تازہ تر ین

انسانیت کے خون کا تماشا دیکھنے والے

وزیر احمد جوگیزئی
عرصہ دراز سے جب سے مسلمان زوال پذیر ہونا شروع ہوا ہے سلطنت عثمانیہ ،سپین میں سلطنت اموی سلطنت فاطمی مصر میں ،اور ہندوستان میں مغل سلطنتیں تھیں اور مسلمانوں کا بول بالا تھا ،اور بول بالا کیوں تھا ؟ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اس وقت کے اور اس سے پہلے کی مسلمان ریاستیںاور مسلمان حکمران بھی علم کی دنیا میں اور اپنے علم میں اضافے کے لیے مسلسل مصروف عمل تھے ۔اور اپنے ایام اپنی سائنٹیفیک بنیاد کو مضبوط بنانے اور مستقبل کی ترقی کے لیے مصروف عمل رہتے تھے ۔اس وقت کی سائنسی بنیادہی مستقبل کی ترقی کے لیے کھڑی گئی تھی چاہے وہ ریاضی کا شعبہ یا پھر کیمیا کا یا پھر فزکس کا مسلمان ہر علم میں آگے تھے ۔اور اس دور میں کچھ نہ کچھ دریافت ہو رہی تھی اور مسلمان اپنی مضبوط تعلیمی اور سائنسی ترقی کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے عمل میں مصروف تھے ۔اگر کچھ نہیں ہورہا تھا تو وہ مسلمان عوام کے اندر ایک جمہوری سوچ اور ایک جمہوری خیال اور تعلیم کے لیے ایک عوامی تعلیمی بیس بنانا۔ اس وقت کے مسلمان حکمران اور اکابرین نہیں کر سکے ۔میرے خیال میں یہ ایک ایسی ناکامی تھی جس نے کہ مسلمان قوم کو ایسا نقصان پہنچایا جس کی تلافی آج تک ممکن نہیں ہو سکی ۔
دوسری طرف اسی دور کے دوران یورپ کے اندر یورپ کے اکابرین عوام کو تعلیم یافتہ بنانے اور نچلے لیول تک تعلیم کو عام کرنے کے مشن میں بھرپور طریقے سے سرگرم عمل تھے ۔اور آج ہم جن نامور یورپی یونیورسٹیوں کے نام سنتے ہیں چاہیے وہ آکسفورڈ یو نیورسٹی ہو یا پھر کیمبرج یو نیورسٹی ہو یہ یونیورسٹیاں اسی دور میں قیام میں لائی گئیں تھیں ۔لیکن ان یونیورسٹیوں نے اس دور میں اپنا تمام بیسک میٹریل یا بنیادی تعلیمی مواد اموی دور کی سپین کی یو نیورسٹیوں سے ہی حاصل کیا اور کام کو آگے بڑھایا ۔لیکن مسلمانوں میں ایک بڑی خامی یہ تھی کہ وہ جمہوری سوچ سے محروم رہ گئے اور سلطانوں کے گن گاتے رہے اور عوامی سوچ یعنی جمہوریت کی آواز ہمیں سمجھ ہی نہیں آئی ۔لہٰذا اس دور میں مسلمانوں نے ترقی اور تعلیم کے فروغ کے لیے جو بھی کا وشیں کیں ان کا فائدہ یورپ کو ہی پہنچا ،جنہوں نے ایک عوامی سوچ کو ہی پروان چڑھایا ۔جمہوری سوچ سے مسلمان دنیا غا فل رہ گئی اور بلکہ مخا لف رہی اور آمرانہ طرز کی حکمرانی کی عادی ہو تی گئی ۔آمرانہ طرز حکمرانی صریحا ً اسلامی سوچ کے مخالف سمت میں تھی اور یہی وجہ بنی کہ ہم رفتہ رفتہ تنزلی کا شکار ہوتے گئے ۔اور آج ہماری آواز کی گونج بھی نہیں سنائی دیتی ۔
یہی وہ سیاہ باب تھا جس کو علا مہ محمد اقبال نے اپنے خطبہ الہ ٰ باد میں بڑے واضح الفاظ میں بیان کر دیا تھا ۔اور یہی وہ کالے دھبے ہیں جو کہ مسلمان قوم کے چہرے پر لگائے گئے اور مسلمان ایک آمرانہ سوچ کے اندر بند ہو کر رہ گئے اگر مسلمانوں کے اندر ایک درست جمہوری سوچ کو آگے لایا جاتا تو مسلمان آج بہت آگے ہوتے ،قائداعظم محمد علی جناح جمہوری سوچ کو لے کر آگے چلے اور کسی حد تک انھوں نے جدوجہد پاکستان کے ذریعے اس سوچ کو عملی جامہ پہنایا لیکن ہم اس سوچ کو مکمل تعبیر نہ دے سکے ۔چاہیے تو یہ تھا کہ ہم مسلمان دنیا کی رہنمائی کرتے پاکستان کا اصولی موقف ہی یہ تھا کہ وہ مسلمان دنیا کی رہنمائی کرے گا اور رہنمائی ایک جمہوری سوچ اور درست عمل سے کی جائے گی اور اسلامی مملکت میں قانون کی حکمرانی کا بول بالا ہو گا اور عوام سر تا پا علم و عفت کے اور یگانگت کے نشان ہو ں گے ۔مسلمان دنیا کو رہنمائی فراہم کریں گے ۔لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور اب تو خواب ہی بن کر رہ گیا ہے ہم نے بطور قوم اپنے اکابرین کی ہر طریقے کے ساتھ نافرمانی کی ہے اور ان کی سوچ سے انحراف کیا ہے اور ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کو ئی جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے کہ ہمیں جو پیغام دیا گیا تھا ہم اس پیغام پر عمل درآمد میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ۔ اگر ہم اس امر کا اعتراف کرلیں تو شاید اللہ تعالیٰ بھی ہم پر رحم کھا کر ہمیں معاف کردے ۔ورنہ آج جو اسلامی دنیا کا حشر ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر تو صرف افسوس اور ندامت کا اظہار کیا جا سکتا ہے ۔
مسلمان دنیا میں اس وقت جو بے سر وسامانی ہے اور ہم ایک دوسر ے کے ساتھ بر سر پیکار ہیں ۔اس کا فائدہ بھی صرف اور صرف امریکہ کو ہی ہو رہا ہے ۔جو ملک اس دنیا میں اسلحہ کے سب سے بڑے سپلا ئر ہیں ان کو ہی فائدہ ہوتا ہے وہ ساری دولت جو کہ انسانی فلاح و بہبودپر خرچ کی جانی چاہیے تھی وہ صرف اور صرف اسلحہ اور ہتھیاروں کی فراہمی پر استعمال کی جا رہی ہے سعودی عرب بھی کر رہا ہے ،ایران بھی کر رہا ہے ۔اور پاکستان بھی کر رہا ہے خیر ہم تو قرض لے لے کر کر رہے ہیں ۔ہم ان ممالک کی ٹیکنا لو جی کا مقابلہ نہیں کر سکتے اگر ہم کچھ کر سکتے ہیں تو یہ کر سکتے ہیں کہ ان ممالک کے ساتھ اتنا ہی تعلق رکھیں جتنا کہ ضرورت ہے ۔اسلحہ بنانے والا ملک نہ تو کسی کا دوست ہو سکتا ہے اور نہ کسی کا اتحادی ہو سکتا ہے ،ایسے ملک کسی کی خیر خواہی نہیں کر سکتے ،یہ ملک تو ہر ملک کو ہی اسلحہ فراہم کرتے ہیں ۔تمام فریقین کو ہتھیار بیچتے ہیں اور پھر انسانیت کے خون کا تماشہ دیکھتے ہیں ۔اسلحے کی فروخت ہی ان ممالک کی اقتصادی قو ت کا راز چھپا ہے ۔مسلم ممالک کے حکمرانوں اور اکابرین کو اس حوالے سے اپنی سوچ تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔آئندہ کالم میں اس حوالے سے انشا اللہ بات کو جاری رکھیں گے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved