تازہ تر ین

تذکرہ دوطلبہ تنظیموں کا

قیام پاکستان کے بعد بہت سی طلبہ تنظیمیں وجود میں آئیں ان میں کچھ تو فکر ی طور پر اسلام کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اظہارکرتی تھیں اور کچھ بائیں بازو کے نظریات کی پرچارک تھیں۔ ایک کالم میں پوری طلبہ تحریک کوتو ہرگزقلمبند نہیں کیا جا سکتا،ہم مختصر طور پر دو طلبہ تنظیموں انجمن طلبہ اسلام اور مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا ذکر کرنا چاہیں گے۔ان تنظیموں کی بنیاد ماہِ جنوری میں رکھی گئی۔مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد 11جنوری2002ءکو دینی مدارس اور یونیورسٹیزکے طلبہ قمر الزمان چودھری (مرحوم)،عمیر اقبال اور ان کے رفقانے رکھی جو محض 19برس میں ایک ملک گیر اور پر امن طلبہ تنظیم بن چکی ہے ۔ شاندار ماضی کی حامل ایک اور طلبہ تنظیم” انجمن طلبہ اسلام “ کا قیام 20جنوری1968ءکو عمل مےںآیا۔
20جنوری1968ءکوقائم ہونے والی طلبہ تنظیم انجمن طلبہ اسلام ( اے ٹی آئی) کے نام سے تقریبا ً ہرپڑھا لکھا شہری آگاہ ہے ۔یہ جماعت بھی دینی اقدار اورمشرقی تہذیب و ثقافت کی محافظ ہے۔شاندار ماضی کی حامل اے ٹی آئی کو قدآور شخصیات بھرپور طورپرخراج تحسین پیش کر چکی ہیں۔ایئر مارشل اصغر خان نے کہاتھا: ”اے ٹی آئی نے باہمی اتحاد اور ملکی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا“۔محمد حنیف رامے نے کہا: ”اے ٹی آئی نے پاکستان میں کلاشنکوف مردہ باد اور قلم زندہ باد کا نعرہ لگاکرایک نئی اور صحت مند روایت کی بنیاد رکھی“۔مولانا مودودی نے کہا : ”انجمن نے دیگر طلبہ تنظیموں کے لیے ایک اچھی مثال قائم کی“۔نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہا: ”انجمن کی قومی یکجہتی کے لیے جدوجہد لائق تحسین ہے“۔مولانا شاہ احمد نورانی نے کہا ”اے ٹی آئی مسلمانان پاکستان کے لیے باعث رحمت وبرکت ہے“۔مجاہد ملت مولانا عبد الستار خان نیازی نے کہا: ”انجمن نے تعلیمی اداروں میں عشق مصطفی کا چراغ جلایا“۔ ممتاز قانون دان اےس اےم ظفرنے کہاتھا : ”اے ٹی آئی شخصی کرشمے کے ارد گرد نہےں چلتی بلکہ اپنے مقاصد کی بناءپرہمیشہ فعال رہتی ہے“۔ انجمن کی موجود ہ قیادت اور کارکنوں نے راقم کو بتایا کہ انجمن طلبہ اسلام آج بھی تعلیمی پالیسی کو اسلامی اقدار،نظریہ پاکستان اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لئے کوشاں ہے۔اے ٹی آئی روحانی اور مصطفائی انقلاب کے لیے کوشاں ہے۔یہ چاہتی ہے کہ ہر طالب علم کو کم از کم اس قدر معلومات ہوں کہ وہ اسلام کونامکمل دین ، تشدد پسند اور د قیانوسی مذہب کہنے والوںکی غلط فہمیاں دور کر سکے۔ خامیوں ، غلطیوں اور کوتاہیوں سے تو کوئی بھی چیز مبرا نہیں ہوتی۔ اے ٹی آئی میں ضرور کچھ خامیاں بھی ہوں گے لیکن اس کا ماضی اپنے اندر بہت سی کامیابیوں کو بھی سموئے ہوئے ہے۔ اس کے پلیٹ فارم سے بہت سی قد آور سیاسی ،سماجی شخصیات اور بیوروکریٹس نے جنم لیا ۔ آج کل مرکزی سیکرٹری جنرل محمد اکرم رضوی اورا ن کے رفقاءاس تنظیم کوسنبھالے ہوئے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ یہ اپنی توانائیاں مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں صرف کررہے ہیں۔
اب ذکر ہوجائے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا۔ چند روز پیشتر مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اپنا 19واں یوم تاسیس بھرپور انداز سے منایا ۔ اس سلسلے میں ایک اہم پروگرام لاہور پریس کلب میں ہواجس میں تنظیم کے مرکزی راہنما رانا محمد ذیشان ،سردار مظہر،ملک مظہر ایڈووکیٹ ، نوید چودھری اوردیگر دانشوروں و صحافیوںنے گفتگو کی۔پروگرام میں تمام نمائندہ طلبہ تنظیموں کو مدعو کیا گیا تھا۔تنظیم کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ یہ گزشتہ دو عشروں میں کسی بھی منفی سرگرمی میں ملوث نہیں پائی گئی ۔ اس کے کارکنوںکو صرف اور صرف ”علم “اور”امن“کا سبق سکھایا جاتاہے ۔اس موقع پر راقم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: ”مجھے یہ دیکھ کر بے حد مسرت ہوتی ہے کہ ایم ایس او کے نوجوان علم ، شعور اور آگہی کی دولت سے مالامال ہیں ۔ یہ لوگ اس دھرتی کا قیمتی سرمایہ ہیں جو اپنی توانائیاں ملک اور قوم کی بہتری کے لیے صرف کررہے ہیں۔ جہاں تک نظام تعلیم کی بات ہے تو اس حوالے سے نصاب کی تدوین کاری ،تعلیمی مسائل، طبقاتی نظام تعلیم اور تعلیمی اداروں کی صورتحال پر تفصیلی بات کی جاسکتی ہے لیکن آج کی مجلس میں مَیں مختصر طور پر تعلیم ،امن اور کردار سازی کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا۔ کوئی بھی باشعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔یہ تعلیم ہی ہے جو ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی سمت لے جاتی ہے ۔ تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے لیکن تعلیم حاصل کرنے کا مطلب محض رسمی تعلیم کے ذریعے ڈگری لینا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تربیت ، تمیز، اور تہذیب سیکھنا بھی ہے تاکہ انسان اپنی مذہبی و معاشرتی روایات اورا قد ار کا خیال رکھ سکے۔ ہمارے ہاں نہ توجدید تعلیمی اداروں کی کمی ہے اور نہ ہی تعمیر و ترقی کی ،اگر کسی چیز کافقدان ہے تو وہ اخلاقیات ، احساس ذمہ داری اور کردار سازی کا ہے ۔ دیکھیے کہ حال ہی میں سانحہ پی آئی سی رونما ہوا۔کس قد ر بدقسمتی کی بات ہے کہ اس سانحہ میں ملوث لوگ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہی تھے ۔اسی طرح سرکاری و نجی اداروں میں بیٹھے اعلیٰ عہدیداروں کے منفی رویے بتاتے ہیں کہ ان میں کردارسازی کی کس قدر کمی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم اخلاقی تربیت اور کردار سازی کو ترجیح نہیں دیں گے تب تک ایک باشعور،صالح اور پرامن معاشرے کا قیام ممکن نہیں ۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ علم کی دولت گھر گھر تک پہنچانے کے لیے بنیادی چیز ”امن “ہے ۔ اگر امن ہوگا تو اس معاشرے میں علم و آگہی کے چراغ روشن ہوں گے ۔ امن اور علم کے چراغ جلانے کے لئے ہماری بہادر افواج نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ ماضی قریب میں دہشت گردوں نے قبائلی علاقوںمیں سکول جلائے ، تعلیم پر پابندی لگائی، اے پی ایس پشاور میں ڈیڑھ سو کے قریب بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا،اساتذہ اور طالب علموں کو ہراساں کر کے تعلیم کے دروازے بند کرنا چاہے لیکن ہماری بہادرافواج نے قربانیاں دے کر وہاں پر پھر سے تعلیم کی شمعیں روشن کیںاور علم دشمن قوتوںکو شکست دی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جہاں فکر و شعور اور تعلیم کی بات کریں وہیں پر قیام امن کے لیے بھی کردار ادا کریں اور سیکورٹی اداروں کا بھرپور طور پر ساتھ دیتے ہوئے وطن دشمن عناصر کو ناکام بنائیں۔بالخصوص سوشل میڈیا پر منفی رویوں ، مختلف مکاتب فکر اور ملکی تحفظ کے ضامن اداروں کے خلاف متعصبانہ نظریات اور خیالات کو سختی سے رد کر یں اور ایسی کسی سرگرمی کا حصہ مت بنیں جس سے ملک اور قوم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو“۔
ایک ماہ پیشتر طلبہ یونین بحالی کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔ہم ان سطور کی وساطت سے ایک بار پھر صاحبان اقتدار سے گزارش کریں گے کہ طلبہ کو یونین سازی کابنیادی حق دیاجائے ۔ماضی میں جس انداز سے سیاسی جماعتوں نے طلبہ کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا اس سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا لیکن ایسے مسائل پربہرحال قابو پایا جا سکتا ہے ۔ اگر رکشہ ڈرائیوروں، نانبائیوں ، کلرکوں،پراپرٹی ڈیلروں،ڈاکٹروںاور وکلاءکو اپنے حقوق کے لیے یونین سازی کی اجازت دی جا سکتی ہے تو پھر طلبہ کو یونین سازی کاحق دیئے جانے میں کیا امر مانع ہے؟؟؟۔
(کالم نگارسماجی وادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved