تازہ تر ین

ایران امریکہ تنازع

سجادترین

تین جنوری کو بغداد ائیرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے واقعہ کے بعد میری ملاقات بین الااقوامی امور پر بالعموم اورمشرق وسطی پر بالخصوص گہری نظر رکھنے والی شخصیت و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل علامہ آغا سید افتخارحسین نقوی سے ہوئی ۔ اس ملاقات میں دوران گفتگوعلامہ آغا سید افتخار حسین نقوی کا ماننا تھا کہ جنرل قاسم کی شہادت دراصل امریکہ کی جانب سے ریاست ایران کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی نہ صرف امت مسلمہ کی بقاکی جنگ لڑ رہے تھے اور وہ شہادت کی تمنا بھی رکھتے تھے جس کا اظہار وہ نہ صرف نجی محفلوں بلکہ برملا بھی کیا کرتے تھے۔علامہ صاحب نے پیشگوئی کی کہ آنے والے دنوں ہفتوں اور مہینوں میں مشرق وسطی کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں ۔ ایران خطے میں جب امریکی مفادات اور فوجی اڈوں پر حملہ کرے گا توامریکہ جواب نہیں دے سکے گا۔علامہ سید افتخار حسین نقوی نے اپنے تجربے اور تجزےے کی بنیاد پر آنےوالے دنوں کا جو نقشہ کھینچا وہ من وعن سچ ثابت ہوا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ علامہ صاحب کی بصارت اور بصیرت خاص طور پر مشرق وسطی کے معاملے میں قابل رشک ہے، انہوں نے معلومات کی بنیاد پر مستقبل کے بارے جو کچھ کہا وہ درست نکلا، چلتے چلتے مجھے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کو زمان و مکان کی قید سے ماورا ہو کر یاد رکھا جائے گا۔

حیات اور موت کارشتہ ابدی ہے اور ہم سب جوزندہ ہیں ہرلمحہ موت ہی کی طرف سفر کررہے ہیں۔ البتہ اس سفر کی نوعیت کا فیصلہ کرنا ہمارے اختیار میں ہے اور یہ بھی کہ ہم اپنا سفر حیات بخش قوتوں کے ساتھ طے کریں یا موت کی قوتوں کے سائے میں۔ جینے کے بس دوہی طریقے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی جب تک زندہ رہے زمین کا بوجھ بنارہے اور لوگ اس سے پناہ مانگتے رہیں حتی کہ اس کا جنازہ بھی وبال دوش ہو۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان جب تک زندہ رہے دوسروں کی زندگی کا سہارا بنارہے اوردوسرں کے تحفظ کےلئے مرتے وقت نہ اپنی ذات سے نادم ہو اور نہ دنیا والوں سے شرمندہ ہو۔ جنرل قاسم سلیمانی ساری زندگی مظلوموں کے ساتھ مل کر جدوجہد کرتے رہے اور سامراج سے لڑتے ہوئے شہادت قبول کی ۔ یوں لگتا ہے کہ امریکی صدر کو اب جاکر احساس ہوا ہے کہ اس نے کیسی آفت کو دعوت دی ہے ۔بغداد ائرپورٹ پر نہ صرف مشرق وسطی بلکہ عالمی سطح پر انتہائی شہرت رکھنے والی شخصیت جرنیل قاسم سلیمانی پرحملہ کے بعد ٹرمپ جب ٹی وی پر نمودار ہوا تو باڈی لینگوئج سے صاف صاف واضح تھا کہ وہ شدید نروس اور خوف میں مبتلا ہے ۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی اندرونی گھبراہٹ چھپائے چھپ نہیں رہی تھی ،رہی سہی کسر اس کے بعد مائیک پومپیو کے دن رات مشرق سے مغرب تک گھومنے والی فون کالز نے پوری کردی اور آخر کا امریکی تجزیہ کاروں سے بات سیاست دانوں تک پہنچی جو کہتے ہیں کہ شدید ردعمل کا ڈر ہے خطے میں نہ ختم ہونے والی آگ بھڑگنے جارہی ہے خدارا اسے روکو۔

سوشل میڈیا تو اپنی جگہ لیکن مین اسٹریم میڈیا بھی تیسری عالمی جنگ کو ایک یقینی امر قرار دے رہا ہے ۔بات یہ نہیں کہ ہے امریکی اب جنرل قاسم سلیمانی کی جانب متوجہ ہواتھا بلکہ جارج ڈبلیو بش سے لیکر اوباما تک کےلئے ایران کی القدس بریگیڈ کے مایہ ناز کمانڈر قاسم سلیمانی توجہ طلب مسئلہ رہا ہے ۔ گذشتہ دوصدورنے یہ جرا_¿ت نہیں کہ وہ قاسم سلیمانی پر قاتلانہ کارروائی کریں کیونکہ ان کے خیال میں اس کا انجام انتہائی بھیانک شکل میں نکل سکتا تھا ۔ جنرل قاسم سلیمانی کی طلسماتی شخصیت اپنی جگہ لیکن وہ ایک ایسی بریگیڈ کے کمانڈر سمجھے جاتے تھے جن سے خطے کی مزاحمتی قوتیں خاص کر فلسطینی تحریک مزاحمت وابستہ ہیں ۔ فارن پالیسی میں پچھلے سال ریٹائرڈ امریکی جنرل اسٹینلے میک کریسٹل کی یہ بات چھپی تھی کہ 2007ءمیں جس وقت قاسم سلیمانی عراق کے شمالی حصوں کی جانب سفر کررہے تھے تو امریکی نشانے پر ہونے کے باوجود صرف اس کے سخت نتائج کی سوچ کے سبب کسی قسم کی کاروائی سے گریز کیا گیا۔ سابق ڈیموکریٹک کانگریس خاتون ممبر ایلیسا سلوٹین ، جو پہلے (بش اور اوباما انتظامیہ میں)سی آئی اے تجزیہ کار بھی رہی ہے‘ کا کہنا ہے کہ ہم خطے میں قاسم سلیمانی کو مانیٹر کررہے ہوتے تھے لیکن اوباما دور ہو یا بش کا دور ہمیں بس یہ سادہ سا سوال کسی انتہائی اقدام سے روک رہا ہوتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟کیا خطے میں ہم کسی طویل تنازعہ میں تو نہیں پھنس جائینگے ؟اگر ایسا ہوا تو امریکہ ایک ایسی مصیبت میں پھنس جائے گا جہاں سے نکلنا مشکل ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی مفادات کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے میں امریکیوں کو کوئی زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑی کیونکہ وہ ہمیشہ ببانگ دہل عام طیاروں میں اپنے پاسپورٹ کے ہمراہ سفر کیا کرتے تھے اور جس وقت انہیں نشانہ بنایا گیا اس وقت بھی وہ اپنے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے ساتھ عراقی حکومت کی دعوت پر ایران اور سعودی عرب میں تلخیاں ختم کرانے کے مشن پر بغداد ائرپورٹ پر اترے تھے ۔ اس لئے اسے امریکی کمال نہیں کہا جاسکتا ، لیکن ان کے قتل کے فیصلے کی جرا_¿ت کے بارے کہا جاسکتا ہے کہ یہ جرا_¿ت سے زیادہ احمقانہ اور انتہائی ناسمجھی کا فیصلہ تھا ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک تین پیغامات ایران موصول کرچکا ہے جس میں اس بات پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مزید کشیدگی نہیں چاہتے ،جوابی کاروائی کا حجم زیادہ نہیں ہونا چاہیے وغیر ہ ۔ لیکن کیا ایران اور عراق کا ردعمل کسی حجم تک محدود ہوگا ؟یقینا وہ چاہےں گے کہ ایک ایسا جواب دیا جائے جو جنرل قاسم سلیمانی اور کمانڈر ابومہدی مہندس جیسی شخصیات کا دکھ کم ہو اور ٹرمپ و نیتن یاہوکی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے جو شائد موجودہ صورتحال سے اپنے اندرونی مسائل کے حل کی امید بھی رکھتے ہونگے ۔ بظاہرخطے میں ایران اور عراقی فورسز کے سامنے آپشنز کی کمی نہیں، درجنوں آپشنز موجود ہیں لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ اہداف کی جنگ میں وہ کونسی جوابی کاروائی ہوسکتی ہے کہ جس کے نتیجے میں امریکیوں کو نہ صرف عراق بلکہ کم ازکم شام افغانستان سے بھی نکلنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے ۔

پوچھنے والے تو یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا مشرق وسطی میں اب امریکی سکون سے رہ پائیں گے ؟ کیا یہ کسی عالمی جنگ کاطبل ہوسکتا ہے ؟اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل2 رکن ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی دینے اور طاقت کے استعمال سے روکتا ہے جبکہ آرٹیکل 57 کے مطابق سلامتی کونسل کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال ہرگز نہیں کیا جاسکتا جبکہ حملے کی صورت میں متاثرہ فریق جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ امریکہ نے تین جنوری کو بغداد حملے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو روند ڈالا ہے، قاسم سلیمانی کو قتل کرکے امریکہ نے ایک ایسی مثال قائم کردی ہے کہ کوئی بھی طاقت ور ریاست کسی دوسرے ملک کے حاضر سروس جنرل کو کسی اور مہمان ملک میں ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے قتل کر سکتی ہے یا قتل کراسکتی ہے، اس مثال کو یوں سمجھیں کہ اگر امریکی ڈیفنس سیکریٹری ، اسرائیل کے دورے پر ہوں اور ایران ڈرون کے ذریعے امریکی ڈیفنس سیکریٹری کو مار دے تو کیا ہوگا؟ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بارہا اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ہندوستان امریکہ سے یہ ٹیکنالوجی خریدنے کی شدید خواہش رکھتا ہے۔

امریکہ، عراق میں2003ءسے موجود ہے اور لگتا یوں ہے کہ اس کی روانگی کا وقت آگیا ہے کیونکہ عراق سے پیشگی اجازت کے بغیر یہ حملہ کیا گیا جس میں قاسم سلیمانی کے علاوہ ابومہدی المہندس بھی مارے گئے ہیں جو عراقی ہیں۔ عراقی وزیراعظم اور عوام نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور عراق سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ بھی عراقی عوام کی جانب سے سامنے آیاہے ۔میری نظر میں 1945 ءمیں جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد معلوم تاریخ میں یہ امریکہ کا سب سے بڑا جنگی جرم ہے جس میں ایک ملک کے حاضر سروس جنرل کو دوسرے ملک کی سرزمین پر قتل کردیا گیا۔ آپ کو یاد ہوگا کی جنگ عظیم اول بھی اسی طرح شروع ہوئی تھی کہ 28 جون 1914 ءکو آسٹریا کے شہزادے آرک ڈیوک فرڈی ننڈ کو بوسنیا میں قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد پوری دنیا جنگ کی ہولناکی کی لپیٹ میں آگئی تھی ۔ جنرل قاسم سلیمانی کو مالک اشتر ثانی کہتے ہیں جو لوگ کربلا جاتے ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ وہ سرخ پرچم اورسیاہ پرچم کی ایک روایت ہے ۔سیاہ پرچم ماتم سوگواریت کی نشاندہی کرتاہے اور سرخ پرچم انتقام کی علامت ہوتا ہے۔ ایک متبرک مقام پر سرخ پرچم کالہرایا جانا معنی رکھتا ہے۔

(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved