تازہ تر ین

ویلڈن عمران خان، وی وانٹ مور

کامران گورائیہ
وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا نے بھی وزیراعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی میں خطاب کو تاریخ ساز قرار دیا ہے اور بجا طور پر عمران خان اپنے خطاب اور تقریر میں کی گئی باتوں پر تعریف کے حق دار بھی ہیں۔ اقوام متحدہ میں دھواں دھار تقریر کرنے والے وہ پہلے سربراہ نہیں ہیں تاہم انہوںنے اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر، اسلامو فوبیا اور عالمی ماحولیات جیسے موضوعات پر زبردست الفاظ اور انداز بیان اپنایا جس نے اقوام عالم کو حیرت میں مبتلا کر دیا ۔اس تقریر کے نتیجہ میں مظلوم کشمیریوں کے مو¿قف کو جس طرح سے تقویت حاصل ہوئی اور ان کی آزادی کی تحریک کو جس طرح حمایت حاصل ہو چکی ہے اس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی ذمہ داریوں میں اضافہ بھی ہوگیا ہے۔ اب انہیں کشمیر کی آزادی تک علم اٹھا کے رکھنا ہوگا کیونکہ وہ خود کو وائس آف کشمیر اور کشمیر کا سفیر قرار دے چکے ہیں۔ اس لئے ان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی تائید و حمایت جاری رکھیں اور اس معاملہ میں عالمی رہنماو¿ں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھیں۔ بہت سے لوگ یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ جس طرح وزیراعظم عمران خان کو کشمیریوں کی تکلیف کا احساس ہے اسی طرح وہ پاکستان کے غریب عوام کی تکالیف اور مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے بھی اقدامات کریں، اس کےلئے انہیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ معاشی بحران، بے روز گاری اور مہنگائی میں اضافہ ایسے مسائل ہیں جن کا حل تلاش کرنا عمران خان حکومت کی ترجیحی ذمہ داری ہے کیونکہ معاشی بحران نے اس ملک میں سرمایہ کاری کے عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مقامی تاجر بھی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اپنی چھوٹی بڑی صنعتیں بند کررہے ہیں جس کے نتیجے میں بیروز گاری میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سفارتی محاذ پر بھارت سے کشیدگی پاک بھارت تجارت میں بندش کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ دوطرفہ تجارت پر پابندی کی وجہ سے تھوڑا ہی سہی لیکن پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے۔ بھارت سے تعلقات کسی بھی طورپر بہتر ہوتے دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک دونوں ممالک کے درمیان سفارتی و تجارتی تعلقات میں بہتری کے امکانات موجود نہیں ہیں۔
ہر آنے والا دن عمران خان حکومت کی مشکلات میں اضافہ کرتے دکھائی دے رہا ہے۔ سب سے بڑی اور اہم وجہ یہ ہے کہ عمران خان یوٹرن لینے کے ماہر ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس ملک میں غیر یقینی کی سی کیفیت ہے۔ کاروباری مراکز، مارکیٹیں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ملک کے اہم اداروں میں آئی ایم ایف سمیت بہت سے دیگر عالمی اداروں سے امپورٹ شدہ شخصیات براجمان ہیں۔ ان مشکلات میں معیشت کے بے لگام گھوڑے کو قابو میں کرنا عمران خان اور ان کی کابینہ کے لئے انتہائی مشکل ہوگا۔ مخالفین تو عمران خان کے طرز حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بنا ہی رہے ہیں لیکن اب تو ان کے ووٹرز اور سپورٹرز میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ عمران خان کےلئے وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنے والی قوتیں بھی سر جوڑ کر بیٹھی ہیں کہ قرضوں سے اس ملک کو کب تک چلایا جا سکے گا۔ چند دوست عرب ممالک سے کب تک ادھار تیل ملے گا، یہ وہ تمام مسائل اور چیلنجز ہیں جن سے نمٹنا عمران خان کے لئے مشکل نظر آ رہا ہے۔ لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ عمران خان حکومت نے بہت سے ایسے منافع بخش قومی اداروں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جن کی فروخت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن حکومت من مانے فیصلے کر رہی ہے اور فیصلوں کے جو نتائج نکلتے ہیں ان پر بعد ازاں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔ عمران خان کے سامنے جہاں داخلی مسائل ہیں وہاں پر خارجہ پالیسیوں میں از سر نو نظرثانی کرنے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ حکومت سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو مکمل کرنے میں سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے جس پر خود چین بھی تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ اسی طرح حکومت نے امریکہ اور سعودی عرب کی طرف جھکاو¿ دکھانا شروع کر دیا ہے جس کا سب سے زیادہ منفی اثر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ پر پڑ رہا ہے۔ اس حکمت عملی سے دشمن ممالک کی وہ سازشیں کامیاب ہو جائیں گی جو وہ اس ملک کو تنہا کرنے کے لئے کر رہے ہیں۔ نوازشریف دور میں چین، ترکی، ایران اور روس سے مل کر ایک ایسا بلاک بننے جا رہا تھا جو خطے میں پاکستان کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کر سکتا تھا۔
اب یوں لگتا ہے کہ عمران خان عرب دنیا کو بھی اپنے مو¿قف کا حمایت یافتہ بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو آزادی دلوائی جا سکتی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے وزیراعظم کے خطاب کو اپنے انداز میں سراہا۔ترجمان پاک فوج نے ٹوئیٹ کیا 27 فروری …………. 27ستمبر۔کیونکہ 27 فروی 2019ءکو بھارتی فوج کی جارحیت کے جواب میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارت کو سرپرائز دیتے ہوئے بھارت کے 2 طیارے مارے گرائے تھے جب کہ ایک پائلٹ (ابھی نندن) کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ ایک اور ٹوئٹ میں ترجمان پاک فوج نے وزیراعظم کے آخری گولی اور آخری سانس تک لڑنے کے بیان اورعزم کوسراہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ چند ماہ کے دوران عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے، ان کی کشمیری عوام کیلئے جدوجہد ضرور کامیاب ہوگی، وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ اب دنیا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو ہر گز نظر انداز نہیں کرسکتی۔تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے ٹوئٹ میں لکھا کہ پہلی بار کشمیریوں کے مصائب دنیا کے سامنے بہترین انداز میں بیان کئے گئے ہیں، وزیراعظم نے اپنے وعدے کو پورا کردکھایا وہ کشمیر کاز کے چیمپیئن ہیں۔
تمام تلخ حقائق اپنی جگہ مگر اقوام متحدہ میں کشمیریوں کا مقدمہ عمدگی اور جرات مندی سے پیش کرتے پر ہم بہر حال یہ کہنے پر مجبور ہیں کہWell Done Imran Khan We Want More
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved