تازہ تر ین

12منٹ ، 2سال اور قومی اسمبلی

عثمان احمد کسانہ
چند روز قبل پاکستان کی سیاسی تاریخ کا عجیب ترین اور حیرت انگیز اجماع دیکھنے کو ملا جب ہماری قومی اسمبلی نے چٹکی بجاتے ہوئے صرف12 منٹ میں آرمی چیف اور دیگر سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے تین بل پاس کر لئے۔ایک دن کے وقفے سے یہی کار خیر اسی ٹائم فریم میں ایوان بالا (سینٹ )نے سر انجام دیا۔ میرے خیال میں اس بات پر غور کئے بغیر کہ چٹکی کس نے بجائی ؟توجہ اس طرف مرکوز رکھیں کہ کس خوبصورتی سے پورا ایوان یک زبان ہو کر اس بل کی حمایت کر رہا تھا اور تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندگان بسر و چشم دامے درمے سخنے اپنا اپنا حصہ ڈال رہے تھے بلکہ سب کے سب بے چینی سے خواہاں تھے کہ انکی یہ خدمت جلد از جلد شرف قبولیت سے مشرف ہو جائے ۔ان الفاظ کو بے جا تنقیدسمجھ کر اپنا سر دھننے کی بجائے ایک ناقد کی معمولی رائے سمجھا جائے بلکہ اسے اپنے ملک کی پارلیمانی روایات میں ایک اچھا اور خوشگوار اضافہ قرار دیا جانا چاہیئے ۔ اس کی تعریف کی جانی چاہئیے، اسے سراہا جانا چاہیئے،اسکے دور رس اثرات پر نظر ہونی چاہیئے، نہ کہ اس کو بنیاد بناکر ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کے تیر برسانے شروع کر دیئے جائیں کہ فلاں پہلے یوں کہتا تھا ، فلاں کا نظریہ دفن ہو گیا ، فلاں کی سوچ جیت گئی ، نہیں ہرگز نہیں میری دانست میں نہ ہی کوئی کامیاب ہوا اور نہ ہی کسی کی پسپائی ہوئی اور ویسے بھی اب نیا زمانہ نئے صبح و شام ہیں یہ دور کوئی اتناگیا گزرا بھی نہیں کہ اداروں کو نظریات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔
حالات کی نزاکت اور موجودہ سیاسی صورتحال کی روایتی سیاست کا تقاضا بھی یہی ہے اورہمارے ہاں قومی یکجہتی کی تعریف بھی یہی ہے کہ پرچم کے سائے تلے سب ایک ہوں نہ ہوں اس پرچم کو لہرانے والے ڈنڈے کے سائے تلے سب کو ایک ہونا ہی پڑتا ہے ۔اگر یہ کہا جائے کہ پارلیمنٹ نے بل پاس کر کے کوئی انہونی سرانجام نہیں دی قانون سازی ہی تو کی ہے اس میں کیا مضائقہ ہے ، پارلیمنٹ کا تو کام ہی یہ ہے ۔ تو جناب والا اک نظر ادھر بھی ! جن کے ووٹوں سے یہ ایوان تشکیل پاتے ہیں ان کا بھی کچھ ذکر ہو جائے ۔جس دن یہ معزز ایوان بارہ تیرہ منٹ میں اہم ترین قانون سازی کر رہا تھاعین اس وقت اسی پارلیمنٹ میں 80سے زائد دیگر بل منظوری کے منتظر تھے ۔موجودہ پارلیمنٹ کے گذشتہ 17ماہ میں قومی اسمبلی میںحکومت کی جانب سے 38بل پیش کیے گئے ، صرف 17پاس ہوئے ان میں سے صرف چھ کو دونوں ایوانوں نے منظور کیا۔اس دوران ارکان کی جانب سے 63 نجی بل قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے جن میں سے ایک بھی پاس نہ ہو سکا ۔ان میں سے متعدد کا تعلق عام شہریوں کی زندگیوں سے ہے ۔ اگر قارئین حیرت میں مبتلا نہ ہوں تو عرض کروں کہ ان زیر التوا بلوں میں سر فہرست© ’ ’ زینب الرٹ ‘ ‘بل تھا جو قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی بچی زینب کے نام پر بچوں کے تحفظ کیلئے اپریل2019 میں پیش کیا گیا تھا ۔اور اس وقت پورے ملک میں شور و غوغا ہونے کے باعث اسے اہم ترین بل قرار دیا گیا تھا ۔ پھر روایتی تاخیری حربوں کے باعث یہ مسئلہ دبتا چلا گیا اور یہ بل بھی اپنی اہمیت کے تناظر میں غیر اہم ہوتا گیا یہاں تک کہ دو سال تک یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق مین زیر بحث رہنے کے بعد بالآخرزینب کی دوسری برسی کے دن قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظوررتو کر لیاگیا مگر ساتھ ہی حکومتی وزرا نے کہہ دیاکہ امید ہے طاقتور لوگوں کے بل کی طرح اسے بھی سینٹ سے فوری منظور کر وایا جائے گا ۔
اسی طرح جائیداد میں خواتین کے حصہ کے تحفظ اور اس حوالے سے کسی بھی تنازعے کے فوری حل کا بل بھی طویل مدت زیر التوا رہنے کے بعداسی روزمنظور ہوا۔وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کی خواتین کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینے کیلئے مخصوص نشست کے حوالے سے آئینی ترمیم ، اور اسی طرح مفاد عامہ سے متعلق متعددبل ابھی تک قومی اسمبلی سے منظوری کے منتظر ہیں۔واضح رہے کہ اس معاملے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں برابر کے ذمہ دار ہیں اور برابر ایک دوسرے کو ذمہ دار بھی قرار دیتے ہیں ۔ اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز ترمیمی بل سمیت مجموعی طور 17بل پاس تو کر دئیے لیکن حکومت ان میں سے متعدد بل سینٹ سے پاس کروانے میں تا حال ناکام ہے ۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا تقدس اور ان کے معزز اراکین کا استحقاق سر آنکھوں پر مگر ان کو مقدس بنانے والوں کا بھی کوئی استحقاق باقی بچا ہے یا نہیں اس کا پتہ لگانے کیلئے یہاں ہونے والی قانون سازی اور تقاریر و مباحث کا سرسری جائزہ لیا جائے تو آنکھیں کھل جاتی ہیں اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جن کو عزتوں کے تاج اور اعتماد کی قیمتی متاع دیکر بھیجا جاتا ہے وہ یہاں پہنچ کر ذاتی مفاد اور عیش و عشرت کی ایسی عینک پہن لیتے ہیں کہ انہیں اپنے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔وہ پانچ سال تک اسی خمار میں رہتے ہیں اور جب دوبارہ انتخاب کا وقت آئے یا بیچ راہ کے لٹیا ڈوبتی نظر آئے تو عام آدمی کی حالت زار اور عوامی مسائل کی نوحہ خوانی کر کے سادہ لوح لوگوں کو پھر سے جمہوریت ، رائے عامہ اور ووٹ کی عزت کے چورن پر لگا دیا جاتا ہے ۔
سوال یہ ہے گلی محلوں کی خاک چھانتے وقت اپنے ووٹر ، سپورٹر اور عام آدمی کے پاﺅں تلے ہاتھ رکھنے والا اقتدار کی غلام گردشوں میں پہنچ کر ان سے اتنا لا تعلق اور بیزار کیسے ہو جاتا ہے ؟ اسے خبر ہی نہیں رہتی کہ اسے منتخب کر کے بھیجنے والے اس کی طرف سے کسی ریلیف کے منتظر ہیں، وہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول اور بنیادی مسائل کے حل کیلئے اس کی معمولی سی توجہ کو بھی ترس جاتے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں ہمیں ان طاقتور سیاسی پروہتوں اور نام نہاد لیڈران گرامی کو کوسنے کی بجائے اپنے طرز عمل پر بھی نظرثانی کر نی چاہیئے ۔ یہ اسمبلیاں اور ایوان ہمارے لئے تب ہی فائدہ مند ہونگی جب ہم خود اپنے نفع نقصان کا ادراک کریں گے ۔ان نمائندگان سے لمبی چوڑی امیدیں وابستہ کرنے کی بجائے ان کا محاسبہ کرنے کی روایت ڈالنی ہو گی ۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیںرہی کہ طاقت کا مرکز سمجھے جانے والے ایوانوں میں بیٹھنے والے بھی طاقت ہی کی زبان سمجھتے ہیں ۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved