تازہ تر ین

نواز شریف کا شرائظ پر باہر جانے سے انکار

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ وفاقی کابینہ نے نواز شریف کانام ای سی ایل سے مشروط طور پر نکالنے کی اصولی اجازت دے دی ۔ منگل کووفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگدیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ‘نواز شریف کی صحت واقعی تشویشناک ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی سفارش پر نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم ہونی چاہیے، اس سلسلے میں آج کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین فروغ نسیم نے کابینہ اراکین کو بریفنگ دی اور نیب اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے حوالے سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ‘بریفنگ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ اراکین سے مشاورت کی اور ووٹنگ میں بیشتر اراکین نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی تجویز دی، تاہم تمام اراکین کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی جائے اور ان کی واپسی کا وقت بھی پوچھا جائے جس کے بعد عمران خان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی اصولی طور پر اجازت دے دی ہے۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے مشروط طور پر نکالنے کی اصولی اجازت دے دی ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ‘نواز شریف کی صحت واقعی تشویشناک ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی سفارش پر نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم ہونی چاہیے، اس سلسلے میں آج کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین فروغ نسیم نے کابینہ اراکین کو بریفنگ دی اور نیب اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ‘انہوں نے کہا کہ ‘بریفنگ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ اراکین سے مشاورت کی اور ووٹنگ میں بیشتر اراکین نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی تجویز دی، تاہم تمام اراکین کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی جائے اور ان کی واپسی کا وقت بھی پوچھا جائے جس کے بعد عمران خان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی اصولی طور پر اجازت دے دی ہے۔’واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا معاملہ پیچیدہ ہے۔کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ ذیلی کمیٹی کا اجلاس ایک بار پھر آج رات ساڑھے 9 بجے ہوگا جس میں فریقین کو مکمل دستاویزات لانے کا کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ دستاویزات قومی احتساب بیورو (نیب) کو اور درخواست گزار شہباز شریف اور ان کے وکلا کو بھی دستاویزات لانے کا کہنا ہے کیونکہ وہ مکمل تیار نہیں تھے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران 85 سے 90 فیصد لوگوں نے حمایت میں فیصلہ دیا کہ ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے، کچھ نے دوہاتھ بھی اٹھائے تھے۔ شیورٹی بانڈز دیتے ہیں تو ان کوبیرون ملک بھیجنے کے لیے سہولیات دیں گے،رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اراکین کا کہنا تھا کہ نوازشریف نقد کی صورت میں سیکیورٹی جمع کروائیں اور ان سے 800 ملین امریکی ڈالر اور لندن فلیٹس کی زر ضمانت لی جائے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے معاملے پر ووٹنگ ہوئی تو 3 وزرا نے سابق وزیر اعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزرا کے مابین نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر دو گھنٹے تک بحث جاری رہی، بحث کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے خاموشی کے ساتھ تمام لوگوں کی بات سنی۔ بحث کے اختتام پر کابینہ ارکان کے ہاتھ بلند کراکے ووٹنگ کرائی گئی، ووٹنگ کے دوران 3 وزرا نے ہاتھ نہیں اٹھائے۔اجلاس میں وفاقی وزرا نے نواز شریف کی واپسی کیلئے ٹھوس گارنٹی لینے کا مطالبہ کیا، بعض وزرا نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ مجرم کو بیرون ملک بھیجنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ نواز شریف کے خلاف بولنے والے وزرا نے بھی ان کے حق میں ووٹ دیا، وزیر اعظم عمران خان نے بھی نواز شریف کے حق میں ووٹ دیا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved