تازہ تر ین

جوتے والے بابو جوتا چلا دے

وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی طرف سے ایک ٹی وی شو میں ’بوٹ‘ کو دی گئی برابری اور عزت پر ان کی جماعت اور اپوزیشن سمیت ہرکوئی سیخ پا ہے۔ فیصل واوڈا نے بغیر لگی لپٹی کے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ ہماری جمہورت کا چہرہ اور اوقات بھی یہی ہے۔ فیصل کے ’ بوٹ‘ لانے کے عمل کو نامناسب فعل کہا جا سکتا لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ حرکت غیر شائستہ ہو سکتی ہے لیکن غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی ہر گز نہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایوب خان سے لے کر ضیاءالحق اور پھر مشرف تک پارلیمنٹ نے جتنی عزت ان ’بوٹوں ‘کو دی اگر وہی عزت اس جمہوری نظام اور ان کو منتخب کرنے والی عوام کو دی ہوتی تو آج فیصل واوڈا کو جوتے کی منہ دکھائی نہ کرنا پڑتی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس جمہوریت کو ہمیشہ ’ بوٹوں‘ نے ہی پامال کیا لیکن اپنے سیاسی فائدے کےلئے اس پامالی کو خوش آمدید بھی ہمارے جمہوریت پسندوں نے ہی کیا۔اسی پارلیمنٹ نے ان ’بوٹ‘ پہننے والوں کو عزت دیتے ہوے ان کے غیر آئینی اقدامات کو آئینی ترامیم کے ذریعے جاز قرار دیا۔ کیا ذولفقار رعلی بھٹو ایوب خان کی کابینہ کے رکن نہ تھے۔کیا نواز شریف نے اقتدار کے لیے ضیاءالحق کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ کیا مسلم لیگ ق نے مشرف کو مسیحا نہیں مانا۔ کیا پرویز الٰہی نے جنرل مشرف کو دس بار وردی میں منتخب کروانے کی بات نہیں کی۔کیا مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے فورسز ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پی ٹی آئی سے بھی زیادہ تیزی نہیں دکھائی۔ مسلم لیگ ن نے ساراکریڈٹ اکیلے لینے کے چکر میں اپوزیشن سے مشورے کے بغیر ہی اس بل کی غیر مشروط حمایت اعلان کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔’ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو‘ نہیں چلے گا۔ کیا نواز شریف نے 7 دسمبر کو اپنے آٹھ پیاروں کو لندن میں ایک اجلاس میں اس بل کی غیر مشروط حمایت کا نہیں کہا تھا؟ حکومت تو ترمیم 7جنوری کو لائی لیکن نواز شریف نے اس پر پہلے ہی مہر ثبت کر دی۔ کیا اسحاق ڈار اور شہباز شریف سمیت دس انتہائی معتبر ساتھیوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ان سے اس میٹنگ میں طے کیے گئے معاملات کی رازداری کی خاطر سب سے قرآن پر حلف نہیں لیا گیا تھا؟۔ نواز شریف نے ماضی کی طرح اپنی سہولت کے لیے سودا کر لیا۔ بھاڑ میں گئی کارکنوں اور لیڈران کی قربانیاں۔ مسلم لیگ نواز نے تو حکومت سے پہلے ہی آئینی ترمیم پر گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ پھر سارا ڈرامہ کس لیے۔ حلف والے اجلاس کی چند باتیں سامنے آئی ہیں اس کے ٹکڑے جوڑ رہا ہوں جلد ہی اس پرلکھوں گا۔
فیصل واوڈا نے نواز شریف کی بیماری کوبھی ڈرامہ قرار دیا اور لندن میں ان کی ایک ریسٹورنٹ میں موجودگی پر بھی تنقید کی۔ فیصل صاحب یہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں ۔ اس سارے فسانے کے پیچھے ایک تصویر ہے جس میں نواز شریف ایک ریسٹورنٹ میں خاندان کے افراد کے ہمراہ بیٹھے ہیں۔ مسلم لیگی حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کو کسی بھی پبلک مقام پر جانے کی شدید مخالفت کی تھی کہ اس طرح حکومت کو تنقید کا موقع ملے گا۔ لیکن نواز شریف جانے پر بضد تھے جس کے سامنے سب نے ہتھیار ڈال دیے اور ایک پینڈورا بکس کھل گیا۔ نواز شریف کا موقف یہ تھا کہ وہ bed ridden نہیں ہیں کہ گھر سے باہر نہ جا سکیں۔ مسلم لیگی حلقوں کادعوی ہے کہ نواز شریف کی ہوا خوری کی مشقیں جاری رہیں گی۔ فیصل واوڈا نے تو خود سمیت اپنی سیاسی برادری کو آئینہ دکھایا ہے اور آئینہ محض اصل کا عکس دکھاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اگر فیصل ’ بوٹ‘ کی جگہ’ وردی‘ لے آتے تو شاید اتنی تنقید کا سامنا نہ کرتے۔ گوکہ وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پی ٹی آئی کی طرف سے فیصل واوڈا کی اس حرکت کی مذمت کر دی ہے لیکن پی ٹی آئی کے حلقوں میں فیصل واوڈا کی جے ہو ‘کے نعرے لگ رہے ہیں۔ لیکن کچھ حسد کے مارے ان سمیت دو وزا ءکی کابینہ سے رخصتی کی باتیں کر رہے ہیں ۔
فیصل واوڈا کا براہ راست نشانہ مسلم لیگ نواز تھی لیکن اس پروگرام میں موجود مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کے نمایندوں کی طرف سے بائیکاٹ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ چلے مسلم لیگ کی حد تک تو سمجھ آ تا ہے لیکن قمر الزماں کائرہ کا میدان چھوڑنا سمجھ سے بالا تر تھا۔کیا کوئی یہ حقیقت جھٹلا سکتا ہے کہ مسلم لیگ نواز کا تو جنم ہی آمریت کی کوکھ سے ہوا تھا، وہیں اسے سینچا اور پروان چڑھایا گیا۔ اگر فیصل واوڈا نے انہیں اپنی جنم بھومی یاد دلائی ہے تو کیا برائی کی۔ حاشیہ آرائی کے لیے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ریٹنگ بڑھانے کے لیے یہ پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا اور دلیل یہ دی جا رہی کہ اتنا بڑا جوتا سٹوڈیو میں میزبان کی مرضی کے بغیر لایا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ ایک تاثر ہو سکتا ہے جس میں وزن ہے تاہم پروگرام کے اینکر نے اس کی تردید کی ہے۔ اس وقت جس قدر سیاسی تلخی بڑھتی جا رہی ہے تو اپنا غصہ اتارنے کےلئے متحارب مہمان ٹی وی شوز میں ہتھیار بھی لا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسی مملکت پاکستان میں 23 ستمبر 1958 میں اسمبلی میں ممبران کی آپس میں لڑائی کے دوران ڈپٹی سپیکر شاہد علی پٹواری زخمی ہوے اور چل بسے۔
کچھ کا خیال تھا کہ ایک مرحلے پر فیصل واوڈا نے جوتا چلا بھی دینا تھا۔ اگر فواد چوہدری ٹی وی شوز کے میزبانوں کو punchin bag بنا سکتے ہیں تو فیصل واوڈا سے اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن سیاسی پنڈتوں کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت ، علاج کے لیے بیرون ملک روانگی ، کچھ مسلم لیگیوں کی ضمانت پر رہائی، احتساب اور نیب آرڈیننس کے معاملے اور خاص طور پرآرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کا ایک پیج پر آنا ان جماعتوں کے منتخب ممبران ، وزراءاور کارکن شدید نالاں تھے۔ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ پارٹی اجلاسوں اور کابینہ میں بھی اسunholly alliance پر سوال اٹھ رہے تھے۔سوشل میڈیا میں تو اپنے لیڈران کے ایسے لتے لیے جا رہے ہیں کہ بیان سے باہر ہے خاص طور پر احتساب کے معاملے پر مبینہ مک مکا کے تاثر کو زائل کرنے کےلئے ٹی وی شو میں جوتوں سمیت آنے کی اقدامات کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تا کہ مک مکا کے اس تاثر کو زائل کیا جا سکے۔ پہلی ہی قسط میں لگ رہا ہے کہ یہ فلم باکس فس پر کامیاب ہو نہ ہو اس کے سیکوئل آتے رہیں گے۔ پڑھا لکھا طبقہ بھی مسئلے پر ایک پیج پر نہیں ہیں۔ کچھ کا یہ دعویٰ تھا پہلے جو بات پس دیوار اور اشارے کنایوں میں کی جاتی تھی ، فیصل واوڈانے پہلی بار ایک تلخ حقیقت کو سربازار آشکار کر دیا۔ کچھ کی تشریح یہ ہے کہ ایک وفاقی وزیر کی طرف سے دوسری سیای جماعتوں پر اٹھائی گئی انگلی نے پی ٹی آئی کو بھی ایکسپوز کر دیا کہ ان کے پیچھے بھی کوئی قوت ہے۔ ہمارے جمہوری نظام کی اصلیت اور ان سیاسی جماعتوں کی خاص طور پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ نواز کی سیاست یہی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ سیاسی طور پر نا بالغ پی ٹی آئی کی اس حرکت سے اس گھر کوآ گ گھر کے چراغ سے ہی لگے گی۔ ارے بھئی کوئی پہلی بار لگے گی اس گھر کے مکین عادی ہو چکے ہیں اس چتا میں جلنے کے۔
سنجیدہ حلقوں کی غیر سنجیدگی دیکھیں کہ یہ دانشور ایک ٹی وی شو میں جوتے کی آمد کو جمہوری نظام کو بھی جوتا کلب میں شامل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ارے بھئی سب کچھ سکرپٹڈ سمجھ کر رئیل ٹی وی شو کی طرح لطف اندوز ہوں۔ جس معاشرے میں مزاح کے نام پر بےہودگی پھلانے والے شو زیادہ دیکھے جا رہے ہوں وہاں پر اس قسم کے شوز کی ریٹنگ آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہے۔ گو کہ پی ٹی آئی نے فردوس عاشق اعوان کے ذریعے فیصل واوڈا کی اس حرکت سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا ہے لیکن اس بیان پر سوشل میڈیا پر وہ اپنے ہی ہمدردوں کی شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں اور فیصل واوڈا کو پذیرائی مل رہی ہے۔ لیکن ماضی کو سامنے رکھا جائے تو یہ ٹرینڈ جاری رہے گا ۔ اگلی قسطوں کا انتظار کریں جن کے بارے میں سنا ہے کہ محض جوتا دکھائی کی بجاے کچھ ایکشن بھی دیکھنے کو ملے گا۔ جوتا دکھائی کے بعد جتنی کوریج فیصل واوڈا کو مل رہی ہے یقینا پی ٹی آئی کے باقی لوگ حسد سے جل رہے ہیں اور انہوں نے بھی اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ کوئی اتفاق کرے یا نہ لیکن negative publicity زیادہ بکتی ہے۔ لگتا ہے گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔
(کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved