تازہ تر ین

پولیس اصلاحات ناکام کیوں ؟

افتخار رشید ……..( قلم اورعمل)
پولیس میں اصلاحات کا سلسلہ 1948ءمیں شروع ہوا ،سب سے پہلے اس ضمن میں قائد اعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل ایک قانون بنوایا لیکن اس قانون کی منظوری سے قبل ہی ان کی وفات ہو گئی اور ان کی وفات کے بعد یہ قانون منظور ہی نہیں ہو سکا ۔1951ءمیں گلبرٹ گریس نے پولیس نظا م میں جامع اصلاحات کی رپورٹ بنا ئی ۔1962ءمیں چیف جسٹس آف پاکستان کا رنیلئس کو پولیس اصلاحاتی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا ۔اس کے بعد جنرل مٹھا نے بھی پولیس میں اصلاحات کے حوالے سے رپورٹ مرتب کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں1976ءمیں آئی جیز کے انڈر پولیس کی تین کمیٹیاں بنیں جنھوں نے پولیس اصلاحات کی کوششیں کیں ۔اس کے بعد چوہدری فضل الحق اور رضا صاحب کی زیر قیادت پولیس میںاصلاحات کی کو شش کی گئی ۔1981ءمیں جنرل ضیاکے دور میں اورکز ئی صاحب کی کمیٹی بنی جس نے پولیس اصلاحات کی کو ششیں کیں ۔1985ءمیں اسلم وٹو نے بھی پو لیس میں اصلاحات کی کا وشیں کیں ۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی 5سے 7مرتبہ کمیشن بنے۔ کوشش یہ ہی تھی کہ پولیس نظام کو عوام کو ڈیلیور کرنے کے قابل بنایا جائے ۔اس مقصد کے لیے جاپان اور بنگلہ دیش سے ماہرین بھی بلوائے گئے ،ان سے بھی تجاویز لی گئیں ۔1999ءمیں چوہدری نثار کے انڈر کمیٹی قائم کی گئی اس کے بعد 2000ءمیں این آر بی اصلاحات جنرل نقوی نے کیں اور یہ ہی اصلاحات پولیس آرڈر 2002ءکا باعث بنیں۔
پاکستان کی پوری تاریخ میں پولیس اصلاحات کی غرض سے تقریباً30کے قریب کمیشن اور کمیٹیاں بنی ہیں۔ موجودہ دور میں بھی سول سروس ریفارمز کا بیڑا ڈاکٹر عشرت حسین نے اٹھایا ہے لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ ڈاکٹر عشرت حسین کا پولیس یا سول سروس سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں ہے ۔وہ فیڈرل سیکرٹری رہے ہیں اور انھوں نے ورلڈ بینک میں وقت گزارا ہے ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آرمی جنرلز ،ججز سمیت بڑی اور اہم شخصیات نے بھرپور کوششیں کیں لیکن نہ تو پولیس کی کا رکردگی بہتر ہو سکی اور نہ ہی پولیس کا امیج ۔پو لیس ریفارمز کرنے سے متعلق فائلوں سے کمرے بھرے پڑے ہیں ۔یہ رپورٹیں پڑھیں تو ان میں سے 90فیصد رپورٹیں بہت اعلیٰ کوالٹی کی ہیں ۔مندرجات کے معیار اور الفاظ کے معیار دونوں طرح سے بہت اعلیٰ کوالٹی کی ہیں۔پھر سوال یہ بنتا ہے کہ اگر اتنے طویل عرصے کے دوران اتنی اہم اور قابل شخصیات نے اتنی اعلیٰ معیار کی رپورٹیں مرتب کیں ،ایسی رپورٹیں جن کو پڑھ کر انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔لیکن اس سب کے با وجود پولیس کے نظام میں بہتری کیوں نہیں آئی ؟ یہ سوال ہی سب سے اہم ہے۔پولیس نظام میں بہتری نہ آنے کی بھی چند وجوہات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔
ا) پولیس کے اصل مسا ئل پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔پولیس اصلاحات کے نام پر ایسے اقدامات لیے گئے جن کا پولیس نظام میں موجود بنیادی کمزوریوں اور مسائل سے تعلق نہیں تھا ۔
۲) ہمارا پولیس نظام انگریز کے دور سے پیرا ملٹری طرز پر چلا آرہا ہے ۔اس نظام کے تحت زیادہ توجہ پی ٹی ،پریڈ ،ڈرلز اور بندوق چلانے پر ہوتی ہے ۔لیکن پولیس فورس کا کام ایک پیرا ملٹری فورس سے مختلف ہوتا ہے۔ اگر فوج نے کوئی آپریشن کرنا ہوتا ہے تو وہ پہلے سرویلنس کرتے ہیں پھر دشمن کے ہتھیاروں کا جائزہ لیتے ہیں ،پھر حکمت عملی ترتیب دے کر کوئی کا روائی کرتے ہیں ۔پولیس کو ایسی صورتحال کا سامنا بہت کم کرنا پڑتا ہے ۔اگر کچھ ڈاکو جنگل میں چھپ جائیں تب ہی ایسی صورتحال بن سکتی ہے ۔پولیس کو روزانہ کی بنیاد پر نئی صورتحال کا سامنا ہو تا ہے نت نئے کیسز آتے ہیں اس کے حساب سے ان کی تربیت ہونی چاہیے ۔
۳) تیسری چیز یہ دیکھنی چاہیے کہ زمینی حقائق کیا ہیں ؟ کسی بھی علاقے یا خطے کے زمینی حقائق سے متصادم نظام یا قوانین رائج نہیں کیے جا سکتے ۔کسی بھی علاقے کی رسم و روایات اور تہذیب اور ثقافت کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی نظام کام کر سکتا ہے ۔لندن یا جاپان کے ماڈلز کو سامنے رکھتے ہوئے اگر پاکستان میں نظام بنایا جائے گا تو اس کو ناکامی کا سامنا ہو گا ۔
۴) چوتھا نکتہ یہ بھی ہے کہ پولیس اصلاحات کے حوالے سے جو بھی پلان یا حکمت عملی مرتب کی جائے وہ قا بل عمل ہو نا چاہیے ۔ماضی میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ جو پلان بنائے گئے وہ اتنے مہنگے ثا بت ہوئے کہ ان پر عمل ہی نہیں کیا جا سکا ۔گزشتہ 70سالوں میں رپورٹیں بنانے والے بھی برا بھلے کہتے رہے کہ ان کی رپورٹوں پر عمل نہیں کیا گیا لیکن جو پلان مالی لحاظ سے قابل عمل نہ ہو اس کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا ۔
۵) پا نچواں نکتہ یہ ہے کہ پولیس کے نظام میں تربیت ،بھرتیوں اور تنخواہ پر توجہ دی جاتی ہے دیگر امور پر نہیں۔ بھرتی کے عمل میں سیاسی عمل دخل بھی بہت زیادہ ہو جاتا ہے ۔ایک مسئلہ یہ بھی کہ جب باہر سے آئیڈ یاز لائے جاتے ہیں تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ باہر کی پولیس کا ایجوکیشن لیول تنخواہ اور رہن سہن بالکل فرق ہے جو کہ ہمارے ملک میں نہیں چل سکتا ۔
اسی طرح کا ایک تجربہ سندھ میں پبلک سیفٹی کمیشن بنا کر کیا گیا تھا لیکن ہوا یہ کہ اس کمیشن میں جرائم پیشہ افراد کو بھر لیا گیا اور بعد میں اس پر ماتم کیا گیا ۔اسی طرح گزشتہ دور میں خادم اعلیٰ نے پنجاب کے تھانوں میں فرنٹ ڈیسک اور ان پر فوری طور پر کمپیوٹر ائزڈ آیف آئی آر کے اندارج کا نظام شروع کیا۔ ہوا یہ کہ اتنی جھوٹی ایف آئی آرز کٹوائی گئیں کہ یہ نظام بھی ناکام ہو گیا بلکہ اس سے زیادہ پیچیدہ مسائل سامنے آگئے ۔مختصر بات یہ کہ جو منصوبہ قابل عمل نہ ہو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔اس ضمن میں مزید تفصیلات انشااللہ اگلے کالم میں پیش کروں گا ۔
(کالم نگارمعروف بیوروکریٹ اورسابق چیئرمین پیمرا ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved