تازہ تر ین

رویوں میں تبدیلی کی ضرورت

جاوید کاہلوں
اگر استعمار یا بادشاہت سے منسوب آثارات کو مٹانے سے جمہوریت نے آنا ہوتا تو برطانیہ میں یقینا عوام ”چارٹر آف میگنا کارٹا“ وضع کرنے کی بجائے بکنگھم محل کی اینٹ سے اینٹ بجاتے۔ دوسری طرف روس میں آئے 1917ءکے بالشویک انقلاب کی طرف نظر کریں تو ادھر پنپتی عوام کی تحریک میں نہ صرف زارِ روس کے صدیوں پرانے محلات خس و خاشاک کی طرح بہہ نکلے، بلکہ عوامی غضب نے روسی شہنشاہ، اس کی زرینہ کو اولاد سمیت محل سے باہر نکال کر موت کے گھاٹ اتار ڈالا اور اس کے محلات کو لوٹ لیا۔ سو چشم فلک پچھلی صدی میں یہ دیکھ چکی ہے کہ شاہی محلات سلامت رہیں اوران کے مکینوں کو بھی نہ چھیڑنے کے باوجود حقیقی عوامی اختیارات کا چشمہ پھوٹ سکتا ہے اور نیک نیتی سے ان میں سے دنیا کی بہترین برطانوی طرز کی پارلیمانی جمہوریت برآمد کی جا سکتی ہے۔ جبکہ تشدد، انتہا پسندی اور قتل و غارت کے باوجود روس میں اشتراکیت تو آ سکتی ہے جمہوریت اور عوامی طرزِ حکومت اس میں سے نمودار نہیں ہو پاتے۔ صرف یہی نہیں، برطانیہ میں تو شاہی محل کے علاوہ، اس کا ہاﺅس آف لارڈز یا دارالامراءبھی قائم رہا، مگر تمام اختیارات امن و امان سے ہاﺅس آف کامنز یا دارالعوام کو خوش اسلوبی سے منتقل ہوتے چلے گئے۔ پارلیمانی جمہوری نظام کے اس روشن پہلو کی وجہ سے پاکستان و بھارت کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے ممالک میں ایسی جمہوریت کو اپنایا گیا ہے۔
پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں محلات گرانے کی اگر روائت نہیں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ پاک و ہند میں انگریز وائسرائے، اس کے مقرر کردہ صوبائی گورنرز یا پھر نیچے ڈویژن اور ضلع کی سطح پر مقیم کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کی رہائش گاہوں کو مسمار کرنا یا ان کی نوعیت کو تبدیل کرنا، ادھر کے پارلیمانی نظام کے لئے ہمیشہ صروری سمجھا گیا۔ اوائل آزادی کے چند برسوں میں تو ایسے رویے کے ہونے کی پھر بھی کچھ سمجھ آتی ہے کہ مقامی لوگوں کو حکمرانی کے پرانے اثرات سے نفسیاتی طور پر نکالنے کےلئے ایسے محلات کو گرانا مناسب تھا۔ گو کہ ایسے منفی ہتھکنڈوں سے کبھی کوئی مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع ہی عبث ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دہلی کا راج بھون تھا یا شملہ کا وائسرائے ہاﺅس۔ ان عمارتوں کی حیثیت میں تبدیلی سے شائد ہی بھارتی جمہوریت کی کوئی خدمت ہوئی تھی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ایسا کرنے سے خواہ مخواہ ایک قدیم ثقافتی ورثے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا اور اپنا ہی قومی نقصان کیا۔
اس سب بحث کا مطلب یہ کہنا تھا کہ حقیقی جمہوریت کا تعلق نہ تو کسی نئی بلڈنگ کے بنانے اور نہ ہی کسی پرانی عمارت کے گرانے سے ہوتا ہے۔ اصل جمہوریت تو حکمرانوں کے ذہنی رویے سے منسلک ہوتی ہے۔ ایسے جمہوری رویے کی بنیاد، مقامی یا بنیادی جمہوری نظاموں سے اٹھتی ہے اور انہی سے اوپر اُٹھ کر صوبائی اور مرکزی سطح تک بلند ہوتی چلی جاتی ہے۔ کوئی حکمران اپنے تئیں کتنا ہی جمہوری کیوں نہ کہلائے۔ اس کے جمہوری رویے اور وہاں رائج جمہوریت کا اصل لٹمس ٹیسٹ، اس ملک کا مقامی نظام حکومت ہی ہو گا۔ جس معاشرے کا نچلی ترین سطح کا نظام، انتظامی، مالی اور اختیاراتی سطح پر آزاد نہیں ہو گا۔ سمجھ لیں کہ وہاں حقیقی جمہوریت ناپید ہو گی۔ اپنی بات کو وطن عزیز میں چلتی جمہوریت تک محدود رکھیں تو پہلا دروازہ یہ وا ہو گا کہ ادھر جب بھی مقامی نظام جمہوریت بنا وہ فقط ملٹری حکمرانوں نے بنایا اور چلایا۔ یہاں پر جب بھی نام نہاد سول حکمران آئے انہوں نے آتے ہی پہلا وار مقامی جمہوریتوں پر کیا اور وہ جیسی تیسی بھی چل رہی تھیں، ان کو لپیٹ دیا۔ ہمارے ہاں مقامی نظام کو ختم کرنے کا رواج اتنا پکا ہو چکا ہے کہ یہ کام کرنا پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت بھی نہیں بھولی۔ اور آتے ہی پنجاب وغیرہ میں ان کو چلتا کرنا ایسا ضروری سمجھا کہ گویا ایسا کرنا شائد مذہبی حوالے سے ضروری وغیرہ تھا۔ کون نہیں جانتا کہ شہباز شریف کی تخلیق کردہ مقامی جمہوریتیں تو فقط نام کی جمہوریتیں تھیں۔ تمام تر اختیارات کا سرچشمہ تو ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا۔ چیئرمین تو بس صرف نام کے چودھری بنے بیٹھے تھے۔ سارا سارا دِن عوامی مسائل اٹھائے چھوٹے موٹے افسروں کے ترلے کرتے رہتے تھے۔ کوئی گھاس ڈال دے تو اس کا بھلا۔ نہ ڈالے تو بھی بھلا۔ مگر جمہوری رویہ اور حکمران ایسی بنیادی جمہوریتیں بھی برداشت نہ کر پائے اور آتے ہی ان کو قبل از وقت ہی رخصت کر دیا۔ حالانکہ جمہوریت تو اصلاً برداشت ہی کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ نہ جانے ہمارے جمہوری لیڈر کب یہ بات سمجھ پائیں گے؟ جمہوری ادارے ختم کر دینا کبھی بھی کوئی اچھی روایت نہیں ہو سکتی۔ خواہ ایسا کوئی سویلین کرے یا فوجی حکمران۔ بہرحال! اگر ہم ’برادشت‘ ہی پر توجہ مرکوز رکھیں تو ان الفاظ کی اشاعت تک ن لیگی مقامی حکومتیں اپنا روٹین کا وقت تقریباً گزار چکی ہوتیں۔ ہمیں یقین ہے کہ جیسے وہ اپنے پہلے آدھے وقت میں کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے۔ ایسے ہی وہ باقی کا وقت بھی یسے تیسے گزار لیتے۔ معلوم نہیں کہ انہیں گھر بھیجنے سے صوبے کو کیا فائدہ پہنچا؟ سوائے اس کے کہ پہلے سے ہی منہ زور افسر شاہی مزید بااختیار ہوکر اور زیادہ من مانی کرنے لگ پڑی۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ نئے بلدیاتی قانون کو تو جیسے تحریک انصاف کی حکومت چاہتی تھی ویسا ہی پاس کر لیتی۔ مگر اس کا آخری فقرہ یہ لکھتی کہ ”نئے بلدیاتی الیکشن حالیہ قانون کے مطابق موجودہ مقامی حکومتوں کی آئینی مدت پوری ہونے پر کروائے جائیں گے اور یہ حکومتیں اس قانون کے تحت بننے والی نئی بلدیات تک اپنی ذمے داریاں نبھاتی رہیں گی۔“ ایسا فقرہ لکھنا موجودہ حکومت کی قوت برداشت کا مظہر ہوتا، نوعیت میں جمہوری کلچر کا پر تو ہوتا، افسر شاہی کے خونخوار پنجوں سے عوام پاکستان کو کچھ محفوظ رکھتا، نچلی سطح کی جمہوریتوں کی آبیاری کا باعث بنتا اور سب سے بڑھ کر وطن عزیز میں پہلے سے موجود غیر جمہوری اداکاروں کےلئے ایک سخت پیغام ہوتا۔ مگر جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ تحریک انصاف بھی اس حد تک کچھ مختلف نظر نہ آئی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے بلدیاتی ایکٹ کے تحت فی الفور نئے انتخابات ہوں۔ اس کے بعد بننے والی لوکل گورنمنٹس آئین میں موجود انتظامی، مالی اور اختیاراتی سطح پر مکمل آزاد ہوں۔ ان کے آزاد دائرہ کار پر کسی افسر یا بڑے جمہوری ہاﺅس کو قطعاً کوئی دسترس نہ ہو۔ اور سب سے بڑھ کر صوبے اور مرکز کی سطح پر ان کو مکمل عزت ملے اور ان کی آئینی مدت سے بھی کسی کو قطعاً کھیلنے کی کبھی کوئی اجازت نہ ہو۔ اب ایسا ہو گا کہ نہیں، کسی بھی جمہوری حکمران کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ کسی بھی جینوئن جمہوری لیڈر کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ عوام پاکستان کے حقیقی کام کی جمہوریت پہ بلدیاتی سطح ہی ہوتی ہے۔ صوبوں یا مرکز کی سطح کی قانون سازی سے عام آدمی کو کم ہی سروکار ہوتا ہے۔
اب ضروری ہے کہ یہاں کے جمہوری رویے اور سوچ بھی کچھ مضبوط ہوں۔ اب یہاں پر گورنر ہاﺅسز کو گرانے یا توڑنے سے بلند ہو کر اپنی جمہوری سوچوں، کلچر اور روایتوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اصل جمہوریت حکمرانوں کے دماغوں میں ہوتی ہے نا کہ کسی بھی عمارت کے گرانے یا بنانے میں، اسی طرح سے اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم اپنے مقامی نمائندوں کو چیئرمین کہیں یا ناظم، سرپنچ کہیں یا میئر، ولیج کونسل کہیں یا یونین کونسل، اصل بات ان عوامی عہدوں کو مکمل بااختیار کر کے تمام اداروں اور افسروں کو ان کے ٹوٹل ماتحت کرنے کی ہے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved