مسلمان سب کے نےکی اور خدمت خلق کا کام انہےں اس کا دنیاوی اجر دےں گے۔ شیکسپئر کا مشہور قول ہے دنےا اےک سٹےج کی مانند ہے اور ہم سب اپنا اپنا کردار ادا رکر رہے ہےں۔ اس دنےا کی سٹےج پر آج تک ان گنت انسان آچکے ہےں اور اپنا اپنا کردار ادا کرکے جا رہے ہےں۔ برے کردار والے ،ظلم و ستم کرنے والے، فتنہ فساد پھےلانے والے تارےخ کے چہرے پر بدنما دھبے ہےں اور نشان عبرت ہےں۔ سچائی پھےلانے والے، انسانےت کی بقاءکے لےے ظلم و ستم سہنے والے، سچائی اور بھلائی کے علمبردار ہمےشہ انسانوں کے دلوں مےں زندہ رہتے ہےں۔ صدےا ں گزر گئےں لےکن حسےنؓ کے نام کو انسانےت آج بھی سلام کرتی ہے اور ان کے غم مےں آنسو بہاتی ہےں۔ ظلم سہنے والے انہےں اپنے غم مےں ڈھال سمجھتے ہےں کےونکہ وہ حق اور سچ کے علمبردار تھے۔ ےزےد کا نام نشان عبرت بنا ہے اور بنا رہے گا۔ آج مہذب ممالک کے لوگ امن وآشتی، انسانےت کی ترقی او ر بقاءکی بات کرتے ہےں۔ جہاں انسانےت پہ ظلم ہورہا ہو ان کے لےے آواز بلند کرتے ہےں ۔قدرتی آفات کی تباہ کارےوں مےں غرےب ممالک کی مد د کرتے ہےں۔ انسانوں کے درمےان ہم آہنگی مسائل کے حل اور روابط مےں تسلسل کے لےے اقوام عالم اےک پےٹ فارم پر اکٹھی ہوتی ہے ۔اقوام متحدہ کا قےام بھی مسائل کے حل مےں معاون و مددگار ثابت ہونے کی اےک دلےل ہے۔ ساری دنےا جانتی ہے کشمےر مےں ظلم ہورہا ہے۔ تقرےباََ دو مہےنے ہونے کو ہےں بے گناہوں کو گھروں میں قےد رکھا ہوا ہے ان کی نسل کشی کی جارہی ہے بچوں اور نوجوانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ وہ لوگ بھوک ،پےاس اور بےمارےوں سے مر رہے ہےں ان کا کوئی پرسان حال نہےں ۔دنےا کی کوئی طاقت اس مودی کو روک نہےں رہی کہ وہ کشمےرےوں پہ ظلم کو بند کرے انہےں آزاد زندہ رہنے دے۔
وزےر اعظم عمران خان نے جس بلند حوصلگی ، ثابت قدمی اور جرا¿ ت سے کشمےر کے مقدمے کو دنےا کے سامنے پےش کےا اس کی مثال نہےں ملتی ۔آج تک اگرچہ ہر پاکستانی حکمران نے کشمےر کے لےے بات کی ہے مگر اس جرا¿ ت اوربے باکی کے ساتھ بات کرنا صرف عمران خان کے حصہ مےں آےا ہے۔ اﷲ انہےں کشمےرےوں کے حق مےں آزادی کا مسےحا ثابت کرے۔ عمران خان نے تمام سربراہان کے سامنے بھی اس مسئلہ کو پےش کےا ہے ۔سب اس بات کو سمجھ رہے ہےں کہ کشمےرےوں پہ ظلم ہورہا ہے کشمےر کے سفےر کی حیثیت سے عمران خان نے ہر پلےٹ فارم پر اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کی ےقےن دہانی دلائی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی مےں بھی انہوں نے اس اےشو کو بہت دردمندی سے بےان کےا ۔اسلام کا صاف شفاف چہرہ لوگوں کو دکھانے کے لےے بہت خوبصورت اور پر اثر انداز مےں گفتگو کی۔ اسلامو فوبےا کے خطرات سے اقوام عالم کو آگاہ کےا ۔اسلام محبت اور امن کا دےن ہے اور آج اسلام کے ماننے والوں پہ ظلم ہورہا ہے۔ دنےا خاموش ہے دنےا کے منصف کہاں ہےں۔ Human Rights کی تنظےمےں کدھر گئےں۔ کشمےرےوں کی کوئی کےوں نہےں سنتا۔ ےہ ظلم جب تک رکے گا نہےں پوری انسانےت کے چہرے پہ دھبہ ہے سب اس ظلم مےں برابر کے شرےک ہےں عمران خان نے سب سے بڑے پلےٹ فارم پر کشمےرےوں کے لےے بات کر کے حق ادا کردےا ۔ اب ہم سب کو اس سب سے بڑے پلےٹ فارم پہ سجدہ رےز ہونے کی ضرورت ہے آنسو بہانے کی ضرورت ہے اپنی التجا ئیں اپنے مسلمان بہن بھائےوں کے لےے خدا کے حضور پےش کرنے کی ضرورت ہے جو سب کی سنتا ہے جس کے گھر مےں دےر ہے مگر اندھےر نہےں، جس کی رحمت سے صحرا مےں بھی پھول کھلنے لگتے ہےں۔ کسی اےک کشمےری مظلوم کی آہ بھی قبول ہوگئی تو ظلم کرنے والے صفحہ ہستی سے مٹ جائےں گے بادشاہ گدا بن جائےں گے طاقتور بے بس ہوکرشاہراہوں مےں نشان عبرت بنے نظر آئےں گے ۔ ےہ ہوگا اسی عہد مےں ہوگا۔ خدا اپنی رحمت اور مددنازل فرمائے گا کےونکہ وہ کہتا ہے مےری رحمت سے ناامےد مت ہونا۔
مےری اک اک سانس کے مالک
مےرے رہبر مےرے منتہا
مےرا مان سلامت رکھنا
(کالم نگارشاعرہ وادیبہ‘ادبی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved