تازہ تر ین

بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی

راﺅغلام مصطفی….(عوامی کٹہرا)
بھارت کے وزےر اعظم نرےندر مودی نے مقبوضہ رےاست کشمےر کی خصوصی آئےنی حےثےت تبدےل کر کے خطے کی صورتحال کو ےکسر تبدےل کر کے رکھ دےا۔اس صورتحال کے پےش نظر دو اےٹمی ممالک کے درمےان سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ مودی کی سےاست بھارت کی ترقی و خوشحالی کی ضامن بننے کی بجائے بغض‘حسد اور نفرت و نفاق کو جنم دے رہی ہے۔مودی نے الےکشن سے قبل اپنے انتخابی منشور مےں کشمےر کی خصوصی آئےنی حےثےت کو ختم کرنے کا عندےہ دےا تھا۔ مودی نے اقتدار مےں آنے کے بعد پانچ اگست کو دفعہ 370 کی تنسےخ کےساتھ رےاست مقبوضہ کشمےر کو مرکز کی تحوےل مےں لاتے ہوئے دو حصوں مےں بانٹ دےا۔ بھارت کے سابق وزےر داخلہ چدم برم نے راجےہ سبھا مےں کہا تھا کہ کشمےر کی خصوصی حےثےت کو صرف اس لئے ختم کےا گےا کہ وہ مسلم اکثرےتی علاقہ ہے۔ مودی کی جنونےت کے پےش نظر مقبوضہ وادی مےں آج دفعہ 144کے نفاذ کے ذرےعے لاک ڈاﺅن ہوئے 58 دن گذر چکے ہےںمقبوضہ وادی مےں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے مزےد پےچےدگےاں اور مسائل جنم لے رہے ہےں۔مودی کی متضاد پالےسےوں سے بھارت مےں جہاں بدامنی اور بے چےنی جنم لے رہی ہے وہےں خطے کی صورتحال بھی کشےدہ ہوتی جا رہی ہے۔
مودی کا ہندوستان کا دوبارہ وزےر اعظم بننا بھارت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دےنے کے مترادف ہے۔ بھارت کی اپوزےشن جماعتےں مودی کے ہٹ دھرم اور ناعاقبت اندےشانہ فےصلوں اور پالےسےوں کو تباہ کن قرار دےتے ہوئے نوحہ کناں ہےں۔کشمےر مےں بھارت کی نو لاکھ غاصب فوج اسی لاکھ کشمےرےوں کے سروں پر موت کے سائے کی طرح منڈلا رہی ہے ۔ مودی کو شائد ادراک نہےں کہ جس طرح مقبوضہ وادی مےں قتل‘تشدد‘خواتےن کی آبرو رےزی اوربنےادی انسانی جمہوری حقوق کی پامالی شباب پر ہے ےہ صورتحال پورے بھارت کو اپنی لپےٹ مےں لے سکتی ہے۔ مودی سرکار کے آمرانہ غےر آئےنی وار نے کشمےرےوں کی سر زمےن کو ہی قےد خانہ مےں تبدےل کر دےا۔مودی کا ےہ غےر ٓائےنی اقدام خود دستور ہند سے متصادم ہے پوری دنےا مےں جہاں بھارت کا آمرانہ اور دہشتگردانہ چہرہ بے نقاب ہوا وہےں اس اقدام کو ظلم و استبداد اور جبر قرار دےا جا رہا ہے۔ ۔اگر اقوام متحدہ جےسا ذمہ دار فعال ادارہ بھارت کے اس غےر قانونی اقدام کو اپنی قرار دادوں کی روشنی مےں عملی کاوش سے نہےں روک سکتا تو پھر اس ذمہ داری کو کون نبھائے گا۔ وزےر اعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دنےا پر واضح کر دےا کہ اگرجنگ ہوئی تو اےٹمی ہوگی ےہ دھمکی نہےں وارننگ ہے ۔عمران خان نے اپنی تقرےر مےں کہا کہ کشمےر کی صورتحال دو مماک کے درمےان اےٹمی جنگ کروا سکتی ہے بےن الاقوامی برادری کو چاہےے کہ وہ اےک اعشارےہ دو ارب کی آبادی والی مارکےٹ کو خوش کرنے کی بجائے انڈےا کو کشمےر کی پالےسی بدلنے پر مجبور کرے۔ مودی کے حوصلے اتنے بلند ہو چکے ہےں کہ اسے وہ حدود بھی نظر نہےں آرہی جےسے عموماً سرخ لکےر کہا جاتا ہے دنےا کو اس بات کا بھی ادراک ہے کہ اگر دو نےو کلیئر طاقتوں کا ٹکراﺅ ہوا تو عالمی امن بھی داو¿ پر لگ جائے گا۔مودی کی جنونےت سے جنم لےنے والی بغض‘حسداور نفرت و نفاق کی آگ خطے کو جلا کر راکھ کے ڈھےر مےں تبدےل کر دے گی۔
پاکستان نے ہمےشہ اپنی سفارتی کوششوں کے ذرےعے دنےا کی توجہ مسئلہ کشمےر کی طرف مبذول کروانے کی پوری کوشش کی کہ ےہ مسئلہ کسی بھی وقت دو اےٹمی ممالک کو مد مقابل لا سکتا ہے اس لئے اسے عالمی دنےا اور اقوام متحدہ سنجےدہ کاوشوں سے حل کرے لےکن پاکستان کی سنجےدہ کاوشوں کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی دنےا جان بوجھ کر چشم پوشی کر رہی ہے۔ لےکن ےہ طے ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے جس انداز مےں مسئلہ کشمےر کی اہمےت کو اجا گر کےا گےا اس سے اندازہ لگانا مشکل نہےں کہ اب ےہ مسئلہ حل ہو کر رہے گا کشمےرےوں کو جمہوری حقوق دے کر ہی ان کے مستقبل کا فےصلہ ہو سکتا ہے ۔سوال ےہ ہے کہ پارلےمنٹ مےں صرف اےک قرار داد لا کر کشمےر کی آئےنی حےثےت بدل دےنے سے کےا مودی سرکار کو کشمےری عوام کی حمائت حاصل ہو جائےگی قطعاً نہےں، مودی کے اس غےر آئےنی آمرانہ ا قدام سے جو حالےہ تبدےلی لائی گئی ہے اس سے کشمےری عوام مےں بےحد بے چےنی اور اضطراب پاےا جا رہا ہے۔کشمےرےوں کے مستقبل کا واحد حل صرف استصواب رائے ہے جس کے ذرےعے کشمےری اپنے کل کا فےصلہ کر سکےں۔ہندوستان کی پوری تارےخ مےں اےسی کوئی مثال موجود نہےں جس طرح مودی کی جنونےت نے رےاست مقبوضہ کشمےر کو دو حصوں مےں تقسےم کر کے رکھ دےا بی جے پی حکومت رےاستوں کے وفاقی ڈھانچے کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اگر کشمےر اور کشمےرےوں کو مودی نے زبردستی اپنی جنونےت کی بھےنٹ چڑھا کر جس طرح مرکز کے تابع کرنے کی مذموم کوشش کی ہے مودی کو ادراک ہو جانا چاہےے کہ کشمےر ہندوستان کے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے اور ےہ بھارت کے لئے بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔بغض‘حسد‘نفرت کی آگ مےں سلگتے ہوئے ہٹ دھرم اور احمقانہ فےصلوں کے باعث مودی خود بھارت کی سلامتی اور بقاءکے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ اب عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو چاہےے کہ مسئلہ کشمےر جو کہ عالمی تنازع بن چکا ہے اس کا مستقل حل ڈھونڈ کر خطے مےں امن کی بالا دستی کے لئے کردار ادا کرے۔
(کالم نگارقومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved