تازہ تر ین

وزیراعظم کے نام کھلا خط

میر حسن گدھا گاڑی چلا کر گزربسر کیا کرتاتھا اور اہلخانہ نے مجھے بتایا کہ وہ کئی ماہ سے بےروزگار تھا،اسی وجہ سے گھر کے قریبی قبرستان میں خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی، میر حسن کے معصوم بچوں نے اپنے غریب باپ سے مانگا ہی کیا تھا، یہ ہی کہا تھا نا کہ بابا سردی بہت ہے ہمیں گرم کپڑے دلادو!
وزیراعظم عمران خان صاحب‘ خودسوزی کرنےوالے میر حسن کی جیب سے وہ خطوط نکلے ہیں جو وہ آپ کو لکھتے رہے ہیں مگر وہ خطوط کبھی آپ کو نہیں بھیجے گئے بلکہ وہ خط میر حسن اپنی جیب میں ہی رکھ لیتاتھا اور خود سوزی کرنے کے بعد میر حسن کا آخری خط بھی اس کی جیب میں ہی موجودتھا۔اسی لیے ایک کھلا خط میں آپ کے نام لکھ رہاہوں ۔ میں جب میر حسن کے گھر پہنچا تو میر حسن کے بچے اپنے گھر کا ٹوٹا پھوٹاسامان ایک گدھا گاڑی میں لاد کرکسی اور جگہ ٹھکانہ ڈھونڈنے کے لیے نکل رہے تھے اور کچھ نہیں معلوم تھا کہ انہیں آخر جانا کہا ںہے ۔ یہ سب مناظر کسی بھی درد دل رکھنے والے انسان کو جیتے جی مارنے یا اس کا سینہ غم سے پھاڑ ڈالنے کے لیے کافی تھے ۔ میں خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور بے اختیار آنسوﺅ ں کی ایک جھڑی آنکھوں سے نکل کر میرے گالوں پر آگری ۔گو کہ سندھ بھر میں پھیلی غربت سے ہونےوالے واقعات کو میں مسلسل کئی عشروں سے دیکھ رہا تھا۔میں خودسندھ کے جابر حکمرانوں کے ظلم وبربریت اور مصائب کی چادر میں لپٹے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو سسکتے اور بھوک سے بلکتے ہوئے دیکھ چکاہوں ،ان میں سے کئی معصوم بچوں کے جنازے اپنے ہاتھوں میں اٹھاچکا ہوں جن کی میت کا بوجھ جنازے میں لپٹی چادر سے بھی کم تھا جس کی وجہ بھوک کا وہ عفریت ہے جس نے ان کے جسموں کو کاغذ کی مانند کررکھا تھا۔ ہائے خان‘ تجھے کیا بتاﺅں اور کیا نہ بتاﺅں۔ بچوں کے علاج کےلئے ہسپتالوں میں تڑپ ٹرپ کر بین کرتی وہ مائیں مجھے سندھ کے کرتادھرتاﺅں کے ظلم کی داستانیں سناتی رہی ہیں ، مگر میر حسن کے واقعہ نے مجھے ایک بار پھر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے ۔ خان صاحب‘ آپ تو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیںکہ زمین وآسمانوں کے سارے رشتے انسانوں کےلئے ہیں اور آج یہ انسان بھوک پیاس اور بچوں کےلئے گرم کپڑوں کے نہ ہونے کے باعث اپنے جسموں کو آگ لگارہاہے۔ خان صاحب‘ آپ توجانتے ہیں کہ کسی غریب کا دل اور اس کے احساسات اتنے ہی باعث احترام ہیں جتنے کہ کسی وزیر یا صاحب اقتدار کے ،میں آپ سے درخواست کرتاہوں کہ سندھ کا ہاری، سندھ کا ایک مزدور اب سندھ پر گزشتہ تین ادوار سے قابض حکمرانوں کا بوجھ مزید برداشت نہیں کرسکتا،اس سے پہلے کہ سندھ میں موجود غربت زدہ لوگوں کی زندگیوں میں کبھی نہ ختم ہونے والا یہ مسئلہ ایک طویل المیہ بن جائے آپ بحیثیت وزیراعظم پاکستان اس جانب مخلصانہ توجہ دیجئے ،یہ اقتدار یہ منصب اس رب کی طرف سے آپ کےلئے ایک امتحان ہے جس کا جواب مجھ سمیت آپکو بھی دینا ہے اور مجھ سمیت پوری قوم یہ بھی جانتی ہے کہ آپ غریب عوام کےلئے دکھی رہتے ہیں اور اس المیے کے طویل المیعاد خاتمے کےلئے کام کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ کی جانب سے غریب عوام کے لیے پناہ گاہ پروگرام بنانا یقینی طورپر ایک بڑا اقدام ہے ،ہمیں یقین ہے کہ صحت کارڈ بھی ہرایک غریب کو ملے گاجبکہ احساس پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس پر آپ کی وفاقی حکومت کی جانب سے190ارب روپے خرچ کیئے جاچکے ہیں جس میں پچاس ہزار نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کےلئے اسکالر شپ دی جارہی ہے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ نے کامیاب جوا ن پروگرام کے لیے 100ارب روپے سے زائدمختص کیئے ہیں جو اس سے قبل شاید کسی اور حکومت میں نہ ہوسکا اور اسی طرح بے شمار ایسے عوامی منصوبے ہیں جس کا تذکرہ کرنے کی بجائے میں صرف یہ ہی کہنا مناسب سمجھونگا کہ جس قدر جلد ہوسکے ان تمام فلاحی اور عوامی منصوبوںکے ثمرات عوام تک پہنچنا چاہیےںاور خاص طورپر ملک میں موجود مہنگائی کا خاتمہ آپ کی حکومت کی پہلی ترجیحی ہونی چاہیے کیونکہ جو لوگ صاحب حیثیت ہیں ان کے لیے نہ سہی مگر ایک عام آد می شاید اس مہنگائی کا زیادہ دیر سامنا نہیں کرسکے گا۔
خان صاحب ،یقینی طوپر پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بہتری کے امکانات دکھائی دینا شروع ہوگئے ہیں مگر ذرا اس اٹھارویں ترمیم کی افادیت کا شور مچانے والے صوبہ سندھ کے حکمرانوں کے ظلم وستم پر بھی توجہ فرمالیجئے جن کی پالیسیوں سے امیر امیر تر اورغریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے ۔آپ جس 70سالہ نظام کی درستگی کےلئے کام کررہے ہیں اس کی باقیات کا ایک بڑا حصہ صوبہ سندھ پر قابض ہے جو تھر پار کر سمیت سندھ کے دیگرحصوں میں غربت اور افلاس پھیلانے کا حقیقی ذمہ دار ہے ،جو ان لوگوں کو خوشحال اور پڑھا لکھا ماحول اس لیے نہیں دینا چاہتا کہ کہیں علم اور شعور آ نے کی وجہ سے یہ غریب لوگ ان کے سامنے ہی نہ کھڑے ہوجائیں اور یہ وہ فرعونیت والی سوچ ہے جس کا خاتمہ صرف اور صرف آپ ہی کرسکتے ہیں ۔سندھ میں غربت کے بعد اب یہاں کے شاہی کتے بھی غریب انسانوں کوبھنبھوڑنے کا ذمہ اپنے سر لے چکے ہیں ۔ خان صاحب آپ تو جانتے ہیں کہ سندھ میں موجود غریبوں کےلئے ہسپتال تک میسر نہیںاور بھوک اور کمزوری کے باعث بغیر کسی علاج کے ہزاروں بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں،ہزاروں مال مویشی تک اس زمین پر پڑے پڑے ہڈیوں کا بنجر بن چکے ہیں ،یہاں کے درجنوں علاقے آفت زدہ علاقوں میں بدل چکے ہیں ،ہزاروں کسان اب اپنی زمینوں پر اناج کی بجائے بھوک اگارہے ہیں ،سندھ میں بھٹو کو زندہ رکھنے کےلئے غریبوں کا کھانا یہاں پر قابض جماعت ڈکار رہی ہے ۔ خان صاحب‘ ایک بار خود آپ نے 13 مارچ2014کو کہا تھا کہ سندھ حکومت ناچ گانے میں مصروف ہے اور تھرپارکر میں قحط زدہ لوگ اور بچے بھوک سے مررہے ہیں۔اب آپ کوکیا بتاﺅں اور کیا نہ بتاﺅ ں، آپ تو پہلے ہی سب کچھ جانتے ہیں مگر خان صاحب ایک ایسی ببتا بھی ہے جسے میں جانتاہوں وہ میں اب بتانے جارہاہوں میں خود سوزی کرنےوالے میر حسن کے بچوں اور سندھ کے غریبوں کی آنکھوں میں ایک ایسے شعلے دیکھ رہا ہوں جو کسی اور کےلئے نہیں بلکہ سندھ پر کئی عشروں سے قابض حکمرانوں کے لیے ہےں۔ سندھ کے غریب لوگوں کی برادشت کی قوت اور سکت اب جواب دیتی جارہی ہے بس انہیں کسی ایسے رہنما اور لیڈر کی ضرورت ہے جو ان کی رہنمائی کرسکے ور ان کو ان حکمرانوں سے نجات دلاسکے۔
آئیں خان صاحب ‘اس سے قبل کے کوئی اور میر حسن گرم کپڑوں اور کھلونوں کی فرمائش پر خودسوزی کربیٹھے ۔ خان صاحب ان چند سالوں میں سندھ بھر میں ایک ہزار سے زائد غریب لوگوں نے اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا گلہ گھونٹا ہے۔ سندھ میں غربت اور بےروزگاری کی وجہ سے خودکشیوں میں اضافہ معمول سا بن چکاہے پتہ نہیں کتنے ہی میر حسن اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔اس سے پہلے کوئی اور غریب آدمی یہ سوچ کر خودکشی کرلے کہ میر حسن کے مرنے کے بعد سندھ حکومت نے توکچھ نہیں دیا مگر گورنر سندھ اور وفاقی حکومت نے مالی تعاون بھی کیا اور ایک گھر بھی خرید کردیدیا ہے اور اگر ایسا میں بھی کرلوں تو میرے بچوں کا بھی بھلا ہوسکتاہے۔ خان صاحب اس سے پہلے کے یہ سلسلہ چل نکلے آپ آگے بڑھیں اور ان سفاک حکمرانوں سے سندھ کے غریب لوگوں کو نجات دلادیں تاکہ آئندہ کوئی اور میر حسن بچوں کی فرمائش سے تنگ کر خودکشی نہ کرلے کیونکہ مالی تعاون کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو معصوم بچوں کے باپ کا متبادل نہیں ہوسکتا ۔
(کالم نگار سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈرہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved