تازہ تر ین

جامع منصوبہ بندی کا فقدان

چوہدری ریاض مسعود
2019ءمیں ملکی معیشت میں استحکام آچکا ہے جس کی وجہ سے 2020ءملک کی ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا جس کے ثمرات پاکستان کی عوام تک پہنچیں گے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہوجائے کیونکہ گزشتہ 16ماہ کے دوران حکومت نے عوام سے اس قدر وعدے کئے ہیں کہ جس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ ایک کروڑ نوکریاں 50 لاکھ رہائشی مکانات‘ بے نامی اکاﺅنٹس‘ مراد سعید کے 200 ارب روپے واپس لانے کے ڈائیلاگ اور نہ جانے اورکتنے وعدے اور نعرے اس حکومت کے کھاتے میں ہیں۔ زرعی اور صنعتی شعبوں میں ترقی معکوس سب کو نظر آرہی ہے جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب آیا ہوا ہے اور اس کی لپیٹ میںآکر عوام کی زندگیاںاجیرن بن چکی ہیں۔ وزیراعظم نے اگرچہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کا فوراً نوٹس لیا ہے اور عوام کو یوٹیلیٹی پر سستے داموں اشیاءفراہم کرنے کا حکم دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری22 کروڑ کی آبادی کیلئے تقریباًچھ ہزار کے لگ بھگ یوٹیلیٹی سٹورز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ بالا سٹوروں میں سے 80 فیصد اس وقت خسارے میںجارہے ہیں کوئی مانے نہ مانے حکومت کی مشینری مہنگائی کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ مختلف شہروں میں لگائے جانے والے سستے بازار ناقص اشیاءاور زیادہ قیمتوں کی وجہ سے کوئی ڈرامائی تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ دوسری طرف ملاوٹ کا دھندا اپنے عروج پر ہے۔فوڈ اتھارٹیز اپنے محدود وسائل اورافرادی قوت کی وجہ سے ملاوٹ پر قابو پانے میں کوئی موثرکارکردگی نہیں دکھا سکی ہے۔
یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ حکومت پٹواری‘ کلرک سے لے کر اعلیٰ بیورو کریسی کو اپنے” اشاروں“ پر چلاتی ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی سابقہ حکومت کے دور کے سرکاری ملازموں کے تبادلوں کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے بلکہ ہماری حکومتی ادارے انتظامی طور پر کمزور اور انڈر پریشر آجاتے ہیں۔
ہم کبھی بھی زمینی حقائق کو تسلیم نہیںکرتے لیکن بلند بانگ دعوے کرنے میں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان بھی ہر معاملے میں اپنے ذاتی سیاسی مفادات کو قومی مفاد پر مقدم رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے بالکل درست کہا ہے کہ ہمارے سیاستدان ابھی تک ”نظریہ ضرورت“سے چھٹکارا نہیں پا سکے ہیں، جمہوریت جمہوریت کا شور مچا کر انہوں نے خود ہی اپنے جمہوری اور سول بالادستی کے بیانیہ کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں میں ابھی تک جمہوری کلچر اور جمہوری سوچ پیدا ہی نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ سے نہ ہی کبھی حکومت کا قبلہ درست ہو سکا ہے اور نہ ہی عوام کی مشکلات اور مصائب میں کوئی کمی نظر آئی ہے۔ عوام کو نت نئے دعوﺅں اور تجربوں سے بہلایا جاتا رہا اب یوٹیلیٹی سٹوروں پر راشن کارڈوں پر 3 ہزار روپے تک کی اشیاءمفت دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ان کو کون سمجھائے کہ اس طرح کے تجربات سے مہنگائی کبھی بھی کنٹرول میں نہیں آتی۔ آپ رسد اور طلب میں توازن پیدا کرنے کیلئے اپنی پیداوار کو بڑھانے کیلئے عملی اقدامات تو کرتے ہی نہیں۔ منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں، ملاوٹ کرنے والوں اور سمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کرنے سے تو آپ کے ”پر“ جلتے ہیں۔ چلیں ہیں، حکومتی دانشور اور ماہرین تقریباً چھ ہزار یوٹیلیٹی سٹوروں کے ذریعے 22کروڑ عوام کو ریلیف دینے ،اللہ کے بندو ملکی پیداوار بڑھاﺅ، منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرو، مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے حکومتی اداروں کو مکمل طور پر فعال کرو، منتخب نمائندوں کو خواب غفلت سے بیدار کرو تاکہ پاکستانی عوام مہنگائی کے عذاب سے بچ سکیں۔ سیاسی بھرتیوں نے محکموں اور اداروں کی کارکردگی کا ”بھٹہ بٹھا“ دیا ہے۔ آپ حیران ہونگے کہ خسارے پر جانے والے اداروں کو خسارے سے نکالنے کی عملی تدابیر کرنے کی بجائے ان کی نجکاری کرنے کو ہی ہمارے حکومتی ماہرین اپنی حکمت عملی اور دانشمندی قرار دیتے ہیں۔ آپ پاکستان اسٹیل کراچی کو ہی لے لیں جسکی نجکاری کرنے کی کوششیں عرصہ دراز سے ہو رہی ہیں۔ 2006ءمیں اگر سپریم کورٹ بروقت اس کا نوٹس نہ لیتی تو اب تک یہ اہم قومی ادارہ کسی سیٹھ کے ہتھے چڑھ گیا ہوتا۔ اب بھی حکومت اس ادارے کو مکمل طور پر فعال بنانے میں مخلص نظر آتی بلکہ حکومت کا ہر قدم اس ادارے کو نجکاری کی طرف دھکیل رہا ہے ابھی حال ہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کو 3 ارب روپے کی گرانٹ دینے سے انکار کر دیا ہے جس سے یہ ادارہ زبردست بحران کا شکار ہے۔ کیا حکومت اس قومی ادارے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے مزید تباہی سے بچانے کیلئے عملی اقدامات کرے گی؟ یہ بات ذہن نشین رہے کہ وزیر اعظم ہاﺅس کی قیمتی گاڑیاں اور اعلیٰ نسل کی بھینسیں بیچنے سے قومی خزانہ کبھی نہیں بھرتا اسی طرح پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری سے بھی ملک کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ویسے بھی غیریقینی حالات اور خطے کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے ہماری معیشت دباﺅ کا شکار ہے۔ عالمی منڈی میں تیل اور سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے انہی وجوہات کی بنا پر ہمارے اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا ر جحان پایا جاتا ہے۔
حکومت کے ترجمان کے دعوﺅں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ بینکوں کی شرح سود بڑھ رہی ہے اور شرح منافع میں نمایاں کمی ہو رہی ہے خاص طور پر قومی بچت کی اسکیموں میں اس مالی سال کے دوران دو دفعہ منافع کی شرح میں کمی نے عام آدمی اور خاص کر بزرگ پنشنروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے، صنعتی اور زرعی انقلاب لانے، مجموعی قومی پیداوار میں اضافے، درآمدات کو کم کرنے اور برآمدات کو بڑھانے کیلئے جامع اور مو¿ثر منصوبہ بندی کرے ۔ملکی خزانے کو زرمبادلہ سے بھرنے کیلئے سمندر پار پاکستانیوں کو مناسب مراعات دے۔ ان کے مسائل کو حل کرے اور انہیں ہر معاملے میں اہمیت دے۔ حکومت قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کی ترقی اور فرغ کیلئے عملی اقدامات کرے، ملک میں جدید سائنسی تعلیم اور تحقیق کو فروغ دے، دیہی علاقوں میں زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کرے۔ صنعت وتجارت کو فروغ دینے کیلئے ٹیکسوں میں خصوصی رعایت دی جائے توانائی کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے عملی اقدامات کرے۔ قومی وسائل کے ضیاع کو روکے اور قومی بچتوں کو فروغ دینے کیلئے جامع منصوبہ بندی کرے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved