تازہ تر ین

فقیرانہ آئے صدا کرچلے ….

میم سین بٹ
غربت اور گداگری کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ چلا آرہا ہے ، غربت کے ہاتھوں تنگ آکر ہی لوگ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔غربت، مہنگائی اور بیروزگاری سے بڑھتی ہے اور تبدیلی سرکار نے آکر یہی دوکام دلجمعی سے کئے ہیں۔ حکومت مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ روکنے کے بجائے لوگوں کےلئے کاروبار میں مشکلات پیدا کرکے پناہ گاہوں اور لنگر خانوںکی تعداد بڑھاتی جارہی ہے۔ گویا گداگری کو جدید شکل دی جا رہی ہے ۔اس حوالے سے حکمرانوں کو مخالفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے ۔پریس کلب سے دفتر آتے جاتے ہمیں ٹریفک سگنلز پر بھکاریوں کی بھرمار دکھائی دیتی ہے ،ایوان اقبال والے چوک اورچیئرنگ کراس میں جواں سالہ بچیاںگھر کا خرچہ چلانے کیلئے کاپیاں، پنسلیں بیچتی دکھائی دیتی ہیں۔ساڑھے سترہ برس قبل جب ہم فیصل آباد سے لاہور منتقل ہوئے تھے تو بڑا سستا زمانہ تھا تین روپے کا نان اور تین روپے ہی ویگن کا کرایہ ہوتا تھا اب دونوں کیلئے پندرہ روپے ادا کرنا پڑتے ہیں بلکہ ابھی ڈیڑھ دوسال پہلے تک جتنے پیسوں میں تقریباًایک لیٹر پٹرول مل جاتا تھا، اب اتنے پیسوں میں نصف لیٹر پٹرول بھی نہیں ملتا۔ اس ”تبدیلی “ نے ہمیں ماضی یاددلا دیا ہے اس زمانے میں اکا دکا فقیر ہی بھیک مانگتا ہوا دکھائی دیتا تھا ۔
ہمیں یاد ہے لاہور آکرسب سے پہلے ہم مزنگ روڈ پر محلہ مبارک پورہ میں رہائش پذیر ہوئے تھے جہاں ایک معذورفقیر بھیک مانگنے آیا کرتا تھا، وہ گلی سے گزرتے ہوئے لمبی سی صدا لگاتا تھا جو ہمیں کبھی سمجھ میں نہ آئی تھی۔ مبارک پورہ سے ہم تقریباََ ایک سال بعد چند فرلانگ دور مزنگ اڈے کے ہاسٹل میں منتقل ہوئے تو وہی فقیر نیچے گلی میں سے صدالگاتے گزرتا رہا۔ مزنگ اڈے سے ہم ٹیمپل روڈ پر چاندنی سٹریٹ کے پورشن میں منتقل ہوئے تو وہی فقیر وہاں بھی آکر اپنی مخصوص صدا لگاتا رہا ۔غالباََ وہ پوری یونین کونسل اس فقیر کی کاروباری حدود میں شامل تھی،ٹیمپل روڈ سے ہم چند برس بعد رائل پارک کے ہاسٹل منتقل ہوئے تو اس فقیر کی مانوس صدا سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئے تاہم اس کی جگہ تین اندھے فقیروں نے لے لی تھی جو بیڈن روڈ پر ہمارے کمرے کی کھڑکی کے نیچے روزانہ دوپہر کو کھڑے ہو کر باجماعت’ اللہ ہو‘ کا ورد کیا کرتے تھے ،مزید چند برس بعد رائل پارک سے ایمپریس روڈ پر آنے کے بعد اب کسی فقیر کی صدا چھٹے فلورپر ہمارے فلیٹ تک نہیں پہنچتی ۔
معاشرے میںعموماََ اپاہج بوڑھے بھیک مانگتے ہیں یا گداگری کیلئے انہیں استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ لوگ رحم کھا کر معذوربھکاریوںکو بخشیش دیدیتے ہیںاس کے علاوہ بچوں اور جواں سالہ لڑکیوں اور عورتوں سے بھی بھیک منگوائی جاتی ہے جس میں باقاعدہ مافیا کے لوگ ملوث ہوتے ہیں ۔ بھکاری ٹولے خودمختار حیثیت میں بھی گداگری کرتے ہیں۔ ماضی میں فقیربھی بڑے شریف ہواکرتے تھے جو خیرات کیلئے یہ صدا لگاتے ہو ئے گلی میں سے گزر جاتے تھے کہ ’جو دیدے اس کا بھی بھلا اور جو نہ دے اس کا بھی بھلا‘ مگر اب تو بھکاری بھی راہزن بن چکے ہیں اور لوگوں کے ہاتھوں سے نقدی چھین لیتے ہیں ۔ جیب کترے نما یہ ہٹے کٹے گداگر بخشیش کو اپنا حق سمجھ کر وصول کرتے ہیں حالانکہ اب متوسط طبقے کی اپنی مالی حالت بھکاریوں سے بھی بدترہو چکی ہے ہم خوداب فقیروں کو بھیک دینے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے دس بار سوچتے ہیں ۔
لاہور میں سڑکوں،چوکوں ، چوراہوں بالخصوص ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اور ٹریفک پولیس کے اشتراک سے گاہے گاہے کریک ڈاﺅن کرتی رہتی ہے تاہم ریلوے ٹرینوں میں بھکاریوں کے خلاف نجانے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ شاید ریلوے والوں نے گداگروں کو ٹرینوں میں بھیک مانگنے کا ٹھیکہ دے رکھا ہے تفنن برطرف انسداد گداگر ی کے حوالے سے ہم اخبارات و جرائد میں کالم اور مضامین تو دیکھتے رہتے ہیں گزشتہ دنوں محقق نصراللہ خاں چوہان کی اس موضوع پر ”گداگری اور پاکستانی معاشرہ“ کے عنوان سے مکمل کتاب دیکھ کر ہمیںحیرت ہوئی شاید یہ ا ن کا ایم فل کا تحقیقی مقالہ تھا جسے بک ہوم کے رانا عبدالرحمان نے کتابی صورت میں چھاپا ہے جس کا انتساب نصراللہ چوہان نے والدین کے نام کیا ہے حالانکہ حکمرانوں کے نام کرنا چاہیے تھا۔کتاب کے فلیپ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا اور زاہد مسعود نے لکھے ہیںجبکہ مقدمہ نصراللہ خان چوہان نے خود تحریر کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ لوگوں کو اگر وسائل مہیا کئے جائیں اور وہ باعزت روزی کما سکیں تو گداگری کی لعنت پر قابو سکتے ہیں۔ کتاب کے ابواب میں نصراللہ چوہان گداگری کا تعارف کروانے کے بعد پاکستان میں اس کی نوعیت ،اسباب،اخلاقی و معاشی اثرات،مذہبی و معاشرتی اثرات ،حل ،انسدادی قوانین ،حکومتی اقدامات اور رکاوٹوں پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کے بعد آخر میں گداگری کے خاتمے بارے اپنے قصبے رتی ٹبی (رام گڑھ) شیخوپورہ کی زندہ مثال تحریر کرتے ہیںجہاں پانچ برس پہلے تک گداگری اس قدر بڑھ گئی تھی کہ گداگر شادی والے گھر سے پہلے ہزار روپے جبری طور پر وصول کرتے رہے پھر انہوں نے ایک مویشی بھیک میں دینے کا مطالبہ شروع کردیا تھا جس پر مارچ 2015ءمیں قصبے کے نوجوانوں نے تحریک انسداد گداگری شروع کردی جس کے نتیجے میں اہل قصبہ کو گداگروں کے بھتے سے نجات مل گئی ۔اب قصبے کے لوگ اپنے صدقات،زکوٰة و عشر اور خیرات کی رقوم غریب اور مستحق افراد کو تلاش کرکے ان پر خرچ کرتے ہیں۔
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved