تازہ تر ین

حسینہ واجد اور مودی کی پالیسیوں میں مماثلت

فیض شاہ پوری

5جنوری 2020ءکی رات جب نئی دہلی کے لوگ سونے لگے تو اس سے پہلے وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا و طالبات پر نقاب پوش مسلح غنڈوں کے حملے کی خبر سن چکے تھے، اس خوفناک کہانی کے تانے باے دسمبر 2019ءکے ابتدائی دنوں کے حالات سے جاملتے ہیں جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ منظور کیا۔ یہ ایکٹ افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں جبروستم کی شکار اقلیتوں کو بھارتی شہریت دینے کے عمل میں تیزی لانے کیلئے ہے، مودی حکومت کا یہ اقدام ملک گیر احتجاج کا باعث بن گیا، اسکا آغاز طلبہ نے کیا اور بعدازاں دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس احتجاج میں شامل ہوگئے، یہ سب محسوس کرتے ہیں کہ یہ ایکٹ بھارت کے سیکولر نظام کیلئے زہر قاتل ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پرتشدد واقعات دیکھنے کو آئے جہاں پولیس نے نہ صرف طلبہ پر تشدد کیا بلکہ عارضی طور پر انہیں حراست میں بھی لے لیا، اسی اثناءمیں 5جنوری کا دن آجاتا ہے جب ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے مسلح غنڈوں اور بدمعاشوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں داخل ہوکر وہاں کے طلبا و طالبات کا محاصرہ کرلیا، اس دوران پولیس یونیورسٹی کے باہر خاموش تماشائی کی طرح کھڑی رہی، ان غنڈوں کا تعلق مبینہ طور پر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشردنامی طلبہ تنظیم سے بتایاجاتا ہے، جو راشٹریہ سوریم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا سٹوڈنٹ ونگ ہے۔
برصغیر کے حالات و واقعات سے آگاہ ہرشخص دیکھ سکتا ہے کہ جو کچھ نئی دہلی میں ہوا اس میں اور جو کچھ 2018ءمیں ڈھاکہ میں سڑکوں اور شاہراہوں پر تحفظ فراہم کرنے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران ہوا، ان میں کتنی مماثلت پائی جاتی ہے۔ سڑک پر ہونیوالے ایک حادثہ کے نتیجہ میں دو طالبعلموں کی ہلاکت کی وجہ سے شروع ہونےوالے اس احتجاج کے باعث پورا ڈھاکہ بند ہوکر رہ گیاتھا، احتجاجی طلبہ انسانی زندگی کیلئے محفوظ سڑکوں کا مطالبہ کررہے تھے، احتجاج کے پانچویں روز شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور اس نے احتجاجی طلبہ پر نہ صرف پولیس کے ذریعے دھاوا بول دیا بلکہ اپنی طلبہ تنظیم ”بنگلہ دیش چھاترا لیگ“ کے غنڈوں پر مشتمل مسلح جتھوں کے ذریعے بھی انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیں کہ جو کچھ ڈھاکہ کی سڑکوں پر ہوا، بنگلہ دیش حکومت اس سے مکمل انکار کرتی رہی اور بنگلہ دیش چھاترا لیگ کی زیادتیوں کیخلاف کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی کارروائی کرنے میں ناکام رہی، قدرتی بات ہے کہ اس صورتحال سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یا تو حکومت نااہل ہے یا پھر یہ سب کچھ اسکی ملی بھگت سے ہوا ۔ ڈھاکہ کے عوام نے جن حالات و واقعات کا 2018ءمیں مشاہدہ کیا تھا وہی کچھ 2020ءمیں نئی دہلی کے عوام دیکھ رہے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ بنگلہ دیش میں بظاہر ایک ایسی حکومت ہے جو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جبکہ بھارت پر ایک ایسا ٹولہ حکمران ہے جو ہندو توا کے نسل پرست نظریے کا اعلانیہ علمبردار ہے۔ بنگلہ دیش کی طرح بھارت میں بھی حکومت نے ان شہریوں پر اپنے کرائے کے غنڈے چھوڑ دیئے جو اسے ووٹ دیکر اقتدار میں لائے تھے۔ ایک طویل عرصہ تک ہم یہ سمجھتے رہے کہ بنگلہ دیشی حکومت بھارت سے سبق لیتی ہے تاہم حالیہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ معاملہ اسکے برعکس ہے۔
پرامن احتجاج کی اجازت نہ دینا ہی ایک ایسا امر نہیں ہے جو بھارتی اور بنگلہ دیشی حکومتوں کو ایک صف میں کھڑا کرتا ہے، دونوں حکومتوں نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ریاستی مشینری میں بگاڑ پیدا کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں رہنے والا کوئی بھی شخص اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ بظاہر آزاد تصور کیے جانیوالے ریاستی ادارے کس قدر سیاست زدہ ہوچکے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ بھارت میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے، بنگلہ دیش کی طرح بھارت میں بھی برسراقتدار پارٹی کی طرف جھکاو¿ رکھنے والا متعصب الیکشن کمیشن ہے، اسی طرح بھارت کی سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا پر ایک ایسے آرمی چیف کےخلاف سیاسی تعصب برتنے کا سرعام الزام عائد کردیا جس نے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے احتجاجی طلبہ کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا، بنگلہ دیش میں بھی چیف جسٹس کو حکومت سے اختلافات کی بناءپر مستعفی ہونے پر مجبور کردیاگیا تھا، ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نریندرمودی نے شیخ حسینہ واجد سے کئی اوصاف اخذ کرلئے ہیں۔ ایک اور پہلو جہاں لگتا ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کے نقش قدم پر چل رہاہے، حکومت سے اختلاف کرنیوالوں کی زبان بندی ہے۔ بنگلہ دیش میں حکومت تنقید کرنیوالے ہر شخص پر فی الفور ’رضاکار‘ یا ’جماعتی‘ کالیبل چسپاں کردیا جاتا ہے ، بھارت بھی اسی راہ پر چلتا دکھائی دے رہاہے۔ جب سے 2014ءمیں بھارتیہ جنتا پارٹی برسراقتدار آئی ہے تب سے حکومت کے نقادوں کو خاموش کرانے کے طے شدہ منصوبے کو بروئے کار لایا جارہاہے۔
سچی بات تویہ ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت ،ہر دو نے ایک کافی پرانی اسرائیلی حکمتِ عملی کو اپنالیاہے، یعنی اسرائیل پر جائز تنقید کو بھی یہودیوں پر تنقید محمول کرلیا جائے اور ایسا کرنیوالوں پرریاست مخالف ہونے کا لیبل چسپاں کردیا جائے، اس طریقے سے مزید تنقید کے آگے بند باندھ دیا جاتا ہے ۔ عوامی لیگ اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں نے حکومت اور ریاست کے درمیا ن فرق رکھنے کے عمل کو بڑی مہارت اور موثر انداز میں دھندلا دیا ہے۔ سیاسی مخالفین کو نشان عبرت بنانے کے ضمن میں بھی بنگلہ دیش اور بھارت کا طرز عمل ایک جیسا ہے، جس طرح عوامی لیگ نے ملک کے نظام قانون و انصاف کو سیاسی مخالفین مثلاً سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاءاور جماعت اسلامی کو ہراساں کرنے کیلئے بڑے منظم انداز میں استعمال کیا ہے، اسی طرح مودی سرکار نے بھی ان سے اختلاف کرنیوالوں کو ہراساں کرنے کیلئے ریاستی مشینری کو بڑے موثر طریقے سے استعمال کیا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کے متعارف کردہ حکومتی ماڈل کی سوفیصد پیروی کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی بھی خود کو ایک لانڈری مشین کے طور پر آگے لے آئی ہے جس میں داخل ہونےوالے تمام لوگ پاک صاف ہوجاتے ہیں چاہے انکا ماضی کیسا ہی داغدار کیوں نہ ہو، انہیں اپنی پارٹی کا حصہ بناکر کلین چٹ دیدی جاتی ہے۔ ایک حالیہ مثال ہمارے سامنے ہے جب مہاراشٹرا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے درمیان اتحاد ہوا جو زیادہ عرصہ قائم بھی نہ رہ سکا ، این سی پی کا ایک رہنما اجیت پوار بھارتیہ جنتا کے اتحاد کا حصہ بنا، تو چند ہی گھنٹوں بعد خبر آگئی کہ اس کےخلاف دائر بدعنوانی کے متعدد مقدمے حکومت نے واپس لے لیے ہیں۔ ایک اور پہلو جس میں لگتا ہے کہ نریندر مودی شیخ حسینہ واجد کو بھی پیچھے چھوڑ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ اپنی کابینہ کے ارکان کا اپنی مرضی سے چناو¿ ہے، یہ ارکان نہ صرف نااہل ہیں بلکہ انہوں نے احمقانہ بیانات دینے میں بھی خاصا نام کمایاہے۔ یونین ریلوے و کامرس منسٹر پائیو یش گوئیل اور وزیر مملکت برائے تعلیم ستیاپال سنگھ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
بنگلہ دیش نے بھارت سے اپنے خوشگوار تعلقات خصوصاً نریندرمودی کے برسراقتدار آنے کے بعد‘ کے بارے شیخی بگھارنے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا، معروضی لحاظ سے یہ درست ہے کہ ان تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے اور بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش کو 8ارب ڈالر کے قرضے کی واپسی کی مدت میں توسیع دیدی گئی ہے، علاوہ ازیں دونوں ممالک کی سرحدوں پر واقع چھوٹے چھوٹے علاقوں کا باہمی تبادلہ بھی عمل میں آچکا ہے، تاہم اب بھی کچھ ایسے معاملات ہیں جو برسہابرس پر محیط مذاکرات کے باوجود ابھی تک حل طلب ہیں، جن میں دریائے تیستا کے پانی کی حصہ داری کا معاہدہ، بھارت کی بارڈ سکیورٹی فورس کی طرف بنگلہ دیشی باشندوں کی ہلاکت اور حال ہی میں بنگالی دراندازوں کا بنگلہ دیشی علاقے میں داخلہ جیسے معاملات شامل ہیں، اسکے باوجود مجھے یقین کامل ہے کہ جس طرح شیخ حسینہ واجد نے مودی کو مطلق انصاف حکمران بننے کی راہ دکھائی ہے تو مودی بھی اسکے صلے میں ان حل طلب مسائل پر بھرپور توجہ دے گا۔ آخر دوست ہوتے کس لئے ہیں؟ (ترجمہ : نعیم احمد)
(کالم نگار بیرون ملک مقیم اور مختلف امور پر لکھتے ہیں )
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved