تازہ تر ین

سیاستدان اور ملٹری ڈیموکریسی

اسرار ایوب
کوئٹہ میں ایک اور خود کش حملہ ہو گیاوہ بھی ایک مسجد میں، اس طرح کی دہشت گردی کے حوالے سے ”قلم گھسائی“ کرتے ہوئے کم و بیش 15برس بیت گئے لیکن کسی پالیسی ساز کے کان پر جوں تک نہیں رینگی،کوئی یہ بھی نہیں سمجھ سکا کہ ہم آخر کہاں کہاں سیکیورٹی اہلکار تعینات کریں گے اور وہ بھی ایک ایسے حملہ آور کو پکڑنے کےلئے جو خود کش بمبار ہو، بھئی وہ تو جہاں بھی پھٹے گا کسی نہ کسی کو تو ساتھ لے کر ہی جائے گا؟ دہشت گردی سے نمٹنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتاجب تک پوری قوم اس کے خلاف ایک نہ ہو جائے لیکن قومی یکجہتی آئے کہاں سے کہ ہمارے یہاں ادارے نہیں افراد مضبوط ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں قانون کی بالادستی ہے نہ میرٹ کی پاسداری، اور یہ دو چیزیں نہ ہونے سے گروبندی اور تعصب پیدا ہوتاہے یعنی انفرادی مفاد اجتماعی مفاد پر مقدم ٹھہرایا جانے لگتا ہے جس سے”انارکی “جنم لیتی ہے جس کی اگلی منزل ”سول وار“ اور آخری ٹھکانہ ملک کا ٹوٹنا ہوتا ہے جیسا کہ 1971میں ہوا لیکن ہم اس سے سیکھ کچھ نہیں سکے اور آج بھی اُسی راستے پر رواں دواں ہیں جس پر پہلے تھے۔
اس وقت ملک میں صرف فوج ایسا ادارہ ہے جہاں قانون کی بالادستی بھی ہے اور میرٹ کی پاسداری بھی، یہی وجہ ہے کہ ایک سپاہی کا بیٹا بھی آرمی چیف بن سکتا ہے،اور اسی سبب فوج سے زیادہ یکجہتی کسی دوسرے محکمے میںنہیں ، یہی اتحاد دراصل طاقت کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ ملک کو بھی اسی اتحاد کی ضرورت ہے بصورتِ دیگرحالات بہتر ہوتے ہوئے کم از کم مجھے تو دکھائی نہیں دیتے۔
عدلیہ اور فوج دو ایسے ادارے ہیں کہ جہاں چیف کی تعیناتی کو سینیارٹی کے ساتھ لازم و ملزوم رکھنا از بس ضروری ہے تاکہ یہ سیاست کی نذر ہونے سے بچ سکیں،سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جس طرح جو شخص بھی سپریم کورٹ کا جج بن جائے وہ چیف جسٹس بننے کا اہل ہوتا ہے بصورتِ دیگر وہ جج ہی نہیں بن سکتا ، اسی طرح جو شخص بھی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچ جائے اور کور کمانڈ کر لے وہ آرمی چیف بننے کا اہل ہوتا ہے بصورتِ دیگر وہ کور کمانڈر ہی نہیں بن سکتا۔یعنی ضرورت اس قانون سازی کی ہے کہ کسی کے پاس یہ اختیار ہی نہ ہو کہ وہ سینیارٹی سے ہٹ کر کسی کو چیف لگا سکے تاکہ ہر دوادارے آزادی اور خودمختاری سے اپناکام کر سکیں۔
بہر طور قومی اسمبلی نے جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا قانون ”بھاری اکثریت سے“پاس کیا تو آزادکشمیر کے سابق وزیرِ اعظم سردار عتیق احمد خان یاد آ گئے جنہوں نے جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ”ووٹ کو عزت دو“کا ساتھ چھوڑ کر ”ملٹری ڈیموکریسی“کی اصطلاح ایجادکی اور اقتدار حاصل کر لیا۔ سردار صاحب ایسا نہ کرتے تو آزدکشمیر میں ن لیگ کا قیام عمل میں نہ آتا کیونکہ میاں صاحب مسلم کانفرنس کو ہی مسلم لیگ ن سمجھتے تھے یعنی وفاق میں مسلم لیگ ن برسرِ اقتدار ہوتی تو آزادکشمیر میں خودبخود مسلم کانفرنس کی حکومت بن جاتی، مسلم کانفرنس کے ساتھ میاں صاحب کا رشتہ کتنا گہرا تھا اس کا اندازہ اسی سے لگا لیجئے کہ میاں صاحب نے جنرل ضیا کی گود میں سیاست سیکھی اور جنرل ضیا سردار عتیق احمد کے والد محترم سردار عبدالقیوم خان کو اپنا مرشد کہا کرتے تھے۔
سردار عتیق ”ملٹری ڈیموکریسی“کے عنوان سے روزنامہ خبریں میں کالم بھی لکھتے رہے۔میںاس وقت بھی اسی اخبار میں لکھتا تھااور ایک نجی ٹی وی میں پروگرام بھی کیا کرتا تھا سو میں نے عتیق صاحب کا کالم دیکھ کرانہیں اپنے پروگرام میں بلا لیا اور ان سے پوچھا کہ ”ملٹری ڈیموکریسی“ سے آپ کی مراد کیا ہے؟ تو وہ بولے کہ پاکستان کے لئے خالص جمہوریت ٹھیک ہے نہ خالص آمریت، دونوں کو مل جل کر کام کرنا چاہیے جو ملٹری ڈیموکریسی کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے جب جمہوریت ملٹری کے ماتحت کام کرے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا بنایا ہوا یہ سسٹم عملی طور پر کام کیسے کرے گا، کیا وزیرِ اعظم اپنی فائلیں منظوری کے لئے آرمی چیف کو بھیجے گا؟ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا بلکہ ملک کا صدر جرنیل ہوگا اور وزیرِ اعظم اس سے پوچھ کر کام کیا کرےگا۔ میں نے کہا کہ ایسا تو صرف مارشل لا میںہی ہو سکتا ہے؟ وہ کہنے لگے کہ جرنیل حاضر سروس نہیں بلکہ ریٹائرڈ ہوگا۔ میں نے عرض کی کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جرنیل کام کا نہیں بلکہ نام کا ہوتا ہے ، اور دوسری یہ کہ ریٹائرڈ جرنیل تو موجودہ نظامِ حکومت میں بھی صدر بن سکتا ہے، پھر اس کے لئے ”ملٹری ڈیموکریسی“ کی نئی اصطلاع ایجاد کرنا کیوں ضروری ہے؟اس سوال کے جواب میں وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے، شاید اسلئے کہ اس میں کوئی”شرعی رکاوٹ“ حائل تھی یا شاید اسلئے کہ وہ ملٹری ڈیموکریسی کے گتھی ابھی پوری طرح سلجھا نہیں پائے تھے۔
عتیق صاحب کی یاد اس لئے آگئی کہ اب وہ شاید کبھی وزیرِ اعظم نہ بن سکیں کیونکہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ”ملٹری ڈیموکریسی“پر ایمان لے آئی ہیں جن میںاور تو اور ”ووٹ کو عزت دو“والے بھی شامل ہیں۔ یعنی اس حمام میں اب سارے ننگے ہو چکے ہیں ، یہی نہیں بلکہ سب کے کپڑے بھی چوری ہو چکے ہیں۔
ان حالات میں اپنے استاد عظیم شاعرسید ضمیر جعفری کا ایک شعر رہ رہ کر یاد آرہا ہے ، اسی پر آج کاکالم ختم کرتے ہیں کہ
ہم کو افراد مقدم تھے اداروں کی جگہ
اب چھوہارے نظر آتے ہیں ستاروں کی جگہ
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved