تازہ تر ین

”نور جہاں ، دلیپ اور دوسرے فلمی ستارے“

ملک کے معروف صحافی، ادیب اور اخباری صنعت کے بے تاج بادشاہ محترم المقام ضیا شاہد صاحب کی ناقابل فراموش شاہکار کتاب بعنوان ”نور جہاں، دلیپ اور دیگر فلمی ستارے“ میں پاکستان کی نامور فلمی شخصیات اور اپنے وقت کے حسین اداکاروں کی نجی اور فلمی زندگی پر نہایت خوبصورت انداز میں قلم آرائی کی گئی ہے۔اس نابغہ روزگار تصنیف پر مجھ جیسے ناتجربہ کار اور کم ماہر انسان کی قلم آرائی کرنا سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے۔ نور جہاں کے علاوہ المیہ اداکاری کے شہنشاہ دلیپ کمار کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے کو ملا۔ میرے گہرے مرحوم دوست شوکت اللہ مرحوم جو کسی زمانے میں روزنامہ جنگ کراچی کے سے وابستہ تھے ،ان کی تحریریں بعنون ’ پیامبر‘ دلیپ کمار کی زندگی کا احاطہ کرتی ہےں۔ دلیپ کمار ایک بین الاقوامی سطح کے اداکار ہی نہیں ایک فلاسفر زیرک نقاد اجرام فلکی سے لےکر کرہ ارض کی سائنسی معلومات سے بہرہ ور ہیں۔ وہ اس وقت تقریباًسو سال کی عمر میں مختلف بیماریوں سے نبردآزما ممبئی میں بالکل خاموشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
محترم ضیا شاہد صاحب نے اپنی تصنیف میں مختلف چوٹی کے اداکاروں کے بارے میں جو مواد اکٹھا کیا ہے وہ قارئین کیلئے معلومات کا ایک خزانہ ہے۔
پاکستانی فلموں کی ورسٹائل اداکارہ اور اپنے وقت کی حسین ترین فلم ایکٹریس صبیحہ خانم کی فلمی زندگی سے لے کر اس کی نجی زندگی پر جس طرح آپ کا مشاہدہ رہا ہے اس میں تھوڑا بہت میرا بھی حصہ ہے۔ صبیحہ خانم کے بارے میں آپ نے جس طرح قلم آرائی کی ہے وہ نہایت متاثر کن ہے۔ فلمی صنعت میں پردہ نشین سپرسٹار اپنی عفت وعصمت کی کس حد تک حفاظت کرتی ہیں۔اس سلسلے میںدو واقعات احاطہ¿ تحریر میں لاتا ہوں۔ پہلا صبیحہ خانم کا اور دوسرا مسرت نذیر اور درپن کا۔ صبیحہ خانم جن دنوں اپنی خوبصورتی اور شباب میں بھرپور تھیں۔یہ غالباً1960ءکی بات ہے، ملتان کے ایک بہت بڑے زمیندار جن کے آموں کے باغات کی آمدنی اس وقت لاکھوں سے زیادہ تھی۔ موصوف نہایت خوبصورت عورتوں کے دلدادہ تھے، ان کی ساری زندگی شراب وشباب کی عیاشی میں گزری۔ میں اس وقت ایمرسن کالج ملتان میں زیرتعلیم تھا اور فلمیں دیکھنے کا بہت شوقین بھی تھا۔ خاص طور پر دلیپ کمار کی فلمیں زیادہ دیکھا کرتا تھا۔’ آن‘ میں نے سات بار اور ’داغ‘ کوئی پانچ چھ بار دیکھی۔ صرف ایک سین کیلئے جس میں جب دلیپ کمار کی ماں مر جاتی ہے وہ پلنگ کے پاس بیٹھا کہہ رہا ہوتا ہے ’میری ماں مر گئی‘۔دلیپ کمار کے منہ سے لفظ ماں کی ادائیگی میں اس قدر سحر آفرینی تھی جسے اپنی اسی سالہ زندگی یاد کر کے محظوظ ہوتا ہوں۔ صبیحہ خانم کو دیوان صاحب بہت پسند کرتے تھے اور اس کی خوبصورتی پر مر مٹے تھے۔ انہوں نے اس پر اپنی تجوری کے منہ کھول دیے تھے۔ اور رہی بات درپن اورمسرت نذیر کی، فلم سٹار درپن نے غالباً مسرت نذیر کے ساتھ زیادہ فلموں میں کام نہیں کیا۔ ایک فلم جس کا نام میرے ذہن میں نہیں آ رہا ہے اس کی شوٹنگ ایک بیرون خوبصورت مقام پر تھی، ابھی کچھ شوٹنگ باقی تھی کہ مسرت نذیر اور درپن کہیں غائب ہوگئے، ڈائریکٹر کو فکر ہوئی وقت کافی گذر گیا مگر وہ دونوں نہیں آئے۔ کچھ دیر گذر جانے کے بعد دونوں آگئے۔ اداکارہ کے میک اپ شدہ چہرے پر کچھ نشان نمایاں تھے جو اس بات کی غمازی کرتے تھے کہ شاید دونوں کچھ دیر بوس و کنار کرتے رہے ہیں ۔
محترم ضیا شاہد صاحب ‘ فلمسٹار حبیب کے بارے میں اپنے دلی جذبات محبت و ملنساری پر بہت کچھ کہہ گئے ہیں، یہ ان سے ان کی محبت، لگاﺅ اور الفت کا معاملہ ہے ۔ کوئی کسی کے جس حد تک قریب ہوتا ہے اتنے ہی اس کے جذبات لفظوں کے موتی بکھیرتے دکھائی دیتے ہیں۔
فلمسٹار حبیب میرے شہر ملتان کے بوہڑ گیٹ کی ایک گلی میں رہتے تھے۔ ان کا ایک چھوٹا بھائی صہیب بھی تھا جس کی شکل اپنے بھائی سے بہت ملتی جلتی تھی ۔ اداکار حبیب نے ابھی فلم ’زہر عشق ‘ میں کام نہیں کیا تھا۔ وہ اکثر بوہڑ گیٹ کے باہر کھڑے دکھائی دیتے تھے۔ جن دنوں فلم ’زہر عشق‘ ریلیز ہوئی میں نے یہ فلم ایک گانے کی خاطر کئی بار دیکھی۔ وہ گانا تھا جس میں مسرت نذیر حبیب سے ناجانے کی منتیں کرتی ہے، بہت سحر کن گانا تھا۔ بول یاد نہیں آرہے ۔مسرت نذیر اس فلم میں اپنی اداکاری کے ساتھ نہایت عروج پر تھی۔ میرے خیال میں ”زہر عشق“ میں اگر حبیب کی جگہ کوئی اور اداکار ہوتا تو یہ سپرہٹ فلم ہوتی ۔ کالم چونکہ طوالت پکڑتا جارہا ہے ورنہ میں علاﺅالدین ، زیبا، محمد علی، زیبا کی والدہ اور بیٹی ثمینہ ، انجمن گوری ، غلام عباس، دلجیت مرزا اور بہت سے اداکار اور اداکارائیں جن کا تعلق ملتان سے رہا ہے ان کی زندگی کے چھپے گوشوں پر قلم آرائی کرتا۔بس اس پر اکتفا کرتا ہوں ۔
محترم ضیا شاہد صاحب‘ اس وقت اخباری صنعت کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ بے تاج بادشاہ کا لقب پاکستان میں چند شخصیات پرہی صادق آتا ہے۔ان میں ایک ملتان کی روحانی شخصیت حضرت پیر طریقت مولانا حامد علی خان جنہیں بہاولپور کی جیل سے رہا کیا گیا تو استقبال کیلئے ٹھاٹھیں مارتا انسانوں کا سمندر دیکھ کر بی بی سی لندن کی نشریات میں بے تاج بادشاہ کے لقب سے خبر نشر کی گئی۔ دوسرے فلمی صنعت کا جذباتی ہیرو محمد علی، ورسٹائل اداکاری کا شہنشاہ تھا۔ تیسرے اشتہارات کمپنی کے بے تاج بادشاہ جناب مرحوم ایس ایچ ہاشمی صاحب۔میں ان کے بہت زیادہ قریب رہا ہوں۔
ضیا شاہد صاحب میں ایک چھوٹا اور ادنیٰ سا انسان ہوں۔24دسمبر کو لاہور میں آپ سے ملاقات میری زندگی کا سرمایہ ہے اور اس ملاقات کے دوران جس محبت سے آپ نے اپنی شاہکار کتاب ” نور جہاں ،دلیپ اور دوسرے فلمی ستارے“ اس ناچیز کو عطا کی۔ یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ورنہ میں خالی ہاتھ بھی آپ کے دفتر سے لوٹ آسکتا تھا۔آپ کی محبتوں کا شکریہ۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved