تازہ تر ین

عدالتی انتشار کی درستگی

جاوید کاہلوں

ایک تدبیر انسان کرتا ہے اور ایک تدبیر اللہ تعالیٰ بھی کرتا ہے، یقینا بہترین تدبیر ساز اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہوتی ہے۔ قرآن حکیم کی آیت مبارکہ کے اس مفہوم کو ہم آئے دن روئے زمین کے چھوٹے بڑے گوشوں اور انسانی حرکات کے مختلف زاویوں پر رونما ہوتے دیکھتے رہتے ہیں۔ پچھلے محترم چیف جسٹس صاحب نے جب ایک ریکارڈ ہوتی تقریب کی تقریر کے دوران اپنا مدعا بیان کرتے وقت سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی بابت کچھ کہنا چاہا تو ان کا نام لینے کی بجائے اپنے دونوں بازو بلند کرکے انکا ذکر کیا۔ ہمیں یقین ہے کہ ایسا کچھ کرنے کا نہ تو انہوں نے پہلے سے سوچ رکھا ہوگا اور نہ ہی اسکی کوئی ریہرسل وغیرہ کی ہوگی، بس بہتی رو میں وہ جنرل صاحب کا نام کچھ سیکنڈز کیلئے ایسا بھول گئے کہ انہیں سمجھانے کےلئے ان کی ایک معروف حرکت کا سہارا لینا پڑگیا۔ جج صاحب کا یہ ایکشن دفعتاً اتنا مقبول ہوگیا کہ اسے بار بار ٹی وی سکرینوں پر چلایاگیا، ساری قوم (جوکہ کروڑوں میں ہے) کو کچھ شک باقی نہ رہا کہ جج صاحب کا اشارہ پرویز مشرف کی طرف تھا۔ بلکہ اسکے ساتھ ہی قوم ایک مزید شک میں مبتلا ہوگئی کہ آرٹیکل نمبر 6کیلئے نوازشریف کی تشکیل دی گئی خصوصی عدالت سے کوئی بڑافیصلہ برآمد ہونے کو ہے۔ حالانکہ نوازشریف کی معزولی ، سنائی گئی سزا اور جیل سے ضمانت پر رہائی اور بیرون ملک روانگی کے بعد قوم کی نظروں سے تو یہ خصوصی عدالت تقریبا ًمکمل محو ہوچکی تھی۔ جب جسٹس کھوسہ نے دفعتاً اپنی تقریر میں یہ بات کی تو سب سوچنے اور جاگنے والوں کا اس پر ماتھا ٹھنکا کہ کچھ انہونی ہونے کو ہے۔مگر یہی سوچنے اور جاگنے والے یہ بھی کہتے تھے کہ یہ انہونی کیسے ہوسکتی ہے جبکہ بڑا ملزم (پرویز مشرف) عدالت کے روبرو حاضر ہی نہیں اور یوں اسکی کارروائی بھی آگے نہیں بڑھ پارہی۔ اور یہ بھی کہ کسی بھی آنیوالے عدالتی فیصلے سے آگاہی اور وہ بھی قبل از وقت ، ملک کے چیف جسٹس کو یا کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو کس ضابطے کے تحت ہوسکتی ہے؟ مگر وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جارہاتھا۔ کھوسہ صاحب کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے کچھ گھنٹے قبل خصوصی ٹربیونل نے پرویز مشرف کو اس انداز اور طریقے کی سزائے موت سنادی کہ ساری دنیا اور بالخصوص قانون و انصاف دینے والے اداروں کی گھنٹیاں کھڑک گئیں۔ فیصلہ سنانے کے کچھ ہی سیکنڈز کے بعد دنیا بھر کی ٹی وی اور دیگر میڈیائی سکرینوں پر اس فیصلے کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ تفصیلی فیصلے میں کچھ ایسے احکامات بھی تحریر کیے گئے تھے کہ ان کو دیکھ اور پڑھ کر ساری مہذب دنیا چکراکررہ گئی ہوگی۔ یعنی کہ ایک سنسنی خیزی تھی جوکہ انتہائی تعجیل میں سنادی گئی تھی اور اسکے بعد وہی ہوا جوکہ ہونا چاہیے تھا۔اس فیصلے ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہاں کے عدالتی نظام پر چہار سو تبصرے اور تنقید ہوئی، اور ایسا کچھ فقط اندورن خانہ ہی نہیں بلکہ بیرون خانہ بھی ہوا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ اس فیصلے میں مجرم کے حقِ اپیل پر کوئی قدغن تحریر نہیں تھی۔وگرنہ پیرا 64کے بعد 65 ،66،67اور علیٰ ھذاالقیاس آگے بھی تو کافی کچھ ہوسکتا تھا۔ حقِ اپیل پر وقت چونکہ محدود ہوتا ہے ،سو مجرم پرویز مشرف نے قانون کے مطابق مختلف عدالتی فورمز پر اس فیصلے کو چیلنج کردیا۔

17دسمبر کو سنائے گئے اس فیصلے پر لاہور ہائیکورٹ کے ایک فل بنچ نے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں 13جنوری کو اس اپیل میں اٹھائے گئے نقاط پر اپنا فیصلہ سنادیاہے۔ عدالت عالیہ نے آرٹیکل 6کیلئے تشکیل دی گئی اس خصوصی عدالت کوہی غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیدیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب عدالت غیر قانونی ٹھہری تو اس میں کی گئی تمام کارروائی بھی غیر قانونی ہوگئی،یعنی کہ جنرل پرویز مشرف پر لگاغداری کا دھبہ بھی دھل گیا اور اسکی سزائے موت بھی ختم ہوگئی ۔ آنیوالے چند دنوں میں اس فیصلے پر بھی بحث و مباحثہ ہوگا اور ہم اپنی ٹی وی سکرینوں پر بھانت بھانت کے قانونی و آئینی ماہرین کی اس فیصلے پر بولیاں سنیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ فل بنچ کے اس فیصلے کےخلاف بھی اپیل دائر ہو جائے جس سے کہ اس قانونی قضیئے کے مزید بخیئے بھی ادھیڑے جائیں۔ یہ ساری باتیں ایک طرف مگر یہ طے ہے کہ ہماری عدالتیں نظریہ ضرورت گھڑتے گھڑتے حالیہ صدی میں اب اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ اب وہ بلا خوف و خطر فیصلے سنارہی ہیں۔ پاکستانی عوام ایسے فیصلوں کے منفی یا مثبت پہلوو_¿ں پر بحث تو کرسکتے ہیں، مگر یہ روائت اب دم توڑ چکی ہے کہ چند مقامات اور اداروں کو عدالتی سطح پر زیر بحث لانے پر کسی کے اب پرجل سکتے ہیں۔بلکہ اب تو نہ صرف ایک سابق آرمی چیف کو کٹہرے میں کھڑا ہونے پر مجبور ہونا پڑا ہے بلکہ کسی حاضر سروس آرمی چیف کی ملازمت، مدت ملازمت اور تنخواہ و سہولیات وغیرہ کو بھی اوپن کورٹ میں سناجارہاہے۔ اور کوئی مانے یا نہ مانے ، پاکستان کی ابتدائے آفرینش سے ہی سہمی ہوئی جمہوریت کیلئے یہ ایک بڑی خبر ہے۔ ویسے بھی جمہوری نظام کسی معاشرے میں رفتہ رفتہ ہی اپنے پاو_¿ں جماتا ہے، اب جبکہ ہماری چوتھی بار منتخب اسمبلیاں اپنی آئینی عرصہ پورا کرنے کو ہیں، تو ہماری عدالتوں کا ایسا ”ایکٹو ازم “ یقینا جمہوری روائتوں کو مزید آگے بڑھانے میں مددگار ہوگا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ”جج خود نہیں بولتے بلکہ ان کے لکھے گئے فیصلے بولتے ہیں“ ۔ اور اب جبکہ ہمارے جج حضرات کے فیصلے بولنے لگ پڑے ہیں تو ہماری عدالتوں کو بھی یہ نقطہ زیر غور رکھنا ہوگا کہ وہ ذاتی جذبات و احساسات سے بہت بلند ہوکر فقط خالص آئین و قانون کے مطابق عدالتیں چلائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل مشرف کیلئے بنائی گئی خصوصی عدالت کا سرعت میں سنایا گیا فیصلہ دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا باعث بنا۔ میرے خیال میں اس سے پاکستان اور اس کی عدالتوں کی نیک نامی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی، مگر وہ تو اچھا ہوا کہ اس کے آگے اپیل کا حق موجود تھا۔ اس حق نے ہی یہاں پر ”سیفٹی والو“ کا کام کیا اور عدالت عالیہ نے 13جنوری کو جنرل مشرف کے کیس کو واپس آئینی ٹریک پر ڈال دیا۔ آنیوالے مہ و سال میں اسی کیس کے مزید قانونی زاویے بھی اوپر کی عدالتوں میں تب وا ہونگے جبکہ ملک بھر کے بہترین قانونی دماغ اس کو عدالت عظمیٰ میں زیر بحث لائیں گے۔اس سے ہماری عدالتیں اور ان کے فیصلوں کی نظیروں میں مزید نکھار آجائیگا، جس سے کہ ملکی جمہوریت اور ہمارا نظام اور بھی مضبوط ہوجائے گا۔ کیا یہی عدالتی اوامر، اس بات کے غماز نہیں کہ ملکی ادارے آئین و قانون کے اندر رہ کر ترقی و بہتری اور قانون سازی کی ایسی روایات کی طرح ڈالیں گے کہ جس سے وطن عزیز اقوام عالم میں اپنا ممتاز مقام جلد ہی متعین کر جائے گا۔

(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved